Wirasat وراثت (افسانے)

Wirasat وراثت (افسانے)

 

Wirasat وراثت (افسانے)

میں نے یہ پہلے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہر روز ایک نئی صبح کو جنم دینے کے لیے رات کو تاریکی کی کوکھ میں ایک اندھا سفر کرنا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر نئی صبح کی روشن لکیر اندھیروں کو چیرتی ہوئی جنم لیتی ہے۔ لوگ ایک لمبی نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور اس نئی روشنی کا استقبال نئی امنگ اور شکر کے ساتھ کرتے ہیں۔

جیسے جیسے روشنی بڑھتی جاتی ہے، سب اپنے اپنے کاموں میں یوں جٹ جاتے ہیں جیسے پرندے اپنی لمبی اڑان کے لیے پہلے صبح کے ستارے کا انتظار کرتے ہوں، پھر روشنی بڑھتے ہی اپنے ٹھکانوں سے اڑ جاتے ہوں۔

یہاں وہاں اڑتے اڑاتے، پورے دن کی مسافت کے بعد، وہ بھی انسانوں ہی کی طرح اپنے اپنے ٹھکانوں پر لوٹ آیا کرتے ہیں۔ روز کی طرح اپنے گھونسلوں کو جیسا چھوڑ کر جاتے ہیں ویسا ہی پا لیتے ہیں۔

ایسے ہی انسان بھی اپنے گھروں کو سلامت لوٹ آیا کرتے تھے۔

یہ شاید خوابوں کی باتیں تھیں۔۔۔ یا پھر اچھے وقتوں کی۔

واقعی، اب ایسی باتیں اچھے وقتوں ہی کی لگا کرتی تھیں، جب دنیا میں بھروسے اور اعتبار کا رواج تھا۔ زبان کی وقعت لکھت پڑھت سے کہیں زیادہ تھی۔ لوگ انسان کو مارنا تو درکنار، چیونٹی کو بھی مسلتے ہوئے سو بار اللہ کے غضب سے ڈرتے تھے۔

نہیں جانتی کہ اچھے وقتوں کو جانے کب پر لگ گئے۔ ایسے اڑے، جیسے کبھی آئے ہی نہ تھے۔

شاید “ہمارے جواب” اور “ہمارے اچھے وقت” اسی وقت کھو گئے تھے جب ہم نے ہدایت کے لیے آسمانی علم کو جزدان میں لپیٹ کر، احتیاط سے گھر کی سب سے اونچی شیلف پر سجا دیا تھا۔۔۔ جب عبادت محبت سے اور محبت عمل سے اپنا راستہ الگ کر چکی تھی۔۔۔ عید تہواروں میں چھپا اللہ کا پیغام بھلا دیا تھا۔۔۔ علم سیکھنے کے لیے اپنی کتابیں کھولنا اور اپنے بزرگوں سے صلاح لینا بند کر دیا تھا۔۔۔ اپنے اسلاف جیسا ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

آہ! انسان تو انسان، اب پرندوں کے بھی گھونسلے نہ رہے تھے۔ صبح جیسا چھوڑ جاتے تھے، واپسی پر کبھی ویسا نہیں پاتے تھے۔یہ کیسی وحشت اور دہشت ہے، جس سے آج ہر مذہب اور ہر نسل متاثر ہے۔

سچ پوچھیے تو یہ بڑی اذیت کا وقت ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ وراثت میں نئی نسل کو خود غرضی، مفاد پرستی اور زر پرستی منتقل کر رہے ہیں۔ جانے کیوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مایوسیاں بڑھ رہی ہیں۔۔۔ تیز روشنیوں میں تاریکیاں پل رہی ہیں۔۔۔ پھر بھی میرا یقین کہتا ہے کہ یہی وقت دعا کا بھی ہے اور خود سے اپنی غلطیوں کے اعتراف کا بھی۔

مجھے کیوں لگتا ہے کہ مصنوعی قہقہوں کی اس دنیا میں کہیں نہ کہیں کئی دل دار آنکھیں ہیں، جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں۔ ان کے پاک آنسو اپنے رب سے دنیا کا امن اور ایمان کی سلامتی مانگتے ہیں۔مجھے لگا جیسے میرے ابا جی نے ہم سب سے ابھی ابھی کہا ہو، “ہمیشہ یاد رکھنا، ہمارا دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔۔۔ دین سے کبھی باہر مت جانا۔۔۔ سکھ سکون چلا جائے گا۔”

اس یقین میں جانے کیسا سحر ہے کہ میری نم آنکھیں بھی ہنس پڑی ہیں۔ میری امیدیں۔۔۔ مایوس شب کی تاریک کوکھ کے اندھیروں کو چیرتی ہوئی، ایک تازہ حوصلے کے ساتھ نیا جنم لے رہی ہیں اور پرندوں کی طرح ایک نیا سفر شروع کر رہی ہیں۔

یہی میری وراثت ہے۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Wirasat وراثت (افسانے)”

Your email address will not be published. Required fields are marked *