Central Canada, Cubic aur Ontario سینٹرل کینیڈا
فرانس، برطانیہ اور امریکہ کی عسکری , سیاسی اور مذہبی تجربہ گاہ
(سفرنامہ مانٹریال ، کیوبک، اوٹاوہ اور تھاؤزینڈ آئی لینڈ )
میں فطرتا ایک کھوجی ہوں!
یہ کھوج مجھے سفر پہ آمادہ رکھتی ہے!
سچ یہ ہے کہ سفر کی بے آرامیاں ایک طرف، کسی منزل کی طرف جاتے ہوئے جب اپنے تھکے ہوئے جسم اور تازہ دم روح کے ساتھ، شام ڈھلے میں کسی عارضی ٹھکانے پہ پہنچتی ہوں تو دل شاد باد ہو جاتا ہے!
میں ان خوش قسمت طالب علموں میں سے ہوں جو زمانہ طالب علمی میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت ، اپنی مادر علمی میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں!
اپنی بلند آواز، صاف لہجے اور بہتر تلفظ کی وجہ سے پرائمری سکول سے ہی میں نے مباحثوں اور مذاکروں میں حصہ لینا شروع کیا ۔اس طرح واہ کینٹ کے اندر تقریبا تمام سکولوں میں جانے اور مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ مقابلہ جیتنے پہ ملنے والی ٹرافیوں کی خوشی ایک طرف ، میری اصل دلچسپی “مقامی لوگوں ” کو دیکھنا اور ان کا مشاہدہ کرنا ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے اندر اپنے لوگوں کو مذید جاننے اور کھوجنے کی تڑپ بڑھتی گئی۔ کالج پہنچی تو ذہن کے ساتھ ساتھ میری نظر کا کینوس وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ سپورٹس میں بھی باقاعدگی سے حصہ لینا شروع کیا۔ ہر سا ل کالج یونین کے الیکشن میں خوب دھڑلے سے کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے یونین کی نائب صدر تک کا اعزاز جیتا۔تمام تعلیمی کیریئر کے دوران مجھے فیڈرل بورڈ اور فوجی فاؤنڈشن سے ڈبل سکالر شپ ملتے رہنا میرا خصوصی اعزاز رہا۔ ان تمام کارناموں کی وجہ سے ابا جی نے کبھی دوسرے شہروں میں جا کے مقابلوں میں حصہ لینے پہ پابندی نہیں لگائی اور جہاں تک ممکن ہو سکا دامے درمے سخنے میری حوصلہ افزائی اور مالی مدد بھی کرتے رہے۔ اس طرح کراچی سے پشاور تک شائد ہی کوئی ایسا شہر ہوگا جہاں میں اپنی ٹیم کے ساتھ تقریری مقابلوں میں حصہ لینے نہ گئی ہونگی۔کالج کے دیئے ہوئے سٹوڈنٹس کارڈز کی مدد سے میں نے بسوں، ویگنوں، ٹرینوں، ٹانگوں، اور کاروں سمیت ہر طرح کی ٹرانسپورٹ پہ خوب سفر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سال طلبہ و طالبات کے لئے ارینج کی جانے والی پکنکس اور ایجوکیشنل ٹرپس کے طفیل بھی پنجاب کے مشہور مقامات پہ جانے کا اتفاق ہوتا تو اپنا پیارا پاکستان دیکھ کر دل فخر اور خوشی سے جھوم اٹھتا!
سفر سے عشق کرنے والے بتدریج سفر کی روحانی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے اپنی اولین ترجیع بنا لیتے ہیں !
میری طرح کے دائمی مسافر سارا سال خوب محنت کر تے ہیں کہ سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کر سکیں اور پھر جونہی موقع ملتا ہے، بے تحاشا مصروف زندگی میں سے وقت نکال کر اللہ سوہنے کی بنائی ہوئی بہت سوہنی دنیا دیکھنے نکل کھڑے ہوتے ہیں!
کینیڈا آنے کے بعد میں نے ٹیچنگ شروع کی ۔ لونگ ویک اینڈز ، موسم بہار ، موسم گرما اور موسم سرما کی چھٹیاں شروع ہونے سے پہلے ہی میں اپنے سفر بک کر لیتی ہوں۔ ملک کے اندر ، امریکہ اور یورپ کے کئی شہروں کے سفر کر چکی ہوں۔ مجھے گروپس کے ساتھ اکیلے سفر کرنا بہت پسند ہے!
اب میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ سب کو بھی اپنے ساتھ ساتھ رکھوں تاکہ آپ ایک پاکستانی عورت کی نظر سے اس دنیا کو دیکھیں اور آپ کو اندازہ ہو کہ دنیا میں ملٹی کلچر ازم سیاح خواتین کا کتنا احترام کرتا ہے۔ دور دراز سیاحتی مقامات پہ خواتین کے آرام اور تحفظ کے لئے کیسے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی یہ دیکھنے اور جاننے کا پورا حق ہے کہ یہ دنیا کسقدر وسیع اور خوبصورت ہے!
کینیڈا کے بارے میں یہ میرا پہلا سفرنامہ ہے !
سنٹرل کینیڈا کے دو صوبے، کیوبک اور اونٹاریو ، صدیوں پرانی تاریخ اور حیرت انگیز واقعات سے بھرے پڑے ہیں !
کیوبک فرانسیسی کلچر کی نمائیدگی کرتا ہے۔ فرانس کی سر زمین کینیڈا پہ آمد اور فتوحات کی تفصیلات و وجوہات پڑھ کر آپ یقینا لظف اندوز ہونگے!
اونٹاریو برطانوی کلچر کا شہکار ہے۔ آج بھی ملکہ برطانیہ ہماری ملکہ ہے ۔ برطانیہ کا شاہی خاندان کینیڈا میں بھی ہمارے شہزادوں شہزادیوں کا مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔
کینیڈا میں ” برطانوی راج ” کی تاریخ پڑھ کر آپ یقینا برصغیر پاک و ہند میں ” ایسٹ انڈیا کمپنی ” کے کردار کا از سر نو جائزہ لیں گے ۔ ان کا موازنہ کریں گے ۔ عالمی طاقتوں کی غریب ملکوں اور ذاتی مفاد پرست لوگوں پہ آہنی گرفت آپ کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر دے گی!
کینیڈا کی وسیع و عریض زمین پہ عیسائیت کو فروغ دینے کے لئے برطانوی اور فرانسسی چرچ نے کتنا اہم کردار ادا کیا ، یہ تفصیل جان کر آپ اپنے اپنے مذہب کے مذہبی اجارہ داروں کی طاقت کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے!
جہاں فرانس اور برطانیہ ہو، وہاں امریکہ نہ ہو ، یہ ممکن ہی نہیں۔ لہذا آپ میں سے بہت سے احباب یہ سن کر حیران ہو جائیں گے کہ سر زمین کینیڈا پہ قبضہ کرنے کے لئے فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان کئی خونریز جنگیں خود کینیڈا ہی کی سر زمین پہ لڑی گئی تھیں !
امریکہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ کینیڈا کی ویسٹ کوسٹ پہ قبضہ کر کے ، برٹش کولمبیا کے راستے الاسکا تک براہ راست پہنچ کر ” ساؤتھ پیسیفک اوشن ” پہ مکمل اجارہ داری حاصل کر لے ۔ اس کا اصل مقصد اپنے دیرینہ حریف روس پہ برتری حاصل کر نا تھا۔ لیکن برطانیہ نے اسےکئی جنگوں میں ہرا کر سر زمین کینیڈا پہ قبضہ کر کے امریکہ کے خوابوں پہ پانی پھیر دیا!
فرانس ، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تفصیلات بھی اس کتاب میں موجود ہیں !
مجھے امید ہے کہ سنٹرل کینیڈا کا یہ سفرنامہ آپ کی کینیڈا کے بارے میں دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا!
ثمینہ تبسم
برامپٹن، اونٹاریو، کینیڈا





Reviews
There are no reviews yet.