Look Inside
Sale!

Qulzum kay Us Paar قلزم کے اس پار

یہ تاثرات مغربی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ اِن بشری معاشروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور نہ اُن کی بے جا ہر زہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کے ساتھ تقابل کامقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسنا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لئے بحیثیت مہمیز استعمال کرنا ہے۔ 9/11 کے بعد کا مغرب مسلمان دنیا کے لئے اپنی تمام تر جارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ اہل مغرب کے لئے مسلم دنیا۔ یہ تحریراُس اہم تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شاید یہی اس کی انفرادیت کا اَمر بنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیا کو نیک وبد یا سیاہ و سفید کے ہمدرد پیرا یوں میں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیا میں ہر لمحہ اٹھتے نئے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ دنیا نئی تاریخ، تفسیر اور تسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پر اس تحریر کو زیادہ تحقیقی اور گراں بار بنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کو بشری کا وشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاںسکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیر عمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کو مشرقی معاشروں سے افضل یا کمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حد تک خلوص نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 650.

بخاراا ور سمر قند کے تاریخی اور لا ثانی مقامات نے شعوری اور غیر شعوری دونوں طرح سے اِس مسافر کو تقریباً ۳۲ سال قبل کے سیاحتی مطالعے کا موجودہ دیباچہ لکھنے کی تحریک دی ہے۔ یہ حُسن اتفاق ہے کہ سمر قند میں مرزا اُلغ بیگ کے اِنتہائی جاذب نظر مدرسے سے ۳۔ ۱۹۸۲ کی اس تصنیف کا پیش لفظ رقم ہوا۔ اگست ۲۰۱۵ میں سنٹرل ایشیاء کے تحقیقی اور تفریحی دورے میں، میں اپنے خیالات کو واپس اُس تعلیمی سفر کی طرف لے گیا جو ۳۲ سال قبل ایتھنز سے شروع ہو ا تھا اور براستہ جنوبی فرانس، انگلستان،نیو یارک اور امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا۔ اور یہ بھی حُسنِ اتفاق ہے کہ اس تعارف کی آخری سطور بھی ایتھنز کے قدیم ورثے ایکرو پولس (Acropolis) میں رومی بادشاہ، ہیڈریان (Hadrian) کی لائبریری کے عقب میں رقم ہونا تھیں۔ ابن سیناء، فردوسی، امام بخاری اور رودکی کا بخارا بھی اس تخلیقی عمل میں کافی ممد ثابت ہوا۔ کبھی یہ شہر اپنے زمانے کا قدیم مسلم آکسفورڈ تھا اور آج اپنی تمام تر تاریخ، علم اور رجائیت کے ساتھ ایک بے چین روح کی طرح نئے جنم کے انتظار میں ہے
بیا کہ خورشید راسامانِ سفر تازہ کنیم
شیخ سعدی ؒ کی مسلسل تنبیہ ’زان بیشتر کہ بانگ براید فلاں نماند ‘کے باوجود یہ مسودہ تصوراتی طور پر میرے ساتھ کئی دہائیوں سے شریک سفر رہا ہے۔ اسی دوران اسلام آباد، آکسفورڈ، باتھ اور دیگر کئی جامعات میں تدریس و تحقیق میں مشغول ایک دور حیات پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ۳۲ سالہ نوجواں مورخ، ایک چشمہ بردار بزرگ میں تبدیل ہو گیا جس کے ۱۵ لاکھ انگریزی الفاظ کی اشاعت کے باوجود اس سفر نامے کا سفر ختم نہ ہوا۔
آغاز ۲۰۱۵ میں پروفیسر ممتاز احمد کے ہاں شاہد اعوان سے ملاقات ہوئی اور اُن کی گراں قدراشاعتوں کو دیکھ کر پھر سے خواہش جاگی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ سوائے اس دیباچے کےاس سفرنامے کے حقائق اور واقعات، مثلِ مصنف، ایک لحاظ سے قصہِ پارینہ ہیں۔ اگرچہ کتاب کی زیبائش میں ثمینہ، عنبرین اعجاز، ظفر، لیاقت اور میرے بہت سے طلباء و طالبات کا ا ہم حصہ ہے۔ بقول سعدی ء وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم، غلطیوں کا ذمہ دار مصنف کو ہی ٹھہرائیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سدرہ (بیٹی) اور فاروق (بیٹا) کی نسل طفل مکتب سے بلوغت، عہد شباب اور اُس سے بھی آگے پہنچ چکی ہے اوراُن کے والد کا سفر نامہ ا بھی اپنے مکمل سفر پہ گامزن ہے۔

یہ تاثرات مغربی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ اِن بشری معاشروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور نہ اُن کی بے جا ہر زہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کے ساتھ تقابل کامقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسنا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لئے بحیثیت مہمیز استعمال کرنا ہے۔ 9/11 کے بعد کا مغرب مسلمان دنیا کے لئے اپنی تمام تر جارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ اہل مغرب کے لئے مسلم دنیا۔ یہ تحریراُس اہم تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شاید یہی اس کی انفرادیت کا اَمر بنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیا کو نیک وبد یا سیاہ و سفید کے ہمدرد پیرا یوں میں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیا میں ہر لمحہ اٹھتے نئے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ دنیا نئی تاریخ، تفسیر اور تسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پر اس تحریر کو زیادہ تحقیقی اور گراں بار بنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کو بشری کا وشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاںسکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیر عمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کو مشرقی معاشروں سے افضل یا کمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حد تک خلوص نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔

۱۹۷۴ سے ۱۹۷۹ تک میں نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی پھر دس سال پاکستان میں تدریس کے بعد ۱۹۸۹ میں عازم انگلستان ہوااور اب کئی دہائیوں سے آکسفورڈ اور با تھ (Bath) کی دا نشگاہوں میں تدریس و تحقیق سے منسلک ہوں لیکن ان تجربات اور تاثرات کو میں نے اپنے اُردو مسودے پہ اثر انداز نہیںہونے دیا۔ ۱۹۸۳ میں میرا مذکورہ سفر پاکستان سے امریکہ کے لئے تھا۔ کولمبیا یونیورسٹی اور برکلے کی جامعات ایک سال کے لئے میری منازل تھیں۔ لیکن میں نے اپنے اُس پوسٹ ڈاکٹرل (Post Doctoral) کے سفر کا آغاز مغربی تہذیب کی جائے ابتدا، یونان، سے کیا۔ اُس کے بعد مغرب کی جائے تعیش جنوبی فرانس اور مانٹی کارلو کی سیاحت کی، بعد میں قدیم لندن سے ایک مختصر نوک جھونک اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نیو یارک میں منتقل ہو چکا تھا۔

یہ ابواب کئی مہینوں کی شب بیداری کا نتیجہ ہیں اور یہ زمانہ کمپیوٹر سے قبل کا تھا لیکن عہد شباب کے نوجوان جذبے نے جستجو کا ہاتھ تھامے رکھا اور تسلسل رکاب سفر بن گیا۔
اس سیاحت نامے کی ایک منزل تمام ہوئی اب اگر قارئین مزید اس طرح کے تاثرات کو قلم بند کرنے کا فیصلہ کریں تو کافی حد تک میر ا مقصد پورا ہو جائے گا۔ مغرب یا مشرق میں سکونت پذیر ہماری کثیر الثقافتی نسل سے متعلقہ افراد کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے تجربات اور مشاہدات سپرد قلم کر دیں تاکہ وہ آئندہ کے لئے تاریخی مآخذ ثابت ہوں۔ یہ کاوش اِسی جذبے کی مرہون منت ہے اور یقیناً حرف آخر نہیں!
افتخار ملک

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Qulzum kay Us Paar قلزم کے اس پار”

Your email address will not be published. Required fields are marked *