Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی
Mir Afsar Ibrahim
زیر نظر کتاب میںاحمدفراز کے انٹرویوزکے ذریعہ ہمیں ان کی زندگی کے بہت سے مخفی گوشوں کے بارے میں واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ یہاں ہماری ملاقات ایک ایسے فراز سے ہوتی ہے جو آمریت کا سخت مخالف تھا۔ وہ ہمیشہ سچ کے لیے لڑتا رہا اور اپنی شاعری میں ان پہلوؤں کو پیش کیا جن کا واسطہ عوامی بیداری اور انقلابی فکرسے تھا۔ اپنی زندگی بھر کے تجربات کو فراز خود نوشت ’حسابِ جاں‘ میں پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی عمر نے وفا نہ کی۔ ان انٹرویوز کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ جب فراز جلا وطنی کے دوران لندن میں مقیم تھے تو فیض احمد فیض کی زندگی پر فلم بنانا چاہتے تھے لیکن فیض کی بیٹیوںنے مداخلت کر اس فلم کو رکوا دیا۔ فراز کی خود ساختہ جلا وطنی کے وجہ سے ان کی مختلف جہتیں منظر عام پر آئیں۔ انہیں افریقی ممالک کا دورہ کرنے کا موقع ملا، افریقی شاعروں کی نظموں اور غزلوں کے تراجم کیے۔ بین الاقوامی ادیبوں کی کانفرنسوں میں شرکت کرنے کا مواقع ملے۔
احمد فراز کے انٹرویو مجھے رسائل و جرائد کے علاوہ You Tubeاور انٹرنیٹ پر دستیاب ہوئے۔اس طرح 21انٹرویو زاس کتاب میں شامل ہیں۔ فراز نے اپنے انٹرویوز میںبہت سی باتوں کا خلاصہ جذباتی طور پر کیا اور بعض باتوں کو پڑھ کر ہمار ا روم روم کانپ اٹھتا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ فراز کے یہ انٹرویوز قارئین اور ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کریں گے۔مرتب





Reviews
There are no reviews yet.