Pothohar: Historic and Sacred Spaces

Pothohar: Historic and Sacred Spaces

This is the fourth volume in the History, Culture, and Heritage of Pothohar Series. Drawing on extensive ethnographic research, Pothohar: Historic and Sacred Spaces explores how people interact with havelis, temples, tombs, and shrines in everyday life. Through conversations, observations, and local narratives, the book captures Pothohar as a lived cultural landscape, highlighting both its rich diversity and the urgent need to preserve its fragile heritage.

₨ 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر

Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر

The Glass Menagerie by Tennessee Williams

کانچ کا گھر

₨ 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے

Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے

₨ 2,400
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

Buy Now

 

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

₨ 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر

A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر

تین ایکٹ کا یہ کھیل پہلی مرتبہ 21 دسمبر 1879 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک کے رائل تھیٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل میں اس وقت کی نارویجئین شادی شدہ خواتین کا بیان کیا گیا ہے جنہیں اپنے فیصلوں میں خودمختاری حاصل نہ تھی۔ اگرچہ ابسن نے متعدد مرتبہ اس رائے کی تردید کی کہ یہ کھیل جدید حقوق نسواں کا علمبردار ہے، تاہم اس کھیل نے اپنی پیش کش کےساتھ ہی چاروں جانب کھلبلی مچا دی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب چرچا رہا۔

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now

₨ 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

The Enemy of the People سماج دشمن

The Enemy of the People سماج دشمن

یہ کھیل 1882 میں قلم بند کیا گیا جو انیسویں صدی کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں معاشرتی منافقت پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ایک تلخ سماجی حقیقت کو افشا کرتا ہے اور اس کی سزا پاتا ہے۔ اس کھیل کے بارے میں ابسن اپنے پبلشر کو ایک خط میں لکھتا ہے، “میں اب بھی تذبذب کا شکار ہوں کہ اس کھیل کو ڈرامہ کہوں یا کامیڈی۔۔۔ اگرچہ اس کھیل میں طنزیہ کامیڈی کے عناصر ہیں لیکن اس کا ڈھانچہ ایک سنجیدہ تخیل پر کھڑا ہے۔”

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
Buy Now

₨ 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر

Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر

یہ کھیل پہلی مرتبہ 31 جنوری 1891 کو میونخ میں ابسن کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔ اس کھیل کو ادبی حقیقت پسندی، انیسویں صدی کے تھیٹر اور عالمی تھیٹر تحریک میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔ ایک نامی گرامی جنرل کی بیٹی، ہیڈا گابلر، خود کو ایک بے کیف شادی اور اور ایک بے زار گھریلو زندگی میں مقیّد پاتی ہے۔ ہیڈا گابلر کا مرکزی کردار عالمی تھیٹر کے ایک نمایاں کردار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناقدین نے ہیڈا گابلر کو ہیملٹ کا نسوانی روپ قرار دیا ہے۔

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now

₨ 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Memories, Mystics and Monuments of Pothohar

Memories, Mystics and Monuments of Pothohar

Not much is written on the heritage of the Pothohar region in Punjab. Keeping this in mind, I travelled extensively in this region to recollect additional legacy of history to authenticate the hidden treasures of Pothohar. This region abounds in the heritage sites which I have been documenting since 2000. While documenting the cultural heritage of Pothohar, an idea struck my mind that there should be a series of books on the various aspects of the heritage, culture, religion and history of this region. I decided to venture out in search of a new literary horizon to investigate and compose a series of books on the history, culture, and heritage of Pothohar. The current book is the first in the series of ten books that I plan to write on the heritage of this region. I would like to inform my readers that before the publishing of this book, I have already written one book on Pothohar heritage titled “Reflections on the Pothohar Heritage.”
Buy Now

Original price was: ₨ 1,000.Current price is: ₨ 700.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart