Iqbali Bayan اقبالی بیان
اقبالی بیان
انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا اور سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا واحد حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ آئینہ بنایا ہے کہ مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی اسلوب خوب پھبتا ہے۔
اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان
کتاب کی فہرست
کہانی کار کی کتھا
احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now