Back Cover
Look Inside

Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی – علی شریعتی

Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی – علی شریعتی

یہ کتاب ان کے باطنی احساسات اور وجودیاتی سفر کا ایک گراں قدر ادبی شاہکار ہے۔ شریعتی نے اپنی تحریروں کو تین حصوں یعنی اسلامیات، اجتماعیات اور کویریات میں تقسیم کیا ہے۔ وہ خود کہتے تھے کہ اسلامیات ان کا فرض اور اجتماعیات ان کی ضرورت تھی، لیکن کویریات یعنی ’’کویر‘‘ ان کے دل کی آواز اور سچی محبت تھی۔

شریعتی نے روایتی علمی بحثوں سے ہٹ کر اپنی زندگی کے سوالوں، تمناؤں اور باطنی کشمکش کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔’’دشت تنہائی‘‘ شریعتی کو ایک انقلابی لیڈرسے زیادہ ایک حساس فلسفی اور ادیب کے روپ میں سامنے لاتی ہے۔ ناصر فاروق

Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی – علی شریعتی

یہ تصنیف شریعتی کی شخصیت کا ایک مختلف اور زیادہ باطنی رخ سامنے لاتی ہے۔ شریعتی کے لیے تنہائی کوئی محض منفی کیفیت نہیں بلکہ بیدار انسان کی ایک ضروری حالت ہے۔ جو شخص دنیا کی سطحی خوشیوں سے مطمئن نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر ایک یسی خلش محسوس کرتا ہے جو اسے حقیقت کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔

شریعتی بار بار اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ لکھنا درست ہے یا خاموش رہنا، بولنا مناسب ہے یا نہیں۔ ’’کویر‘‘ ان کے لیے محض ادبی تجربہ نہیں بلکہ ان کی ذات کا ایک گہرا حصہ ہے۔

اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت اس کا شاعرانہ اور استعاراتی اسلوب ہے۔ شریعتی خشک فلسفیانہ زبان کے بجائے منظر، استعارے، سوال، تکرار اور جذباتی آہنگ کے ذریعے اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔ ’’کویر‘‘ میں مشرقی عرفان، اسلامی روایت اور  غربی فلسفے و ادب کا ایک وسیع مکالمہ قائم ہوتا ہے۔

دشتِ تنہائی صرف ایک ترجمہ شدہ کتاب نہیں بلکہ تنہائی، خودشناسی اور روحانی جستجو کا ایک فکری و ادبی تجربہ بن جاتی ہے۔

محمد حمید شاہد

Weight 1 kg
Author

Nasir Farooq

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی – علی شریعتی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Editorial Review

Dasht-e-Tanhai دشت تنہائی - علی شریعتی

ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب ’’کویر‘‘ (دشت/صحرا) ان کے باطنی احساسات اور وجودیاتی سفر کا ایک گراں قدر ادبی شاہکار ہے۔ شریعتی نے اپنی تحریروں کو تین حصوں یعنی اسلامیات، اجتماعیات اور کویریات میں تقسیم کیا ہے۔ وہ خود کہتے تھے کہ اسلامیات ان کا فرض اور اجتماعیات ان کی ضرورت تھی، لیکن کویریات یعنی ’’کویر‘‘ ان کے دل کی آواز اور سچی محبت تھی۔

اس کتاب میں دشت کویر محض مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ انسان کی کائناتی تنہائی کا ایک گہرا استعارہ ہے۔ شریعتی مادی شہروں کی بناوٹ سے دور ہو کر صحرا کے سناٹے میں سکون اور حقیقت تلاش کرتے ہیں۔وہ انسان کے وجود، اس کی بے چینی اور خدا کے ساتھ اس کے گہرے روحانی تعلق پربات کرتے ہیں۔اس کی زبان نہایت خوبصورت، شاعرانہ اور دل کو چھو لینے والی ہے۔ شریعتی نے روایتی علمی بحثوں سے ہٹ کر اپنی زندگی کے سوالوں، تمناؤں اور باطنی کشمکش کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔’’دشت تنہائی‘‘ شریعتی کو ایک انقلابی لیڈرسے زیادہ ایک حساس فلسفی اور ادیب کے روپ میں سامنے لاتی ہے۔ ناصر فاروق