Chal Musafir Chal چل مسافر چل
اسپین اور پرتگال کا سفرنامہ
بھلا سپین کا مجھے کیا پتہ تھا !
میں تو صرف ’’ طارق بن زیاد ‘‘ کو جانتی تھی!
اس کے بارے میں بہت پڑھا تھا کہ بچپن سے ہی بہادروں کی کہانیاں پڑھنا مجھے بہت پسند ہے!
اور میں ’’جبل طارق ‘‘ کے بارے میں جانتی تھی!
اور میں وہ ’’ کشتیاں جلا دینے والے واقعے ‘‘ سے بھی بہت متاثر تھی!
اس لئے متاثر تھی کہ بچپن میں جب میں اپنے دوستوں اور سہیلیئوں کے ساتھ واہ کینٹ کے بیس ایریا والے اپنے گھر سے، لوگوں کے باغات میں سے ’’ پھل سبزیوں کی ڈسکوری مہم ‘‘ پہ نکلتی تو سب سے پہلے ہم یہ طے کرتے تھے ہم کونسے راستے سے جائیں گے اور کس راستے سے واپس آئیں گے!
اور یہ ہمارا سپر ہیرو ’’ طارق بن زیاد ؟‘‘
کشتیوں پہ سمندر کو پار کر کے، اتنا لمبا سفرکر کے ایک دوسری دنیا میں واقع سپین کے سمندر کنارے پہ اترا اور اپنے سپاہیوں سے کہتا ہے کہ،
’’ کامیابی یا موت!‘‘
ہم واپس نہیں جانے والے !
لہذا سب کشتیاں جلا دو۔ ناں بھاگنے کا راستہ ہو گا نہ ہی ہمارے حوصلے ٹوٹیں گے۔ اور ہم اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہم جیت نہیں جاتے!
واہ۔۔۔۔
واہ ۔۔۔۔۔
کیا ہی جذبہ تھا!
اور وہ ’’ فاتح ‘‘ کا تاج پہنے بغیرواپس نہیں گئے!
یہی میرے اس ’’ مسلم سپر ہیرو سپہ سالار طارق بن زیاد ‘‘ کی کہانی تھی جسے دہرا کر میرا خون گرم رہتا تھا!
اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔
بچپن سے نکل کر ہائی سکول کی لائبریری تک رسائی ہوئی تو میں نے ’’ سپین ‘‘ کے بارے میں جاننا شروع کیا!
اسلامیات کی ٹیچر جب جذباتی سی آواز میں سپین میں طارق بن زیاد سے لے کر صدیوں طویل مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بیان کرتے ہوئے کچھ غمگین سی ہو جاتیں تو میں ان کی اس سمجھ میں نہ آنے والی ’’ جذباتیت‘‘ پہ حیران رہ جاتی!
پھر ۔۔۔۔۔۔
کالج کی لائبریری میں علامہ اقبال کی نظم ’’ مسجد قرطبہ ‘‘ پڑھی!
اردو کی ٹیچر نے بہت آسان الفاظ میں تشریح کی تو میں آنسووں سے روئی !
میرے بہت سے بھرم ٹوٹے!
عربی اور اسلامیات کی ٹیچرز کا دیا ہوا ’’ امت مسلمہ ‘‘ کا سبق بھک سے اڑ گیا!
وہ دن اور آج کا دن۔۔۔۔۔۔
میں اسلامی تاریخ کی انگلی تھامے ملکوں ملکوں گھومتی پھرتی، سپین سے پرتگال کی تاریخ چھانتی لزبن کے ایئرپورٹ پہ اداس کھڑی ہوں!
بہت کچھ سیکھا ہے!
دیکھا ہے!
سمجھا ہے!
آج کی دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے بس ایک ہی حسرت ہے کہ،
’’ کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!‘‘
ثمینہ تبسم





Reviews
There are no reviews yet.