” مسجد اقصی مجھے بلا رہی ہے !”
کوئی ڈیڑھ سال پہلے جب میں نے اپنا عمرے کا سفرنامہ مکمل کیا تو آخری صفحے کی اس آخری لائن نے مجھے بری طرح چونکا دیا!
میں فی الحال تو ایسا کوئی پلان نہیں بنا رہی تھی کہ ایسا جملہ لکھتی!
کیا یہ قدرت کی طرف سے بھیجی جانے والی، میرے ایک اور مقدس سفر کی خوشخبری ہے؟
یا یہ کوئی ہدایت ہے؟
یا یہ کوئی حکم ہے؟
میں نے اس لائن کو کئی بار پڑھا۔ پھر ہاتھ میں پکڑی پنسل اپنی کتاب کے مسودے کے آخری صفحے پہ رکھی اور کئی منٹ تک گھر میں پھرتی رہی!
بالکل خالی الذہن !
مسجد اقصی کے حالات سے اچھی طرح آ گاہی ہونے کی وجہ سے میں جانتی تھی کہ ایک پاکستانی کے لئے بیت المقدس کی زیارت کرنے کے بارے میں سوچنا بھی ایک سنہرا خواب دیکھنے جیسا ہے!
بیت المقدس سے محبت اور اسرائیل سے نفرت تقریبا ہر پاکستانی کے خون میں شامل ہے۔ یہ وہ سچ ہے جس کا اظہار کرنے میں مجھے کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ اپنے فوجی آبا و اجدا د سے میں نے ہمیشہ قبلہء اول کی آزادی کے عزم و ولولے کا اظہار بھی سنا اور ہر جمعے اور عیدین کے ہر خطبے کے بعد مسجدوں میں فلسطین کی آزادی کے لئے گڑ گڑا گڑا گڑا کر کی جانے والی دعاؤں پہ آنسو ؤں میں ڈوبی آمین بھی کہی!
حقیقت یہ ہے کہ ایک پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ہمیں اسرائیل جانے کی اجازت ہی نہیں۔ ہمارا پاسپورٹ واضح طور پہ اعلان کرتا ہے کہ،
” یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ ہر ملک کے سفر کی اجازت دیتا ہے!”
لہذا ایسے میں یہ سوچنا بھی کہ میں فلسطین جاؤں اور بیت المقدس کی زیارت کروں، ایک خواب ہی تو تھا!
بھلا ہو میرے کینیڈین پاسپورٹ کا کہ جس کی بدولت میں اس مقدس سفر کی سعادت حاصل کر سکی!
میرے لئے یہ بالکل ایسا ہی معجزہ تھا کہ جیسے 2018 میں سعودی گورنمنٹ نے اچانک ہی یہ اجازت دے دی کہ عورتیں محرم کے بغیر عمرہ کرنے آ سکتی ہیں۔ اللہ سوہنے نے ا یسا سبب کیا کہ میں اس اجازت کے چند ہی ہفتوں کے بعد عمرے کی سعادت حاصل کرنے چلی گئی اور رمضان 2018 کا آخری عشرہ پورے خشوع و خضوع سے عمرے بھی کئے، رسول اللہﷺ کے روزے کی زیارت بھی کی، مسجد نبویﷺ میں نوافل بھی ادا کئے اور باقی اہم مقامات بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکی!
اس مبارک سفر کا تمام احوال میں اپنے گذشتہ سفرنامے ” اللہ سوہنے میں حاضر ہوں” میں بیان کر چکی ہوں!
الحمد للہ رب العالمین !
سپین کے شہر قرطبہ میں واقع “مسجد قرطبہ” (جسے اب ایک چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے) کی محراب کے سامنے، آنسو بھری آنکھوں سے امت مسلمہ کے لئے دعائیں کرتے ہوئے “بیت المقدس ” کے سفر کا شگوفہ ایسی شدت سے میرے دل میں کھلا کہ اس نے میری روح کو انتہائی مُضطرب کر دیا۔ چند دنوں میں مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے اب احاطہ ء بیت المقدس میں حاضری دینا اور نبیوں کی مقدس سرزمین پہ سجدے کرنا ہی میری زندگی کا واحد مقصد ہے اور باقی ساری دنیا کہیں پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اب میرا اس خواہش کے پورا ہونے تک اس سے کنارہ کرنا ممکن ہی نہ تھا۔
” فلسطین کے حالات خراب ہیں!”
یہ جملہ میں نے ہوش سنبھالتے ہی سنا تھا۔ سکول اور کالج میں “یوم یک جہتئ فلسطین” پہ تقریریں لکھتے اور کرتے ہوئے اس دکھ کو اپنی روح پہ محسوس کیا تھا کہ ہمارا قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں ہے!
اب جب کہ میں اپنی زندگی کی کئی بہاریں اور خزائیں دیکھ چکی ہوں، یہ دکھ آج بھی ویسا ہی ہرا بھرا ہے لہذا حسب عادت کسی سے کچھ کہے سنے بغیر میں نے اللہ سوہنے سے التجا کی کہ،
” یا اللہ سوہنے میری مدد کر کہ تجھ سے بہتر مدد کرنے والا کوئی نہیں!”
اللہ سوہنے نے اپنے محبوب پاک حضرت محمد مصطفیﷺ کے صدقے میری التجائیں سنیں ۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود میں ناصرف نبیوں کی مقدس سرزمین کا سفر کر سکی بلکہ مسجد اقصی سمیت نبیوں کے مقامات پہ اور مساجد میں سجدوں گر کرقبلہ اول کی آزادی، فلسطین اور فلسطینیوں کے لئے دعائیں مانگ سکی!
آج، اپریل 2023 میں، اس سفرنامے کے آخری ابواب پہ کام کرتے ہوئے میں فلسطین میں واقع “جیل خانہء غزہ” یعنی اس دنیا کی سب سے بڑی جیل کے اندر ہونے والے لرزہ خیز واقعات پہ شدید دکھی ہوں!
اس وقت غزہ کے اندر آباد فلسطینی مسلمانوں کی اکثریت نوجوانوں پہ مشتمل ہے۔ یہ وہ نسل ہے کہ جس نے حقیقتاً اپنے لوگوں کو صرف اس لئے شہید ہوتے دیکھا ہے کہ وہ اپنے اجداد کے گھروں اور نبیوں کی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو اندر ہی اندر ایک لاوے کی طرح پک رہی ہے۔ اسرائیلیوں کے خلاف ان نوجوانوں کی آنکھوں سے جھلکتی نفرت اور غصہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آئے روز اسرائیل کے ظالم فوجیوں کی مسجد اقصی کی بے حرمتی، معصوم فلسطینیوں کی شہادتیں اور امت مسلمہ کی بے حسی کی خبریں میری روح کو زخمی کرتی ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ آخر اس جبر مسلسل کا انجام کیا ہوگا؟
جس دن آزادی کے متوالوں کو موقع ملا وہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ان ظالموں پہ چڑھ دوڑیں گے!
پھر آپ انہیں دلیر کہیں یا دہشت گرد، انہیں کچھ فرق پڑنے والا نہیں!
میں سوچتی ہوں کہ کیا ا ُس وقت انسانیت کے علمبردار، مظلوم فلسطینیوں کے اس عملی ردعمل پہ اُن کو حق بجانب سمجھیں گے یا اپنے لاڈلے اسرائیل کے چند لوگوں کے مارے جانے پہ دنیا بھر میں واویلا کرتے پھریں گے؟
میں سوچتی ہوں کہ کیا ایک بار پھر ہم اس دنیا کی منافقت کا پردہ چاک ہوتے ہوئے دیکھیں گے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پوری ڈھٹائی سے نظر انداز کرتے ہوئے، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیتی ہے؟
میں سوچتی ہوں کہ جب یہ دنیا یوکرین کے لوگوں اور ان کی حکومت کو مظلوم سمجھتے ہوئے اپنی ساری طاقت حملہ آور روس کو ظالم سمجھتے ہوئے اس کو کچلنے پہ خرچ کر دے گی تو اس دنیا میں انصاف قائم ہو جائے گا ؟
میں سوچتی ہوں کہ کیا اس دنیا میں انسانیت کے میعار صرف اپنے ایجنڈوں اور سیاسی مُفادات کو پیش نظر رکھ کر ہی بنائے جاتے رہیں گے؟
کیا یہ دنیا مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے کسی بھی حد تک چلی جائے گی اور جب مسلمان ردعمل کا مظاہرہ کریں گے تو دہشت گرد قرار پائیں گے؟
یہ دنیا شائد بھول گئی ہے کہ،
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اُتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے!
اللہ اکبر !
آج یہ سفرنامہ آپ کے ہاتھ میں ہے !
یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ آج نہ تو سچ کو بہت دیر تک جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے چھپایا جا سکتا ہے۔
میری آنکھوں سے اس مقدس سرزمین کی زیارت کریں۔ وہاں ہونے والے مظالم کے عینی شاہد بنیں اور اللہ سوہنے سے فلسطین کی آزادی اور فلسطینیوں کے حق میں دعا کریں!
ثمینہ تبسم
برامپٹن، اونٹاریو، کینیڈا






Reviews
There are no reviews yet.