Iqbal by Ali Khamenei اقبال: مشرق کا بلند ستارہ
Iqbal by Ali Khamenei
اقبال: مشرق کا بلند ستارہ
’’اقبال: مشرق کا ستارہ‘‘ اُس فکری روشنی کا بیان ہے جس نے بیسویں صدی کے جمود کو توڑ کر مشرق کی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کی فکر وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جس کی بازگشت علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے افکار کی تفہیم اور انہیں نئی نسل تک پہنچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو مشرق کے علمی و روحانی احیاء کا خواہشمند ہے۔ زیرِ نظر تقریر کا ترجمہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ترجمے کے دوران نہ صرف لفظی معنویت برقرار رہے، بلکہ وہ لب ولہجہ بھی منتقل ہوجائے، جس کی تاثیر لفظوں سے بڑھ کر ہے۔ سید علی خامنہ ای صاحب کی اس تقریر کا اہم ترین پہلو علامہ اقبال کی فارسی شاعری اور ایرانی شعور کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ وہ اقبال کوروحانی پیشوا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خامنہ ای انقلاب ایران کے روح رواں ہیں، اور اُن کا ایرانی مفکرین پر گہرا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے جس ’خودی‘ اور ’حریت‘ کا درس دیا، اس نے ایرانیوں کے اندر سوئے ہوئے اس انقلابی جذبے کو بیدار کیا۔ ایرانی دانشوروں، بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں اقبال کا تذکرہ اس قدر کثرت سے ملتا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایران کا فکری انقلاب اقبال کے’لا الہ‘ کی گونج کے بغیر ادھورا تھا۔ علی شریعتی نے تو اقبال کو ’’مصلح قرن آخر‘‘ قرار دیا۔ اقبال نے ایرانی قوم کو ان کی ساسانی یا نسلی پہچان کے بجائے ان کی ’’اسلامی شناخت‘‘ سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مشرق کی نجات مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں کی طرف واپسی میں ہے۔ اس کتاب میں یہ نکتہ تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک ’ستارۂ مشرق‘ نے اپنی فارسی زبان کے اثر سے سرحدوں کی قید توڑ کر تہران کے گلی کوچوں میں آزادی کا چراغ روشن کیا۔
Aik Safar Baqi Hay
Aik Safar Baqi Hay ایک سفر باقی ہے
ایک آپ بیتی اور جگ بیتی
Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام
Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام
یہ کتاب اردو زبان کے تعلیمی، تنقیدی اور فکری ادب میں ایک ایسی نئی جہت پیش کرتی ہے جو اپنی نوعیت میں اولین ہے۔ مصنف نے ’’رٹا‘‘ جیسے عام اور رائج تصور کو محض حفظ یا بغیر فہم کے یاد کرنے کے محدود دائرے سے نکال کر تعلیم، نفسیات اور عمرانیات کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا ہے۔ شاید اردو زبان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ’’رٹے‘‘ کو اتنے ہمہ گیر زاویوں اور گیرائی سے پرکھا گیا ہے۔
Circle of Destiny – Novel
Circle of Destiny
A story of love and betrayal, friendship and deception, death and destruction spanning regions and moving across multiple geographical locations. Sweeping account of a nation traumatized by suicide bombings, terrorism, and militancy. Entire generation entrapped in the confusion of ideological quagmire ignited by political instability and fueled by the power of mass media.
Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں
Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں
افغانستان دنیا کے لیے ہمیشہ ایک پہیلی کی مانند رہا ہے، پہیلی بھی سادہ نہیں بلکہ تہہ در تہہ الجھی ہوئی۔ یہ پیچیدہ کہانی انہیں بھی آج تک پوری طرح سمجھ نہیں آئی جو برس ہا برس تک افغانستان میں کھیلے جانے والے آگ اور خون کے کھیل کا حصہ رہے۔ وہ لوگ بھی اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہے جو خطے کے امن کی خاطر نیک نیتی سے اس میدان کارساز میں کودے۔
Qulzum kay Us Paar قلزم کے اس پار
یہ تاثرات مغربی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ اِن بشری معاشروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور نہ اُن کی بے جا ہر زہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کے ساتھ تقابل کامقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسنا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لئے بحیثیت مہمیز استعمال کرنا ہے۔ 9/11 کے بعد کا مغرب مسلمان دنیا کے لئے اپنی تمام تر جارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ اہل مغرب کے لئے مسلم دنیا۔ یہ تحریراُس اہم تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شاید یہی اس کی انفرادیت کا اَمر بنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیا کو نیک وبد یا سیاہ و سفید کے ہمدرد پیرا یوں میں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیا میں ہر لمحہ اٹھتے نئے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ دنیا نئی تاریخ، تفسیر اور تسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پر اس تحریر کو زیادہ تحقیقی اور گراں بار بنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کو بشری کا وشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاںسکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیر عمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کو مشرقی معاشروں سے افضل یا کمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حد تک خلوص نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔


