اپنی افتادِ طبع، تعلیم اور حالات کے باعث میں ایک عرصے سے مروجہ Success Literature کے متعلق مشکوک چلا آرہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کے متعلق میرے شکوک اور الجھنوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ انہی الجھنوں اور شکوک کے باعث میں نے پہلے پہل اس لٹریچر کے بارے میں نجی گفتگو میں غیر سنجیدہ انداز میں استہزائیہ تبصرے کرنے شروع کیے جن سے عموماً لوگوں چڑتے تھے۔ محض لوگوں کی چڑ سے لطف اندوز ہونے کیلئے میں نے سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی تبصرے شروع کر دیے تو مجھے احساس ہوا کہ اس لٹریچر کے مختلف پہلووں پر سنجیدہ اور مربوط تنقید بھی کی جاسکتی ہے ی،وں یہ کتاب وجود میں آئی۔ یہ کاوش کتنی وقیع ہے اسکا فیصلہ تو قارئین اور اہل علم کریں گے لیکن میرے علم کی حد تک یہ اردو زبان میں مروجہ Success Literature پر مربوط اور باقاعدہ تنقید کی پہلی کوشش ہے جو بہت سے اصحاب کیلئے باعثِ دلچسپی ہوگی۔
سرمایہ داری نظام میں کامیابی اور ناکامی کے تصورات کو جس طرح انسان کے اخلاقی آدرشوں سے لاتعلق کیا گیا ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا کو اصطبل بنایا جارہا ہے جہاں گھوڑوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ تم انسان کی ارتقاء یافتہ شکل ہو۔ کامیابی کے گُر بتانے والے کرتب بازوں کی پوری کھیپ ، انسانیت سے رضاکارانہ دستبرداری کو ایک مقدس مشن بنا کر ہمیں ریس کا گھوڑا بننے پر آمادہ کرنے نکلے ہیں۔
احمد جاوید
Kamyabi ka Mughalta




Reviews
There are no reviews yet.