Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار
Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار
ڈاکٹر غیور ایوب سرجری کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ ان کاتعلق پاراچنار سے ہے، جو افغانستان کی سرحد پر تورا بورا کے اس پار واقع ہے۔ ان کا بچپن ایک ایسے گاؤں میں گزرا جو تیرہ ہزار فٹ بلند برف پوش کوہِ سفید کے دامن میں واقع ہے۔ فطرت سے ان کی طبعی محبت اسی ماحول کا نتیجہ ہے۔ 1979 میں اعلیٰ جراحی کی تربیت مکمل کرکے، وہ برطانیہ کو خیر باد کہہ کر اپنی برطانوی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاراچنار واپس لوٹے۔ اس وقت افغان جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ انہوں نے افغانستان سےمسلسل آنے والے لاتعداد زخمیوں کا علاج شروع کیا۔
یہ کتاب ان کے انہی مشاہدات اورتجربات کا امتزاج اور عکس ہے، جو انہیں 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور 2001 میں 9/11 کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کرتے ہوئے حاصل ہوئے۔
یہ ناول حقائق اور افسانوی واقعات کاحسین امتزاج ہے، جس میں ڈاکٹر غیور نے رومانوی، تاریخی، دینی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کو پرونے کی کوشش کی ہے۔ آج کل وہ برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔
Adha Saans آدھا سانس (ناول)
Adha Saans آدھا سانس (ناول)
اوائل عمری کا وہ وقت مجھے کبھی نہیں بھولتاجب میرے اردگرد کی خواتین اور لڑکیاں سلمیٰ کنول، رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمٰن کے نئے آنے والے ناول کا انتظار کیا کرتی تھیں۔ پھر میرے لکھنے کے وقت میںنے یہ خاصہ عمیرہ احمدمیں دیکھا۔ یقینا ً کئی اور معتبر لکھنے والیاں بھی ہوں گی لیکن میرا حاشیہ اِن چاروں کے گرد کھِچا رہا۔ عمیرہ احمد ناول نگاری کے بعد ڈرامہ نگاری کی طرف آئیں تو یہاں بھی اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔
یہ تو میرے تجرباتی سفر کے مشاہدات تھے لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک نئی لکھنے والی کے ناول کو پڑھنے کا موقع مِلا۔ تحریر میں شگفتگی ،شستگی واردات اور جنون کو دیکھ کر لگاکہ کوئی دل والی ہے۔ خود چوٹ کھائی ہے یا چوٹ مارنے والی ہے۔ وہ ہے آمنہ شبیب اس نے ’’آدھا سانس‘‘ لکھا ہے۔ اس کا ناول پڑھ کہ پتہ چلا محبتوں کو گنوا کر بیٹھے ہوئے جنونی لوگ پورا سانس کہاں لیتے ہیں۔ تحریر میں پختگی ہے لیکن وقت عمر تجربہ قلم کو نیا روپ دینے کی اساس مانی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ تحریر اور لہجے کی سلوٹیں اُترنے لگتی ہیں۔
اور ایک دن اللہ کی مہربانی سے حرفِ قلم یکتائی کی معراج تک جا پہنچتا ہے۔ تحریر میں نیا پن یہ بھی دیکھا کہ آمنہ شبیب باہمی گفتگو کو مکالمے کی طرز پر لکھتی ہے جیسے ہم ڈرامہ نگار لکھتے ہیں۔ کردار کا نام اور پھر اس کے سامنے مکالمہ۔ یہ شاید اس بات کی نوید ہے کہ آج کی یہ ناول نگار کل کی ایک مایہ ناز ڈرامہ نگار بنے گی۔
دُعا ہے ناول نگاری میں ایک دن اسے سلمیٰ کنول ، رضیہ بٹ اور بشریٰٰ رحمٰن کے احاطے میں دیکھوں اور ڈرامہ نگاری میں اسے بھی عمیرہ احمد جیساامتیاز نصیب ہو۔
آخر میں آمنہ شبیب سے کہوں گا یادرکھنا لکھنے والا سب سے بڑا بھکاری اور چور ہوتا ہے۔ لیکن اس بات میں اعزاز یہ ہے کہ وہ مانگتا اپنے پروردگار سے ہے اور چوری لوگوں کے دُکھ اُن کی تڑپ اور اُن کے جذبات کی کرتا ہے۔
خلیل الرحمان قمر
سچ کہوں تو ناول پڑھتے ہوئے مجھے یہ احساس بار بار ہوا کہ آدھا سانس لینے والوں کا حال وہی ہوتا ہے۔ جو جل بن مچھلی کا ہوتا ہے ، وہی تڑپ وہی بے قراری، وہی حالتِ نزع وہی۔محترمہ آمنہ شبیب کا آدھا سانس اس حبس زدہ ادبی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔
روتباک برک
Buy Now