Soch kay Pewand سوچ کے پیوند
یہ ایک عام آدمی کی تحریریں ہیں۔ روز مرہ غیر رسمی گفتگو کے انداز میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہے۔ مشاہدات، تجربات اور واقعات کا بیان ہے جسے ادب کی زبان میں مجموعی طور پر تاثرات کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ تحریریں ایک مدت سے میرے کانوں میں سرگوشیاں کرتی رہی ہیں۔ ان کا مزاج کبھی خالص تجزیاتی ہوتا تھا اور کبھی ٹھوس جذباتی۔ یا پھر ملا جلا۔ سماجی اور نفسیاتی کے ساتھ تاریخی اور انتظامی حوالوں سے عام فہم سادہ سی باتو ں کو الفاظ کی چاشنی کا تڑکا لگائے بغیر براہِ راست انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ہم سب جانتے ۜہیں کہ جذبہء اظہار انسان کی انتہائی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ یہی اس کتاب کی تخلیق کا سبب بنا۔ فرد کی قلبی وارداتوں، روحانی مسائل اور ذہنی میلانات پر اپنی رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ملکی انتظامی امور میں بہتری کے لیے تجاویز بھی موجود ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مخاطب آج کے دور کا انسان ہے۔ اس کا موضوع، عہدِ حاضر کے انسان کو درپیش مسائل کے اوپر گفتگو ہے۔ عہدِ حاضر کے انسان کو ہر قدم ایک دوراہے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ کوشش اور ارادے کو خدشات گھیرے رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں جہاں انسان کو عمل کی تحریک دی گئی ہے وہاں خواب دیکھنے کی اجازت بھی ہے۔ خود احتسابی، مثبت تنقید اور آزاد تجزیوں کا بیان بھی قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔





Reviews
There are no reviews yet.