Biography

Author Picture

Irfan Shahood

ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد ایک بین الاقوامی کمپنی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اْن کو 2021 ء میں پاکستان بُک آف ریکارڈز کی جانب سے سفرانچوں کی پہلی کتاب ’’ باونی‘‘ پر نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اردو ادب میں ’’سفرانچہ‘‘ عرفان شہود کی اختراع ہے جو’’باونی‘‘ کی شکل منصہ شہود پر آئے۔ان کے سفرانچوں پر مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں۔ان کے تتبع میں بہت سے سفرنامہ نگار بھی سفرانچے لکھ رہے ہیں۔اْن کو نظموں کے پہلے مجموعے ’’بے سمتی کے دن‘‘پر بھی 2022 ء میں دسویں یو بی ایل لٹریری ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کی نظموں کو پی ایچ ڈی مقالہ نگاروں نے اپنے تھیسز کا حصہ بنایا۔اُن کا کلام مختلف ویب سائٹس کے علاوہ سویرا، تسطیر، پطرس، راوی، سنگت، سخن دان، ہلال پاکستان، ندائے گل اور انہماک جیسے جرائد میں چھپتا رہتا ہے۔وہ ایک عمدہ گیت نگار بھی ہیں۔حال ہی میںاُن کے بہت سے گیت ہندوستان اور پاکستان کے مختلف چینلز سے ریلیز ہوئے ہیں۔’’پنجیری ‘‘ کے نام سے سفرانچوں کی یہ کتاب بھی’’ باونی‘‘ کی طرح اسفار پر مشتمل ہے۔