Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے
فرانسیسی ایبسرڈزم یا علامتی مضحکہ خیز تمثیل نگاری کے پیش رَو
یوجین ایونیسکو
کے چار شاہکار کھیل
فرانسیسی ایبسرڈزم یا علامتی مضحکہ خیز تمثیل نگاری کے پیش رَو
یوجین ایونیسکو
کے چار شاہکار کھیل
| گینڈے
ایک مضافاتی قصبے کے باسی یکے بعد دیگرے گینڈوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں.، سوائے کھیل کے مرکزی کردار کے جو اپنی شراب نوشی کاہلی اور تن آسان اندازِ زندگی کے باعث کھیل کی ابتدا میں تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔بعد ازاں گینڈوں سے متعلق جنون اور ہیجان کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے یورپ میں پھیلنے والے فاشزم اور نازی ازم پر مذمتی ردعمل کی علامت اس کھیل میں سماجی مطابقت، فاشزم، اجتماعی ذمہ داری، منطق، عوامی تحاریک، ہجوم کی ذہنیت، رواداری،فلسفہ اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر گہری استہزائیہ نگاہ ڈالی گئی ہے۔ تصویر اس کھیل کے دوران سرمایہ داری نظام کی جانب سے فنون لطیفہ کا استحصال ابتدا میں صریحاً اتنا عیاں ہےکہ ناظرین نہ چاہتے بھی فنون لطیفہ کے نمائندے مفلس مصوّر کے کردار کی سادگی اور بھولپن اورایک لاچار عمر رسیدہ عورت کے کردارکی کمزوری اور معذوری پر چیں بہ چیں ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس شاہکار علامتی مضحکہ خیز کھیل کے اختتام تک کچلے پِسے تمام طبقات کے حالات میں حیرت انگیز تبدیلی آتی ہے سوائے۔ ۔ ۔ |
| دیوانگی
ایک الٹ پلٹ دنیا میں، جہاں جنگ ” معمول” ہے اور امن کا” اعلان” کیا جاتا ہے، “مرد” اور عورت” کا کردارعام شہری کا عکاس ہے۔ عجیب و غریب لیکن پہلی ہی نگاہ میں قابلِ شناخت یہ دونوں کردار ہم ہی ہیں۔ کھیل میں دونوں کے درمیان ازدواجی چپقلش اور باہر گلی کوچوں میں جنگ متواتر جاری ہے۔ ان جنگوں کے دوران ساتھ رہنا ہی ان کی باہم محبت کا ثبوت ہے۔ زبانی یا بارودی جنگ انسانیت کے وجود کی یقین دہانی ہے۔ |
| سبق
“اگر علم طاقت ہے توتعلیم کو ایک سیاسی یا سماجی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے” پہلی نظر میں یہ پیغام دیتے ہوئے اس کھیل کے دوران تعلیم کے عمل کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ رفتہ رفتہ کھیل میں ایک طبقے کی جانب سے دوسرے طبقےکا استحصال عیاں ہوتا ہے حتیٰ کہ استحصالی طبقے کی اپنی کمزوری اور ناپائیداری سامنے آتی ہے۔ آخر میں کچلے گئے طبقے کی ابتدائی خوش گمانی اور خودا عتمادی مضحکہ خیز صورتحال سے گزرتی ہوئی اپنے افسوسناک لیکن منطقی تک پہنچتی ہے۔ |





Reviews
There are no reviews yet.