بندہ چکوال کا چوہدری ہو، بھلے سولہ جماعت پاس ہو، اس کی لکھائی پڑھائی میں گڑبڑ خواہ مخواہ ہو جاتی ہے داستان زیست لکھنے کا خیال آیا تو قدرتی ترتیب کو چھوڑ کے درمیان سے کہانی لکھی شروع کر دی۔ اصلاح احوال رُوداد کے لئے ضروری گزارشات پیش خدمت ہیں تاکہ بیان میں ادوار کے ساتھ تسلسل قائم ہو۔
ہمارے جد امجد چوہدری گدا بیگ جیّد بزرگ تھے چکوال کی ایک قدیمی مسجد۔ پکی مسیت انہوں نے تعمیر کی تھی ان کو ایک روحانی ہستی نے بشارت دی کہ اولاد لاتعداد ہو گی۔ چار بیٹے تھے اب جن کی اولاد چہار پتی ہے شہر کے علاوہ کوٹ روپوال، میرا تھرچک، بھون مرید، گھُگ لطیفوال، جوند دمال، سرکال مائر، جوا مائر، میاں مائر اور دیگر گاؤں میں بسنے والے مائر منہاس راجپوت ان پیر صاحب کی پشین گوئی سچ ہونے کا ثبوت ہیں۔
ہماری پیدائش تقسیم ہند کے بعد 1950 میں ہوئی ددھیال کا پہلا پوتا ہونے پر نام محمد امیر خان تجویز ہوا۔ اسکے مقابل ننھیال نے پہلا نواسہ ہونے کے ناطے محمد علی خان رکھا۔ تاریخ پیدائش میں بھی اپریل اور اکتوبر پر اختلاف ہے۔
یہاں بھی ایک بزرگ شاہ صاحب نے محمد خان پر اتفاق کرایا۔ اس کی مصلحت اب عیاں ہوئی کہ قبیلے میں جہاں میجر، کرنل، بریگیڈیر اور جنرل گنے نہیں جا سکتے ان میں درجنوں محمدخان ہیں جب کہ علم و ادب کے حصے میں ایک محمدخان کرنل مصنف بجنگ آمد ہی گزرے۔ اب یہ انشا پردازی ہمارے ذمہ پڑ گئی ہے۔
قدرت نے اس کام سے عہدہ برآ ہونے کے اسباب بنائے۔ خاندانی روایات کے برخلاف میٹرک میں سکول میں اوّل آنے کی وجہ سے کالج داخل ہونا پڑا۔
حالانکہ اس وقت ہم نیم خود مختار کاشتکار اور اس وقت کی معروف ٹرانسپورٹ بیل گاڑی کے مالک تھے جس پہ ہم نے کالج میں پڑھائی کے ساتھ جملہ تعمیرات کے لئے اینٹ، گارے کی مٹی اور ریت کی سپلائی جاری رکھی۔
ایف اے کے نتائج میں آرٹس گروپ میں ٹاپ کرنے کی سزا ہیلی کالج آف کامرس لاہور میں چار سال پڑھنا ٹھہری۔۔۔
فوج نے ہمیں کمشن نہیں دیا تھا تو ہم فوجی فونڈیشن میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گئے۔ مطلب انج تے وت انجی سہی۔
ہیڈ آفس میں شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی اکاؤٹنگ سیکھی تو فان گیس میں اکاؤنٹ افسر بن گئے۔ سات سال سے زائد ریٹائرڈ فوجی افسران اور سویلین فنانس والوں کے زیر تربیت رہے، یہ عرصہ قیام لالکرتی میں خادم حسین روڈ پر رہا۔
بچپن میں ہمیں ایک تائی، دو پھوپھیوں، دو چاچیوں، چار ممانیوں، دادی نانی کے علاوہ دو درجن سے زائد رشتے کی ماسیوں مامیوں چاچیوں کے ساتھ چھ عدد نانی اماؤں نے پالا۔ ان سب سے دن میں کسی نہ کسی طرح پالا رہتا۔۔۔
پانچویں اور آٹھویں جماعت میں وظیفہ کا امتحان دینے سے خوش خطی اور یاداشت اچھی ہونے کی پاداش میں ہر خوشی غمی کے فنکشن پر فہرست مدعوین مرتب کرنا بھی ہمارے ذمہ تھا۔ یہ ڈیوٹی کرتے ہمیں برادری کے چار پانچ سو گھروں کے افراد خانہ کی تعداد ازبر ہو گئی۔
اب محلہ کی بزرگ خواتین کی شفقت بونس تھی، ایک نانی شہراں کی مثال لیں جو جملہ زنانہ امراض، حمل کے دوران دیکھ بھال اور تولید کے سب مراحل کی دیسی ایکسپرٹ تھی۔ ان کو پنسار کی دکان سے اجزا نسخہ لا کے دینا فرض تھا۔
مریضہ تک دوا ئی پہنچانا، اسے ترکیب استعمال بتاتے ہم بھی نیم دائی بن گئے تھے۔۔۔
اتنی خواتین سے میل جول، بے تکلفی، کا فطری اثر ہے کہ ہم خواتین میں باقی ہم عمر لڑکوں سے زیادہ مانوس اور معشوق رہے تھے۔ جوانی، کالج میں کو ایجوکیشن نے مزید رنگ چڑھا دیے۔۔
ہماری داستان میں خواتین کی موجودگی ہماری بچپن کی زنانہ تربیت کی غماز ہے یہ کوئی شو بازی نہیں !
یہ بھی خوش نصیبی ہماری تھی کہ علاقے کے بڑے بزرگ مشہور پیر، داندی، شہسوار، ذاکر، مولوی اور دیگر نامور ہستیاں ہمارے نانا دادا کے دوست اور انکے ڈیروں پہ ملاقات و قیام کے لئے آتے ہمیں سب کے نیاز حاصل رہے۔
والد صاحب مرحوم کی شہرت کا یہ حال تھا کہ چکوال میں تحصیل کے سامنے انکی بیٹھک دن بھر بھری رہتی۔۔ چچا جان علاقے میں ڈنگروں کے ڈاکٹر مشہور تھے۔ کسی سکول میں نہیں پڑھا تھا لیکن ان کے ہاتھ میں شفا تھی۔۔ ان کا جنازہ شاید چکوال میں سب سے بڑا ہوا تھا۔
اب سوچنے کی بات ہے جس بندے کو اتنی شفقت محبت تربیت تعلیم و عرفان بزرگوں سے ورثے میں ملا ہو، اس کے سر پہ کتنی بھاری ذمہ داری ہو گی کہ اس کے مطابق زندگی گزارے، چاہے کراہے۔ بیل دوڑ کرانی ہو، مجرا سننا ہو، شادی بیاہ کی تقریب ہو، عرس اور میلہ ہو، موت وفات ہو، ہر پہلو زندگانی میں پرفارمنس دینا واجب ہے۔۔
ہم اتنے لدے پھندے پنڈی سے اسلام آباد شفٹ ہوئے۔ آٹھ سال سفارت خانے میں رہے۔ پھر واپس اپنے پروفیشن میں لوٹ آئے۔ اِنکم ٹیکس کی وکالت تیس سال کی۔ چار سال قبل بچوں کے حوالے کر دی، وقت گزاری کے لئے فیس بک پہ آ بیٹھے۔ اسلام آباد میں گھر ہے رہائش ہے۔۔ فراغت ہے!
یہ داستان زندگی اسلام آباد میں کیسے گزاری ہے۔ کیا دیکھا۔۔ ایوان اقتدار سے کیا پایا۔ بہت کچھ ہے بتانے کو بھی اور چھپانے کو بھی۔ محبتیں ہیں پیار ہے ایڈونچر ہیں کچھ سربستہ راز ہیں۔ مالک کا شکر ہے اس نے بہترین زندگی عطا کی۔ حج عمرے زیارات، بھرپور دنیاداری بھی۔۔ ساتھ لکھنے کا ہنر بھی عطا فرمایا!
انسان اگر توفیق ہو تو کسی بھی مشکل ترین نازک اور حساس پہلو پہ گفتگو کر سکتا ہے۔ بس تصور مستحکم ہو۔۔۔ الفاظ و تراکیب پر قابو ہو، سب سے بڑھ کے جن سے خطاب ہے ان سے جذباتی لگاؤ رکھتا ہو
محبت امرت ہے اسے لفظوں میں گھول کے پلانا ہم عبادت سمجھتے ہیں۔
پیار سے لبریز دعا کو قبولیت کا شرف ملتا ہے، پیار کیجئے پیار بانٹیے۔ وقت زود رفتار ہے۔ آج ستر سال بس یہ تحریر لکھتے ستر منٹ میں گزر گئے۔۔۔۔
چوہدری محمدخان۔ قلندر
بیاں خواب کی طرح، جو کر رہا ہے
یہ باتیں ہیں جب کی کہ آتش جواں تھا
مذکورہ تبصرہ نما شعر میں آتش سے مراد صاحب “داستان زیست” قلندر ہے اور قلندر سے مراد محمدخان ہیں۔
چوہدری محمدخان۔ یہ داستان ایک خوش قسمت، خوش مزاج کی ہے جس کے لئے آغاز حیات ہی آب حیات لئے ہوئے تھا۔آغاز ہی نہیں عنفوان شباب بھی رنگدار تھا۔یہاں رنگ ہی نہیں تھے فضا کی سازگاری کے ساز بھی چھڑے ہوئے تھے۔ٹی وی کی امریکی فلموں Super Ted کی طرح Super-Man کی طرح۔جو خود تو Super ہوا ہی کرتے مگر ہر منظر میں نئی سے نئی گاڑی چابی سمیت ان کی منتظر ہوا کرتی۔ مسز ہاشمی بڑی حیران ہوا کرتیں کہ پہلے والی گاڑی کو تو چھوڑ کے ہیرو بھاگ نکلا تھا اب دوسرے شہر پہنچا ہے تو یہاں پھر چابی لگی نئی گاڑی اس کے پاس کیسے موجود ہے ! محمدخان قلندر کو ایک خوش قسمتی اس کے نام نے بھی بخشی۔
گورنر کالا باغ کی ذات میں سخت گیری کیا دہشت بھی موجود تھی مگر اس کی گورنری کی کامیابی کے ساتھ ساتھ محمدخان ڈھرنال کی ڈکیتی بھی تزک و احتشام سے جاری رہتی۔اس احتشام اور شان سے کہ وہ ججوں میجسٹریٹوں کے ہوتے سوتے اپنے کالا چٹا پہاڑ میں باقاعدہ عدالتیں لگاتا اور فیصلے سناتا تھا۔صدر محمد ایوب خان کے سنہری دس برسوں کے دوران،محمدخانی، ایک شان رکھتی تھی۔ اس کتاب والی کہانی ختم ہوتے ہوتے ہمارے محمدخان نے جو جی سیکٹر کے جھگڑے والے پلاٹ کو بچا لیا تو اس میں چکوالی ہونے کے نمبر اپنی جگہ تھے محمدخان ہونے کے اپنی جگہ۔
یہ جوانمرد کب مرد قلندر ہو گیا یہ مجھے خود بھی معلوم نہ ہوا۔کتاب نے بھی اس بابت زبان نہی کھولی۔کتاب ان داستانوں سے رنگین ہے جو بعض دلنشین کرداروں کو فتح کرنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ان فتوحات میں نہ چکوال کا رعب چلا تھا نہ محمدخان کی ہم نامی کا، یہ ایسی مادی فتوح ہے کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دیوی کی فتح و شکست۔
مگر اس نے دل و جسم دونوں فتح کئے کتاب کامیابیوں اور فتوح کی بات کرتی ہے۔ اعلی کوالٹی کے اسباب،سامان اور luxury gadgets کے مارکوں، کاروں کے نئے ماڈلوں، ناؤ نوش کے labels کے اذکار سے پُر ہے اس حد تک کہ اپنی امی کو بھی جوتی کا جوڑا پیش کرتے ہیں وہ بھی پاکستانی نہی،،امپورٹڈ کینوس سلیپر، ہیں۔ان کے گھر کی بار بھی ایسے ہی ترتیب دی گئی جیسی ایف سیکٹر کے گھروں،لازمہ، ہے۔
فنکشن جو وہ ترتیب دینے پر مامور تھے وہاں تو ملازمت ہی کے تقاضوں میں بین الاقوامیت آ جاتی ہے، سو وہاں تو liquor کے بنا گزارہ ہی نہ تھا۔ جیسا کہ بیان ہوا ان کی قلندریت کا راز معلوم نہی ہو سکا کہ کب سے ہے اور کس سطح کی ہے مگر ہم یقین کر لیتے ہیں کہ کسی نے کہا ہے۔
قلندر آنکہ گوید دیدہ گوید۔ قلندر کا کہا ہوا اُس کا دیکھا ہوا ہوتا ہے۔
کتاب میں دو چار نہی تو ایک دو سخت مقام تو آنے کو تیار تھے مگر ہمارے یار نے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لئے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔
قلندرانہ باتیں جو وہ کر گئے ان کی بابت کہنے کا ہمارا مقام ہے نہ حق،وہ جو کچھ کہہ گئے اس بابت وہ سینے پر ہاتھ مار کے کہہ سکتے ہیں، “ مہ قلندرانہ گفتم !
کتاب کی نثر رواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظر بدلتے جاتے ہیں دلچسپی ہے کہ کم نہی ہوتی۔بیدل نے کہا تھا، “تو حنا بستی و من مفئی رنگیں بستم”۔تو نے مہندی لگائی تو میں رنگوں بھری باتیں لکھنے لگ گیا۔
ان کی نثر پنجاب کے اردو لکھنے والے کی زبان ہے سادہ بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آ گیا تو وہ پنجابی سے آیا۔وہ لفظوں کی توتا مینا نہی بناتے،مقصد کی بات کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں،رُک کر تفصیل دینے کی بجائے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں،مبالغہ بھی نہی، تفاصیل بھی نہی،اردو میں پنجابی اہل قلم کا ایسا ہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاریگری ہے نہ تکلف نہ ضائع بدائع سیدھی دوٹوک بات اور صاف بیان۔
ہمارے ہاں ادب میں ایک صنف ہوا کرتی تھی جسے ڈائری لکھنا یا روزنامچہ کہا جاتا تھا۔انگریزی ادب میں بھی اینے فرانک کی ڈائری نے پچاس کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں اپنی جگہ بنائی ہمارے ہاں ڈائری لکھنے کا شغل انہی زمانوں تک چلا۔اس کتاب کو میں روزنامچہ ہی کی صورت دیکھ رہا ہوں اگرچہ اس میں کسی دن کسی تاریخ کا اندراج نہی ایک روزنامچہ کی طرح اشاروں سے اختصار کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے روز و شب کا نچوڑ یہاں جمع کر دیا۔
سروس میں آنے پر جس طبقہ میں انہوں نے قدم رکھا ہے وہاں سے قدم نہ پلٹے نہ رپٹے۔ ہاں یہ کہانی اپنے انجام پر عیش والی سفارت خانوں کی زندگی کو ترک کر کے ایک موڑ ضرور مڑتی ہے مگر یہاں بھی نہ دکھ ہے نہ درد۔ صرف کچھ دیر کو محرومی کا احساس رہتا ہے تاہم یہاں بھی جلدی باہر کی دنیا ان کی اپنی ہو جاتی ہے کہ اب وہ اِنکم ٹیکس کے وکیل کا پیشہ اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔
کتاب میں انگریزی الفاظ بے شمار ملیں گے جو دیکھنے میں اس لئے نظر نہی آتے کہ انہیں اردو کی املاء میں لکھا گیا ہے۔
ہماری سفارتی زندگی چونکہ پچھلی ایک صدی میں مرتب ہوئی جو کہ عالمی سطح پر انگریزی اور مغرب کی بالا دستی کی صدی تھی اس لئے سارا کلچر ہی سفارت کاروں کا مغربی ہے۔مصنف نے مغرب کی بنائی ہوئی سہولتوں سےلے کر ان کی عطا کردہ تفریح اور عیاشیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
میں نے یہ سب سہولت سے یوں لکھ لیا کہ کتاب کے نسخے کو وصول کرتے ہی پڑھنا شروع کر دیا اور ختم کرتے ہی لکھنے کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ مگر حیران ہو رہا ہوں کہ مصنف نے کہیں سفارت خانے کا نام نہی آنے دیا۔۔۔ تاہم اسلام آباد جب آباد ہو رہا تھا تب میں نے محمدخان کو عمُان کے سفارت خانے میں چھوڑا تھا۔۔۔۔ وہی محمدخان ہیں تو حیرت ہے کہ میں محمدخان کو یاد رکھے ہوئے تھا حالانکہ محمدخان مجھے بھول چکا تھا !!
میر کی طرح ہم نے بھی احساں
ایک بے درد دوستدار کیا
پروفیسر احسان اکبر






Reviews
There are no reviews yet.