Panjeeri پنجیری (سفرانچے)
اس خوبصورت سیارے پر مجھے طلوع ہوئے اکتالیس برس بیت چکے ہیں۔ میں ہر پل فطرت سے ہم آغوش ہونے کا جذبہ سینے میں سموے نیند اور بیداری کی حالت میںمحوِ سفر رہا ہوں۔ پاکستان کے حسین نظاروں سے اپنی آنکھوں کو منور کرنا میری خوش بختی ہے۔ میں نے دلآویز جگہوں پر بسنے والے لوگوں کو تسخیر کرنے کی بجائے اُن کے دلوں کو تسخیر کیا اوراُن کی زندگی کو اپنے سفرانچوں میں ڈھالا۔ اُن کی ٹمٹماتی خواہشوں کو بجھنے سے بچانے کی کوشش کی۔ لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی وجہ سے کُھرد رے پن کا وہ عالم ہے کہ سر تلے تکیہ بھی پتھر ہوجاتا ہے۔ خون شریانوں کو پھاہا دیتا ہے اور آنکھ سرخ کرتا ہے۔ زندگی ہمیں طے شدہ وقت سے پہلے ریٹائرڈ کرنا چاہتی ہے وہ اتنی’’ جھریٹیں‘‘ مار چکی ہے کہ جیون کا پورا تختہ سیاہ ہوچکا ہے۔ اگرچہ چالاک سماج نے اپنی معکوس چالوں میں اُلجھایا، کج ادائوں نے پھیکی مسکان سے کمتری کا احساس دلایا، لیکن کبھی پلٹ کر وار نہیں کیا، کبھی شکستِ ذات کو ردِعمل کی زناٹے دار ہوا کے سپرد نہیں کیا۔ بس منہ دھیانے چلتا رہا، ہر منظر کی توصیف و ثنا کرتا رہا، ہر ایک چیز میں جمالیات ڈھونڈتا رہا۔ بچپن میں کیلکولیٹر خریدنے کی بجائے کہانیوں کے رسالے خریدتا تھا اور آج تک نفع و نقصان کی تفہیم سے نابلد ہوں۔
پٹ سن کے تھیلوں میں فروٹ ڈھونے والی کمر کا خم میرے بدن کو بھی خمیدہ کردیتا ہے۔ میں دوسروں کی زندگی کی بدرنگی کو بھی اپنے منہ پر مَل لیتا ہوں۔ دوسروں کی کڑواہٹ بھی میرے گلے میں خراش پیدا کر دیتی ہے۔ مُرادوں کی محرومی ہر اشتہا کو بڑھادیتی ہے مجھے محرومیوں نے ہی آگے بڑھنے کی گُڑتی دی ہے۔ میری تخلیقی سرشت میں ٹھہراؤ نہیں ہے۔ ہر روز خود کے لیے کلمہء عشق دریافت کرنا بھی ’’ کُن‘‘جیسا ہے۔ یہ خودکار نظام میرے وجود کو توانائی بخشتا ہے۔ پیدل سست روی سے چلنے کی لذت سے آگاہ ہوں۔ دنیا گھومنے کی تمنا کرنے والوں کی طرح میں بھی اپنا دیس پنجاب ( چڑھدا، لہندا) پیدل گھومنا چاہتا ہوں۔ فسق و فجور کے مباحث سے پرے ہر انسان میرے لیے قابلِ قدر ہے۔ مجھے کسی بھی انسان سے اس کے مذہب، ذات اور سوشل سٹیٹس کا سوال پوچھتے شرم آتی ہے۔ خود انحصاری کا وہ عالم ہے کہ اپنا باپ بھی خود ہوں اور اپنی ماں بھی۔
رب نے بہشت سے مجھے نیلی بار کے مہک دار درختوں اور لچکیلی شاخوں والے دیس میں اتارا۔ آج بھی جیون کی گھڑی کو چابی دے کر وقت کو صفر سے شروع کرتے ہوئے انہی راستوں سے ہوتا ہوا گھر جاتا ہوں جن پر میرے آباء کے مقدس پائوں پڑے تھے۔ چشمِ تصور میں میٹھے شہد خربوزوں کی ٹرالیاں شہر کی جانب جاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ چراگاہوں کے کناروں پر ازخود اُگنے والے آک اور اُن کی وَکھی میں سونف چڑیوں کی کُھڈیں ڈھونڈتا ہوں۔ ڈبیوں والے کھیس کی بکل مار کر پگڈنڈیوں پر چلنے والے بزرگ چہرے تلاش کرتا ہوں۔ کھال پر کپڑے دھونے والیوں کی مسکراہٹیں تاڑتا ہوںمگر دل کے دکھ ایسے ہیں کہ اندر ہی اندر ہمہماتے ہیں سطحِ وجودپر نہیں آتے۔ دکھ کوئی لاٹری کا نمبر تو نہیں ہے کہ اچانک لگ جانے سے بوجھ اُتر جائے، انسان نہال ہوجائے۔ آخر اپنے دکھ کس سے کہیں کہ کم ظرف زمانہ انہیں غرض اور طنز کے میزان پر تولتا ہے۔ ماں ہوتی تو گلے لگ کر رو بھی لیتا، باپ ہوتا تو کسی بوہڑ تلے حقہ تازہ کرتے ہوئے حالِ دل کہا جاسکتا تھا۔ اب صرف جیون کے سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اُن راستوں سے خاموشی سے گزرتے ہیں۔
یوں تو عشق کے مصنوعی سیاروں کے گرد پانچ مرتبہ گھوما ہوں مگر پنجاب کے مدار سے باہر نہیں نکل سکا۔ میں اب کھلے میدانوں اور بلند پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہونا چاہتا ہوں،اسی لیے خواہشوں کے دھاگوں کو پنج پیر کی درگاہ میں باندھ آتا ہوں۔ امرتسر کے گائوں ’’ترن تارن‘‘ کے باہری ٹھیکہ سے جام نوش کرنا چاہتا ہوں اور اپنے دوست ہرمن جیت سنگھ سے بابا بلھے شاہ کا کلام سننے کی خواہش ہے۔ کہف کے غار میں سونے والوں کو پنجاب کی دھرتی کا ساگ اور مکئی کی روٹی پیش کرنا،نجف اور مدینہ کی طرف سفر کرنے کی تمنا ہے۔ سن انیس سو سنتالیس میں ہزاروں خاندان اجنبی راہوں میں شہید ہوگئے تھے۔ میرے لیے اجنبی راہوں کی موت سے بڑھ کر کوئی دکھ نہیں ہے۔ شبِ قدر کو رب سائیں سے نسیان اور اجنبی شہر میں مرنے سے بچنے کی دعا کرتا ہوں۔ سیرِ دنیا میں ہزاروں انسانوں سے واسطہ پڑا۔ ان میں زیادہ تر بے بس اور لاچار تھے۔ لوگوں کے دکھ کا احساس اپنی ذات کے دکھ سے زیادہ تیزی سے آگ پکڑتا ہے۔ شاید تخلیق کاروں کی سرشت میں دوسروں کے لیے زیادہ حساس ہونا اہم ہوتا ہے۔ کوئی حادثہ دیکھ کر تماشائی نہیں بنتا، بدن میں سنسنی پھیل جاتی ہے۔ طبیعت کی نرمی کے باعث زندگی نے خوب پامال کیا ہے۔ لوئر مِڈل کلاسیوں کی ترقی اور ناکامی خالصتاً خود پروردہ ہوتی ہے،اسی لیے ہم بانس پر چڑھتے اور اُترتے وقت ایک جیسا مزاج رکھتے ہیں۔ پامالیوں کا بے رحم ہجوم کچلتا جارہا ہے۔ اپنا بوجھ اٹھائے ازخود آگے بڑھنا ہم جیسے لوگوں کی کرامت ہے ورنہ وہ دکھ ہیں کہ کسی جنگل کی طرف منہ کرنے جانے کو جی چاہتا ہے۔ جنگلوں، پہاڑوں، دریائوں اور کھیتوں کھلیانوں میںزندگی کے رنگ تلاش کر کے انہیں زبا ن دینا میرا فن ہے۔ اس کتاب میں زندگی کے مختلف ذائقوں سے لبریز بیس فن پارے ہیں۔ جس طرح دھرتی ماں کے مختلف علاقوں کی سوغات (بادام، پستہ، کاجو، اخروٹ، سوجی،کلونجی، مصری،سفید تل، دیسی گھی اور زعفران وغیرہ) سے پنجیری تیار کی جاتی ہے،اسی طرح یہ کتاب بھی دھرتی ماں کی خوب رُوئی کی سوغات سے بنی ایک پنجیری ہے۔ اس سوغات کے ذائقے آپ بھی چکھئے اور دیر تک اپنی زبان پر اس کا ذائقہ محسوس کیجیے۔
عرفان شہود





Reviews
There are no reviews yet.