Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی – علی شریعتی
یہ تصنیف شریعتی کی شخصیت کا ایک مختلف اور زیادہ باطنی رخ سامنے لاتی ہے۔ شریعتی کے لیے تنہائی کوئی محض منفی کیفیت نہیں بلکہ بیدار انسان کی ایک ضروری حالت ہے۔ جو شخص دنیا کی سطحی خوشیوں سے مطمئن نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر ایک یسی خلش محسوس کرتا ہے جو اسے حقیقت کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔
شریعتی بار بار اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ لکھنا درست ہے یا خاموش رہنا، بولنا مناسب ہے یا نہیں۔ ’’کویر‘‘ ان کے لیے محض ادبی تجربہ نہیں بلکہ ان کی ذات کا ایک گہرا حصہ ہے۔
اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت اس کا شاعرانہ اور استعاراتی اسلوب ہے۔ شریعتی خشک فلسفیانہ زبان کے بجائے منظر، استعارے، سوال، تکرار اور جذباتی آہنگ کے ذریعے اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔ ’’کویر‘‘ میں مشرقی عرفان، اسلامی روایت اور غربی فلسفے و ادب کا ایک وسیع مکالمہ قائم ہوتا ہے۔
دشتِ تنہائی صرف ایک ترجمہ شدہ کتاب نہیں بلکہ تنہائی، خودشناسی اور روحانی جستجو کا ایک فکری و ادبی تجربہ بن جاتی ہے۔
محمد حمید شاہد




Reviews
There are no reviews yet.