Dastan e Zeest داستان زیست

Dastan e Zeest داستان زیست

چکوال کے محمد خان قلندر کی اس کتاب میں دو چار نہیں تو ایک دو سخت مقام تو آنے کو تیار تھے مگر ہمارے یار نے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لئے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔
قلندرانہ باتیں جو وہ کر گئے ان کی بابت کہنے کا ہمارا مقام ہے نہ حق، وہ جو کچھ کہہ گئے اس بابت وہ سینے پر ہاتھ مار کے کہہ سکتے ہیں، “ مہ قلندرانہ گفتم !
کتاب کی نثر رواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظر بدلتے جاتے ہیں دلچسپی ہے کہ کم نہی ہوتی۔بیدل نے کہا تھا، “تو حنا بستی و من مفئی رنگیں بستم”۔تو نے مہندی لگائی تو میں رنگوں بھری باتیں لکھنے لگ گیا۔
ان کی نثر پنجاب کے اردو لکھنے والے کی زبان ہے سادہ بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آ گیا تو وہ پنجابی سے آیا۔ وہ لفظوں کی توتا مینا نہیں بناتے، مقصد کی بات کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں، رُک کر تفصیل دینے کی بجائے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں، مبالغہ بھی نہیں، تفاصیل بھی نہیں، اردو میں پنجابی اہل قلم کا ایسا ہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاریگری ہے نہ تکلف نہ صنائع بدائع، سیدھی دوٹوک بات اور صاف بیان۔
ہمارے ہاں ادب میں ایک صنف ہوا کرتی تھی جسے ڈائری لکھنا یا روزنامچہ کہا جاتا تھا۔ انگریزی ادب میں بھی اینے فرانک کی ڈائری نے پچاس کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں اپنی جگہ بنائی ہمارے ہاں ڈائری لکھنے کا شغل انہی زمانوں تک چلا۔ اس کتاب کو میں روزنامچہ ہی کی صورت دیکھ رہا ہوں اگرچہ اس میں کسی دن کسی تاریخ کا اندراج نہی ایک روزنامچہ کی طرح اشاروں سے اختصار کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے روز و شب کا نچوڑ یہاں جمع کر دیا۔

Buy Now

 500
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart