Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے
Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے
A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر
تین ایکٹ کا یہ کھیل پہلی مرتبہ 21 دسمبر 1879 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک کے رائل تھیٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل میں اس وقت کی نارویجئین شادی شدہ خواتین کا بیان کیا گیا ہے جنہیں اپنے فیصلوں میں خودمختاری حاصل نہ تھی۔ اگرچہ ابسن نے متعدد مرتبہ اس رائے کی تردید کی کہ یہ کھیل جدید حقوق نسواں کا علمبردار ہے، تاہم اس کھیل نے اپنی پیش کش کےساتھ ہی چاروں جانب کھلبلی مچا دی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب چرچا رہا۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
The Enemy of the People سماج دشمن
یہ کھیل 1882 میں قلم بند کیا گیا جو انیسویں صدی کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں معاشرتی منافقت پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ایک تلخ سماجی حقیقت کو افشا کرتا ہے اور اس کی سزا پاتا ہے۔ اس کھیل کے بارے میں ابسن اپنے پبلشر کو ایک خط میں لکھتا ہے، “میں اب بھی تذبذب کا شکار ہوں کہ اس کھیل کو ڈرامہ کہوں یا کامیڈی۔۔۔ اگرچہ اس کھیل میں طنزیہ کامیڈی کے عناصر ہیں لیکن اس کا ڈھانچہ ایک سنجیدہ تخیل پر کھڑا ہے۔”
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
₨ 1,000
Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر
یہ کھیل پہلی مرتبہ 31 جنوری 1891 کو میونخ میں ابسن کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔ اس کھیل کو ادبی حقیقت پسندی، انیسویں صدی کے تھیٹر اور عالمی تھیٹر تحریک میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔ ایک نامی گرامی جنرل کی بیٹی، ہیڈا گابلر، خود کو ایک بے کیف شادی اور اور ایک بے زار گھریلو زندگی میں مقیّد پاتی ہے۔ ہیڈا گابلر کا مرکزی کردار عالمی تھیٹر کے ایک نمایاں کردار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناقدین نے ہیڈا گابلر کو ہیملٹ کا نسوانی روپ قرار دیا ہے۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now