Look Inside

Hidayat ki Talash ہدایت کی تلاش

Hidayat ki Talash

انسانی حواس ہمیشہ معروضی انداز میں کام نہیں کرتے اس لیے درست نتیجہ فکر تک پہنچنا آسان نہیں رہتا۔ حواس دراصل خود ہی حقیقت کی تلاش میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تمام تگ و تاز اور دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنے کے باوجو د منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔

اس کتاب میں انسانی علم کے اسی المناک پہلو کی داستان کا ذکر ہے۔

کتاب میں انسانی علم کے برعکس ایک دوسری قسم کے علم کا ذکر ہے جو انسانی حواس سے ماورا ہے۔ یہ علم ہمیں وحی ربانی سے متعارف کرواتا ہے۔ اس علم کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وحی پر مبنی علم میں انسانی علوم کی آمیزش اسے کیا بنادیتی ہے۔ تحقیق و تجسّس کی اس جستجو کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گذشتہ انبیائے کرام ؑ پر نازل ہونے والی کتابوں کو خود ان کے ماننے والوں نے کس قدر مسخ کرڈالا۔ ان کتابوں میں ہونے والی ترامیم اور اضافے کہیں تو شعوری کوشش اور مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر وقوع پذیر ہوئے اور کہیں ہر زمانے کے خصوصی حالات نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
Buy Now

Hidayat ki Talash

ضروری بات
اس کرہ ارض پر انسانی علم و ترقی کی داستان طویل بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ کہاں لوگ جنگل میں رہ کر جانوروں کی کھالوں سے اپنی پوشاک اور گوشت سے اپنی خوراک حاصل کر کے مطمئن تھے اور کہاں اب ذائقے اور ذوق کے معاملے میں نت نئی اختراعات بھی انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتیں۔ تجسّس وتحقیق کی خصوصیت انسان کو جنگل سے نکال کر بستیوں اور شہروں میں کھینچ لائی۔ زمین کی تسخیر سے جی نہ بھرا تو انسان نے خلا پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا۔ انسانی علم اور اس کی کارگزاریوں کی تاریخ سبق آموز بھی ہے اور المناک بھی۔ یہ تاریخ نتائج کے اعتبار سے کہیں انسان کے دامن کو خوشیوں سے بھرتی نظر آتی ہے اور کہیں تہی دامانی کے الزامات سے داغدار۔ خوب سے خوب تر کی جستجو اپنی جگہ مگر حضرت انسان اور اس کا نقد علم ابھی تک حقیقی اور پائیدار خوشی کے تعین میں بھی ناکام رہے ہیں۔

انسانی علوم کا ہر شعبہ بظاہر انسانی فلاح اور کامیابی کا علم لے کر اٹھا مگر ان مقاصد کے حصول میں کہیں تو جزوی طور پر کامیاب ہوا اور کہیں اسے کلی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انسان نے جس چیز کی تعمیروترقی اور تزئین و آرائش میں صدیاں لگادیں اسی کی تخریب میں اسے چند گھنٹے درکار تھے۔ ان علوم کی محدودیت (limitations) کا ہی شاخسانہ تھا کہ ہر تعمیر میں خرابی کی کوئی نہ کوئی صورت موجود رہی۔ انسان کو مستقل شادمانیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار کرنے کا دعویٰ کرنے والا علم ہی اس کی ناکامیوں اور نامرادیوں کا سبب بن کر رہ گیا۔ توازن و اعتدال کی باگ انسان کے یک رخے پن اور انتہا پسندی کے ہاتھ میں تھمانے کا قصوروار بھی انسانی علم کا ادھورا پن ہے۔

حقیقت کی تلاش میں انسان نے ٹھوکریں بھی کھائیں‘ پریشانیاں بھی اٹھائیں اور اس کے نام پر زہر کا پیالہ بھی منہ سے لگالیا۔ پھر بھی اضطراب میں ہی رہا کہ حقیقت کیا ہے؟ کہاں ہے؟ اس کو کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ذرائع موجود ہیں جو انسان کو حقیقت تک پہنچا دیں؟ ان سب سوالات کے جواب میں بس اس قدر معلوم ہوسکا کہ انسانی علم کی بنیاد بہرحال انسان کے حواس ہی ہوسکتے ہیں۔ انھی سے بدیہی علم حاصل ہوسکتا ہے۔ عقل بھی دراصل ان حواس ہی کی مدد سے کوئی نتیجہ نکالتی اور حکم لگاتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اہلِ علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ حواس ناقص ہوتے ہیں اور غلطی بھی کرجاتے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والی معلومات (data) کی بنیاد پر عقل سو فی صد درست فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی۔ ویسے بھی۔ ع عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے— دیکھا جائے تو انسان کا علم اپنے محدود دائرے میں بھی پورے طور پر حاوی اور کامل نہیں اور محسوسات کو بھی ایک وقت میں محیط نہیں۔ عالمِ مادّیات کے کتنے مسائل ہیں جو ہنوز حل طلب ہیں اور مختلف آراء کا تو کوئی شمار ہی ممکن نہیں۔ پھر انسان کے علم میں تدریج اور اس کی معلومات میں ترقی ایک معروف حقیقت ہے۔ اس ترقی کی حد کبھی بھی متعین نہیں کی جا سکتی۔ حد کا تعین اس کے نقصان علم کا اعلان اور حد کا عدم تعین اس کے علم کے مشتبہ اور غیرمکمل ہونے پر دلالت کرتا ہے اور دونوں نقص اور شبہ سے خالی نہیں۔

یہ تو ذکر تھا محسوسات اور عالمِ مادّیات کا کہ جن کے تھوڑے بہت ذرائع انسان کو میسر ہیں۔ اس سے آگے بڑھیں تو مابعد الطبیعیات (metaphysics)کی ایک پوری دنیا ہے جو مادّیات سے کہیں زیادہ وسیع اور نامعلوم ہے۔ یہ پوری دنیا انسانی علم کی حدود سے ماورا ہے۔ انسان تو فی الحال اپنی حقیقت کا ہی شناسا نہیں۔ اپنی ابتدا اور انتہا سمیت یہ پوری کائنات ہی اس کے لیے ایک سربستہ راز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر اخلاقی نظام کی تشکیل کا سوال ہو یا قانون سازی اور سیاسی نظام کی تشکیل کا‘ کسی ایک معیار اور ماخذ کی عدم موجودگی میں مختلف نظاموں اور قوانین میں مطابقت ممکن ہی نہیں۔ خواہشات اور مصلحتوں کے اختلاف نے ہمیشہ تصادم کو جنم دیا ہے اور آیندہ بھی اس سے مختلف نتیجہ ظاہر ہونے کی کوئی توقع نہیں۔

انسانی حواس ہمیشہ معروضی انداز میں کام نہیں کرتے اس لیے درست نتیجہ فکر تک پہنچنا آسان نہیں رہتا۔ حواس دراصل خود ہی حقیقت کی تلاش میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تمام تگ و تاز اور دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنے کے باوجو د منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔

اس کتاب کے پہلے حصے میں انسانی علم کے اسی المناک پہلو کی داستان کا ذکر ہے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں انسانی علم کے برعکس ایک دوسری قسم کے علم کا ذکر ہے جو انسانی حواس سے ماورا ہے۔ یہ علم ہمیں وحی ربانی سے متعارف کرواتا ہے۔ اس علم کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وحی پر مبنی علم میں انسانی علوم کی آمیزش اسے کیا بنادیتی ہے۔ تحقیق و تجسّس کی اس جستجو کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گذشتہ انبیائے کرام ؑ پر نازل ہونے والی کتابوں کو خود ان کے ماننے والوں نے کس قدر مسخ کرڈالا۔ ان کتابوں میں ہونے والی ترامیم اور اضافے کہیں تو شعوری کوشش اور مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر وقوع پذیر ہوئے اور کہیں ہر زمانے کے خصوصی حالات نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

تحقیق کے بعد یہ پوری طرح ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف قرآن مجید ہی شروع سے مکمل طور پر اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ ہم نے اس بدیہی حقیقت کو اپنے خیال کے ماتحت کرنے یا محض مسلمان مفکرین کی تحقیقات کو بنیاد بنانے کی بجائے غیرمسلم مفکرین کی قرآن کے بارے میں آرا سے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی قرآن مجید ہی واحد‘ محفوظ اور غیرمتبدل کتابِ وحی کی صورت میں موجود ہے۔

دوسرے حصے کی فصل سوم اور چہارم میں ہم نے شعوری طور پر اس بات کی کوشش کی ہے کہ علمائے متاخرین سے زیادہ استفادہ کیا جائے اور ناگزیر صورت میں ہی علمائے متقدمین سے رجوع کیا جائے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بیسویں صدی کی آخری چھ سات دہائیوں میں علمائے کرام نے اسلامی موضوعات پر جدید اسلوب و لغت میں بہت زیادہ کام کیا ہے۔ اس سے قبل شاید کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ اسلام پر نئے اسلوب اور محاورے میں تصنیف کردہ لٹریچر بہت کم دستیاب ہے اور اگر مختلف موضوعات پر کوئی جدید تعلیم یافتہ مسلم یا غیرمسلم کام کرنا چاہے یا سمجھنا چاہے تو قدیم لٹریچر سمجھنا اس کے لیے آسان نہیں اور نیا مواد اسے میسر نہیں۔ اس وقت یہ صورت حال نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قدیم لٹریچر نسبتاً مشکل ہے اس لیے اس کی تفہیم میں کئی آرا پیدا ہو سکتی ہیں اور ہم اپنے آپ کو اس بحث میں الجھنے سے بچانا چاہتے ہیں کہ متقدمین کی کتابوں کی عبارات کا صحیح مفہوم ہی اخذ نہیں کیا گیا۔ اس طرح اصل موضوع سے ہٹ کر توجہ دوسرے غیراہم اور غیرمتعلق موضوع کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات ہمارے پیشِ نظر ہیں۔ ان مباحث میں آپ کو مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا تقی عثمانی صاحب کے اقتباسات نسبتاً زیادہ ملیں گے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان مفکرین نے موضوعاتِ زیربحث پر زیادہ تفصیل سے کام کیا ہے۔
محمد انور عباسی


جدید علمی تحریک پر ایک ضرب۔
اس کتاب میں انور عباسی صاحب نے جدیدت کی علمی تحریر اور تہذیبی انقلاب کے سنگِ بنیاد پر ضرب لگائی ہے۔ ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقات، خصوصاً اگر اس کتاب کو غور سے پڑھ سکیں تو الحاد کی کثیر الاطراف یلغار میں کم از کم خود کو محفوظ رکھنے کا ساز و سامان حاصل کر لیں گے۔ اس کے علاوہ جیسا کہ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اس کو اہلِ مدارس کے لیے بھی مفید قرار دیا ہے، اسے ان حلقوں میں بھی پڑھا پڑھایا جائے تو فلسفیانہ اور کلامی مباحث میں انہیں ایک اصولی مدد مل سکتی ہے۔ فاضل مصنف نے موضوعات اور مباحث کی ترتیب ایسی رکھی ہے کہ استدلال کی ایک مربوط زنجیر سی بن گئی ہے جس کی کوئی کڑی آج کے ذہن کے لیے نہ اجنبی ہے اور نہ ہی کسی جبر و تحکم کا احساس دلاتی ہے۔ انسان کی اوریجنل اور متفقہ تعریف کو بالکل معروضی انداز میں تاریخ کے سیاق و سباق میں ظاہر ہوتے ہوئے اس طرح دکھایا گیا ہے کہ سائبر ٹیکنالوجی وغیرہ کے زیرِ اثر جس ذہن کو اپنی ضروریات کا علم بھی نہیں رہ گیا ہے، وہ اپنی اصل پر واپسی کی اہمیت ضرور محسوس کر لے گا اور پھر اس طرف واپسی کا ایک مجمل مگر محکم لائحۂ عمل بھی اس کی دسترس میں آ جائے گا۔
یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ انور عباسی صاحب نے ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم کی ایک بنیادی تھیوری کو باقاعدہ اطلاقی مراحل سے گزار کر دکھا دیا ہے۔ برہان صاحب، بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ ان کے استاد و مربی ڈاکٹر ظفر الحسن نے انسانی علم اور علم بالوحی كکے مطلق امتیاز پر جو زور دیا تھا اور اس امتیاز کی بنیاد پر ایمان و علم کی مغائرانہ نسبت پر جو نظامِ استدلال تشکیل دیا تھا، یہ کتاب اس نقشے پر بننے والی پہلی عمارت ہے۔ میں اسے ایک بڑا احسان سمجھتا ہوں جو انور عباسی صاحب نے اوروں کا تو کیا ذکر، خود مجھ پر کیا ہے۔

احمد جاوید

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Hidayat ki Talash ہدایت کی تلاش”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Editorial Review

Hidayat ki Talash