Look Inside

Badbaan بادبان

چکوال کے قلندرمحمدخان نے اُس زندگی کو لکھا ہے جو اُس کے سامنے کی ہے۔ وقار شاہ کا چھوٹا بیٹا اورگدی نشین اصغر شاہ باوا، ملیار خاندان سے متعلق وہ منشی جس میں شاہ جی کی جان تھی، گاؤں کا نائی جو باوا جی کی حجامت بناتا تھا، ناظر، تحصیلدار، ڈی سی اور ان جیسے کئی اور کردار جو دیہی زندگی کاجزو ہوتے ہیں یا دخیل، قلندر محمدخان نے انہیں اپنے سادہ لفظوں میں ایک کہانی کی صورت لکھ دیا ہے۔

آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے رہی ہوگی جولکھاری بننے کی خواہش زندگی کی دیگر ترجیحات کے سبب ریٹائرمنٹ تک دبائے رکھتے ہیں اور پھر یوں قلم دوڑاتے ہیں جیسے اڑیل اور منھ زور گھوڑے کو ایڑ لگ چکی ہو۔ چکوال کے دو محمد خان مشہور ہیں۔ اِن میں ایک اور کا اضافہ ہوجانے کی تاہنگ میں قلندرمحمدخان نے اِس تصنیفی حیلے کا اہتمام کیا ہے اوراُس زندگی کو لکھا ہے جو اُس کے سامنے کی ہے۔ وقار شاہ کا چھوٹا بیٹا اورگدی نشین اصغر شاہ باوا، ملیار خاندان سے متعلق وہ منشی جس میں شاہ جی کی جان تھی، گاؤں کا نائی جو باوا جی کی حجامت بناتا تھا، ناظر، تحصیلدار، ڈی سی اور ان جیسے کئی اور کردار جو دیہی زندگی کاجزو ہوتے ہیں یا دخیل، قلندر محمدخان نے انہیں اپنے سادہ لفظوں میں ایک کہانی کی صورت لکھ دیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ زندگی کو اس نہج سے دیکھنا اور اس ماحول کا حصہ ہوجانا پڑھنے والے بھی پسند کریں گے جو ہمارے اس نئے محمد خان کو محبوب ہو گیا ہے۔
محمد حمید شاہد


چوہدری محمد خان قلندر اور اُن کے اسلوب بارے میں لکھنا اتنا آسان نہیں وہ ہشت پہلو اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور مجھے بالکل بھی حیرت نہیں کہ وہ ٹیکس اور حساب کتاب سے متعلق معروف ماہر مشیر ہیں ۔ اُن سے جب پہلی بار باقاعد تعارف کا مرحلہ سر ہوا تو وہ مجھ پر اپنی خوبیوں سمیت کھُلتے چلے گئے ‘ فیس بُک پر جب اُن کے شذرے پڑھنے کا موقع ملا تو ان کے مزاج میں پنہاں برجستگی اور جرات اظہار کا بے ساختہ پن اپنائیت کا روپ دھار لیتا تھا ۔ وہ مجھےاس شذرات کی بنا پر بہت اپنے لگنے لگے اور یوں یہ اپنائیت علم و ادب کی بنا پر قربت میں بدلنے لگی – ادب اور اسکی جستجو کی اپنی زبان اور رموز ہوا کرتے ہیں اور مجھے خوش ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کے اس اختصاص کو ‘ بادبان ‘ کی اشاعت کی صورت دراصل اپنے علم و فضل کی پہلی فصل کا راز آشکار کر دیا ہے۔

قلندر نےاپنے قارئین کو “بادبان“ کی صورت میں بہت کچھ دینے کے کوشش کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ قلندر نے بعض تیز رو مگر ثقہ لکھنے والوں کا ہم عصر بننے کے لئیے دیہاتی پس منظر پر مضبوط بندھ باندھا اور ایسا جاندار انداز تحریر سامنے لائے جسے نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہماری نسل کو سنجیدگی سے پڑھنے کی ضرورت ہے جو اپنے روائتی کلچر اور ثقافت سے نابلد ہےکہ آج اس کلچر کے دریچے وا کرنے کی ضرورت سہہ چند ہو گئی ہے ۔
“باعث تحریر “ سے ہی نکھرتی ہوئی ‘ تہذیب و تمدن “ ثقافت اور تمیز و تمازت کے باب اسطرح وا کرتا ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ہی نشست میں “بادبان“ کو ختم کرنے پر مجبور کر دے گا -بادبان – روائتی اور دیہاتی مگر نیم جاگیردارانہ پس منظر میں اپر مڈل کلاس اور اسکے اردگرد پھیلے ہوئے ماحول اور کرداروں کے لائف سٹائل میں خفی دلبری و دلداری کی ایک شائستہ زبان پر مشتمل کہانی ہے جو قلندری کو طریق رہا ہے اور چوہدری محمد خان نے اپنی قلندری کا اظہار اس دلچسپ اور کھرے پیرائے میں کیا کہ ان کی ذات کا بھی ہر ابہام ختم ہو گیا ۔
مجھے یقین ہے کہ برادرم شاہد اعوان صاحب کے ادارے کے زیر اہتمام “ بادبان “ جہاں قلندر کے کریڈٹ پر ایک اہم کتاب ثابت ہو گی وہاں ہم پر بھی اسکا مدتوں گہرا رنگ طاری رہیگا کہ نثر کے تمام اوصاف اس کتاب میں پڑھنے کو ملیں گے۔
ممتاز شیخ، مدیر “لوح”

1 review for Badbaan بادبان

  1. Shahzaib

    چکوال کی زرخیز زمین سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد خان کی یہ کہانی دھرتی سے جڑے زندہ کرداروں کی داستان ہے۔ اپنے فطری، سادہ اور دلکش اسلوب میں یہ کہانی لکھ کر مصنف نے بہت سے روایتی کرداروں، روایات اور منظروں کو تصویر کرکے محفوظ کردیا ہے۔ یہ کام کسی تاریخ نگار سے کم نہیں۔
    فتح محمد ملک

Add a review

Your email address will not be published. Required fields are marked *