Cannibals and Kings Book

Cannibals and Kings Book

Cannibals and Kings تمدنوں کی اصل

مصنف مارون ہیریس معروف امریکی ماہرِ بشریات اور سماجی مفکر تھے جنہوں نے انسانی تہذیب، ثقافت، جنگ، مذہب اور معاشرتی ارتقا پر گہرا کام کیا۔ ان کی تحریروں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ تاریخی اور سماجی موضوعات کو سادہ مگر فکر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ Cannibals and Kings اُن کی نمایاں تصانیف میں شمار ہوتی ہے جس میں تہذیب کے ارتقا کو ایک منفرد زاویۂ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

“A provocative book… a tool for fighting back against the tools that run our lives.” —- Dallas Morning News

The Surrender of Culture to Technology

یعنی ثقافت کا ٹیکنالوجی کے آگے ہتھیار ڈال دینا۔۔۔ نیل پوسٹمین (Neil Postman) کی 1992 میں شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے انسانی معاشروں پر اثرات کے بارے میں تنقیدی اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتی ہے۔

یہ کتاب آج 2026 میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ سوالات اور خدشات جو پوسٹمین نے 1992 میں پیش کیےتھے، اب ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ذیل میں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب آج کے دور میں بھی غیر معمولی معنویت اور اہمیت رکھتی ہے:AI اور Automation کا غلبہ

پوسٹمین کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری پالیسی، صحت، مالیات، تعلیم میں الگورتھمز مستقل فیصلے کر رہے ہیں۔ انسانوں کے بجائے مشینوں کی ریٹنگ، اسکور اور ڈیٹا پر اعتماد بڑھ چکا ہے۔پوسٹمین نے خبردار کیا تھا کہ ٹیکنوپلی میں ٹیکنالوجی ’حقیقت‘ اور’سچائی‘ کو define کرنے لگتی ہے۔یہ آج کی AI- دنیا کی مکمل تصویر ہے۔

ڈیٹا نیا دیوتا بن چکا ہے

پوسٹمین کا خیال تھا کہ ٹیکنوپلی میں:’معلومات اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ معنی کھوجاتے ہیں‘۔ آج Big Dataہر جگہ موجود ہےہر چیز “برانڈ اسکور” اور “اینالیٹکس” سے چل رہی ہے۔ نجی زندگی ڈیٹا کی شکل میں کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی معلومات بڑھ چڑھ کر انسانی آزادی اور خود مختاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

سوشل میڈیا اور Attention Economy نے انسان کو صارف بنادیا ہے

پوسٹمین نے جس “تکنیکی ثقافت ” سے خبردار کیا تھا، وہ آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے:TikTok، Reels، Short کی وجہ سے انسانی تعلقات میں توجہ کا بحران شدید ترین ہوچکا ہے۔ الگورتھمز رائے عامہ بنا رہے ہیں۔جھوٹی خبریں معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں۔لوگ اصل تعلقات کے بجائے اسکرین تعلقات میں قید ہیں۔ یہ سب پوسٹمین کے اس خیال کی تصدیق ہے کہ ٹیکنوپلی انسانی شعور پر قبضہ کر لیتا ہے، اسے مفلوج کردیتا ہے۔

تعلیم کا مقصد مشینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھل رہا ہے

بچوں کو coding، STEM اور ہنر تو سکھایا جا رہا ہےمگر اخلاقیات، فلسفہ، اور انسانی سائنسز نظر انداز ہو رہی ہیں۔تعلیمی عمل ’’سافٹ ویئر + ٹیسٹنگ‘‘ کی مشین بن چکا ہے۔یہ وہی چیز ہے جسے پوسٹمین نے تعلیم کی تکنیکی غلامی کہا تھا۔

Meaning Crisisمعنی کا بحران

زندگی کا مقصد دھندلا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی شناخت کا زوال، روحانی و اخلاقی پیغام کا کمزور ہونا،ٹیکنالوجی نے سب کچھ آسان تو کر دیا، لیکن زندگی زیادہ بے معنٰی، بے ربط اور بے سمت دکھائی دینے لگی ہے۔پوسٹمین نے کہا تھا:”ٹیکنوپلی ثقافت سے معنی چھین لیتی ہے اور اسے کارکردگی سے بدل دیتی ہے۔”آج یہ بات حقیقت بن چکی ہے۔

انسان بمقابلہ مشین

آج ہم ان سوالات کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں:کیا مشینیں اخلاقی فیصلے کر سکتی ہیں؟کیا AI کو انسانی حقوق جیسے حقوق ملنے چاہئیں؟اگر الگورتھم غلط فیصلہ کرے تو ذمہ داری کس کی ہے؟پوسٹمین نے یہی بتایا تھا کہ ٹیکنوپلی (ٹیکنالوجی زدہ سماج ) میں فیصلوں کا مرکز انسان نہیں رہتا، ٹیکنالوجی بن جاتی ہے۔ یہ کتاب آج کے دور کا آئینہ ہے۔ اس لئے آج زیادہ اہم ہے، کہ یہ محض ٹیکنالوجی پر تنقید نہیں بلکہ یہ ہمیںیہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کا مالک ہے، غلام نہیں۔ اقدار، اخلاقیات، اور معنی سب سے اہم ہیں۔ ٹیکنالوجی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انسانیت کی حفاظت ایک لازمی فریضہ ہے۔یہ کتاب آج سماجی بقا، فکری آزادی اور انسانی شناخت کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ضرورت بن چکی ہے۔

یہ محض ایک کتاب کا ترجمہ نہیں، بلکہ مغرب میں جدید ٹیکنالوجی کے سماجی، اخلاقی اور فکری مباحث کو اردو بولنے والے معاشروں تک پہنچانا ہے۔اردو معاشروں میں ٹیکنالوجی پر تنقیدی سوچ کم پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ لوگوں میں سوال اٹھانے کی قوت پیدا کرتا ہے کہ: ٹیکنالوجی ہمیں کن بنیادوں پر بدل رہی ہے؟ ہماری اقدار اور سماجی ڈھانچے پر اس کے کیا اثرات ہیں؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا اس کے تابع؟

درحقیقت ٹیکنالوجی کی ethics پر گفتگو کم ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی کی آگاہی نہیں۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا سیاسی انتشار پیدا کر رہا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ پوسٹمین نے جو باتیں 1992 میں کہیں، وہ آج ہمارے خطے میں پوری شدت سے نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ ترجمہ صرف علمی نہیں، بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی طور پر بھی بہت اہم ہے۔

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Iqbal by Ali Khamenei

Iqbal by Ali Khamenei اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

Iqbal by Ali Khamenei

اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

’’اقبال: مشرق کا ستارہ‘‘ اُس فکری روشنی کا بیان ہے جس نے بیسویں صدی کے جمود کو توڑ کر مشرق کی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کی فکر وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جس کی بازگشت علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے افکار کی تفہیم اور انہیں نئی نسل تک پہنچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو مشرق کے علمی و روحانی احیاء کا خواہشمند ہے۔ زیرِ نظر تقریر کا ترجمہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ترجمے کے دوران نہ صرف لفظی معنویت برقرار رہے، بلکہ وہ لب ولہجہ بھی منتقل ہوجائے، جس کی تاثیر لفظوں سے بڑھ کر ہے۔ سید علی خامنہ ای صاحب کی اس تقریر کا اہم ترین پہلو علامہ اقبال کی فارسی شاعری اور ایرانی شعور کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ وہ اقبال کوروحانی پیشوا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خامنہ ای انقلاب ایران کے روح رواں ہیں، اور اُن کا ایرانی مفکرین پر گہرا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے جس ’خودی‘ اور ’حریت‘ کا درس دیا، اس نے ایرانیوں کے اندر سوئے ہوئے اس انقلابی جذبے کو بیدار کیا۔ ایرانی دانشوروں، بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں اقبال کا تذکرہ اس قدر کثرت سے ملتا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایران کا فکری انقلاب اقبال کے’لا الہ‘ کی گونج کے بغیر ادھورا تھا۔ علی شریعتی نے تو اقبال کو ’’مصلح قرن آخر‘‘ قرار دیا۔ اقبال نے ایرانی قوم کو ان کی ساسانی یا نسلی پہچان کے بجائے ان کی ’’اسلامی شناخت‘‘ سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مشرق کی نجات مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں کی طرف واپسی میں ہے۔ اس کتاب میں یہ نکتہ تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک ’ستارۂ مشرق‘ نے اپنی فارسی زبان کے اثر سے سرحدوں کی قید توڑ کر تہران کے گلی کوچوں میں آزادی کا چراغ روشن کیا۔

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Kothri Number 14

Kothri Number 14

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) ایک منفرد اردو ناول ہے جو انسانی نفسیات، سماجی رویوں، زندگی کی پیچیدگیوں اور جذباتی کشمکش کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ اگر آپ ایسے ناول پسند کرتے ہیں جو صرف کہانی سنانے تک محدود نہ ہوں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کریں، تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔

Emel.com.pk پر آپ Urdu Books، Literature Books، Urdu Novels اور Fiction Books کی مزید بہترین کتب بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک یادگار اور فکر انگیز کہانی

کوٹھری نمبر 14 اپنی دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی پس منظر کی وجہ سے اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ناول کے واقعات قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، جبکہ ہر باب انسانی فطرت، تعلقات اور معاشرتی حقائق کے نئے پہلو سامنے لاتا ہے۔

یہ کتاب صرف تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ قاری کو زندگی، انصاف، امید، خوف، تنہائی اور انسانی رویوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے عام ناولوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اس کتاب میں کیا پڑھنے کو ملے گا؟

  • دلچسپ اور سنسنی خیز کہانی
  • انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ
  • معاشرتی مسائل کی عکاسی
  • حقیقت سے قریب کردار
  • جذباتی اور فکری مکالمے
  • اردو ادب کا خوبصورت اسلوب
  • آخر تک دلچسپی برقرار رکھنے والا بیانیہ

یہ کتاب کیوں پڑھیں؟

Kothri Number 14 ان قارئین کے لیے بہترین انتخاب ہے جو معیاری اردو ادب، مضبوط کہانی اور گہرے موضوعات پر مبنی ناول پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے کردار اور واقعات قاری کو صرف محظوظ ہی نہیں کرتے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ اردو فکشن اور سماجی ناولوں کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کی ذاتی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے موزوں ہے؟

  • اردو ناول پڑھنے والے قارئین
  • ادب کے طلبہ
  • اساتذہ اور محققین
  • فکشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد
  • پاکستانی ادب کے شائقین
  • بک کلب کے اراکین
  • نوجوان اور بالغ قارئین

مزید مطالعہ

اگر آپ اردو ادب اور ناولوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو Bookstree.pk پر موجود دیگر اردو ناول، ادبی کتابیں اور فکشن کی کتب بھی ضرور ملاحظہ کریں۔ اگر آپ فکری اور ادبی مطالعہ پسند کرتے ہیں تو Tehzeeb ki Qirat، Cannibals and Kings اور Technopoly بھی دلچسپ انتخاب ہو سکتی ہیں۔

Emel.com.pk پر موجود History Books، Self Help Books، Educational Books اور Islamic Books بھی ضرور دیکھیں۔

مزید معلومات

کتاب کی جھلک

  • عنوان: Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)
  • موضوع: اردو ناول
  • زبان: اردو
  • قسم: فکشن / ادبی ناول
  • موزوں برائے: اردو ادب اور معیاری ناولوں کے شائقین

اگر آپ ایک ایسا اردو ناول تلاش کر رہے ہیں جو دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی و نفسیاتی موضوعات پر مبنی ہو تو Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) آپ کے مطالعے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ آج ہی اپنی کاپی Emel.com.pk سے آرڈر کریں اور ایک یادگار ادبی تجربے سے لطف اندوز ہوں۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah

Written in the 14th century amid the solitude of a North African fortress, Ibn Khaldun’s Muqaddimah stands as one of the most original and far-reaching inquiries into the dynamics of human civilization.

Far more than a mere prologue to history, it probes the underlying forces that shape collective life, showing how societies rise through cohesion and justice, flourish through labor, learning, and sound governance, and decline through corruption, luxury, and moral decay.

‘A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah’ offers a clear and thoughtful engagement with Ibn Khaldun’s abiding perception, illuminating the moral rhythms that govern the rise and fall of nations, economies, and cultures. In an age of rapid change and uncertainty, Ibn Khaldun’s insights continue to speak with lasting wisdom and urgency.

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر

Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر

The Glass Menagerie by Tennessee Williams

کانچ کا گھر

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے

Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے

 2,400
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

Buy Now

 

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر

A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر

تین ایکٹ کا یہ کھیل پہلی مرتبہ 21 دسمبر 1879 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک کے رائل تھیٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل میں اس وقت کی نارویجئین شادی شدہ خواتین کا بیان کیا گیا ہے جنہیں اپنے فیصلوں میں خودمختاری حاصل نہ تھی۔ اگرچہ ابسن نے متعدد مرتبہ اس رائے کی تردید کی کہ یہ کھیل جدید حقوق نسواں کا علمبردار ہے، تاہم اس کھیل نے اپنی پیش کش کےساتھ ہی چاروں جانب کھلبلی مچا دی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب چرچا رہا۔

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

The Enemy of the People سماج دشمن

The Enemy of the People سماج دشمن

یہ کھیل 1882 میں قلم بند کیا گیا جو انیسویں صدی کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں معاشرتی منافقت پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ایک تلخ سماجی حقیقت کو افشا کرتا ہے اور اس کی سزا پاتا ہے۔ اس کھیل کے بارے میں ابسن اپنے پبلشر کو ایک خط میں لکھتا ہے، “میں اب بھی تذبذب کا شکار ہوں کہ اس کھیل کو ڈرامہ کہوں یا کامیڈی۔۔۔ اگرچہ اس کھیل میں طنزیہ کامیڈی کے عناصر ہیں لیکن اس کا ڈھانچہ ایک سنجیدہ تخیل پر کھڑا ہے۔”

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر

Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر

یہ کھیل پہلی مرتبہ 31 جنوری 1891 کو میونخ میں ابسن کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔ اس کھیل کو ادبی حقیقت پسندی، انیسویں صدی کے تھیٹر اور عالمی تھیٹر تحریک میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔ ایک نامی گرامی جنرل کی بیٹی، ہیڈا گابلر، خود کو ایک بے کیف شادی اور اور ایک بے زار گھریلو زندگی میں مقیّد پاتی ہے۔ ہیڈا گابلر کا مرکزی کردار عالمی تھیٹر کے ایک نمایاں کردار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناقدین نے ہیڈا گابلر کو ہیملٹ کا نسوانی روپ قرار دیا ہے۔

تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو

Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو

صمد بہرنگی کی کہانیاں ترجمہ کرنا صرف الفاظ کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا کام ہی نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا ادبی سفر ہے جس میں سیکھنے کے کئی مقام آتے ہیں۔ زبان و بیان کی بل کھاتی سڑک ہو یا پھر ذخیرۂ الفاظ کا گھنا جنگل، تشبیہ و استعارات کا ایک بوستان ہو یا پھر بیانیے کی بہتی ندیا، یا کہ داستان گوئی کا دریا ہو جس کے کنارے اپنی کہانی کی کشتی لگانی ہو۔ اس ادبی سفر میں آپ کو سب ملے گا۔ ان کی کہانیوں میں سے ثقافت، پرجوش اور ہوش مند انقلابی سوچ، ترقی پسند بیانیہ، ظلم کے خلاف آہنی دیوار بننے کا درس یہ سب ترجمہ کرتے وقت میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھا کی۔ کہ میرے حصے میں وہ ادیب آیا جو کہانی کے بہانے جانے کب آنسو بہا لیتا تھا اور کب چُٹکی بجا کر ہنس و ہنسا لیتا تھا، کم ہی یہ راز جان پائے۔ ان کا قلم لکھتا نہیں، گاتا تھا۔ بلکہ بانسری بجاتا تھا۔ درد و الم کی بانسری۔ جو ظالم کے خلاف بجائی جاتی تھی مگر اس کی لے پر جھومتا وہ بھی تھا۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now

 900
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی

Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی

ترک ادبیات میں، بطور مترجم، صمد بہرنگی کی اس چھوٹی سی کتاب سے بڑے اورضخیم کام میری توجہ کے طالب تھے۔ مگر بطور ایک قاریہ کے میرے لئے بچپن کی یادوں کو سمیٹے ہوئے اس کہانی کا ترجمہ اکساتا تھا۔
یہ ہر زاویے سے ایک مختلف کہانی ہے۔ آپ اسے مزاحمتی، انقلابی یا محبت و محنت، تجسس اور کوشش کی کسی بھی چیز کی کہانی سمجھ کر پڑھنا چاہیں۔ یہ آپ پر اپنا وہی پہلو کھولے گی۔ اور آپ کو بڑے یا چھوٹے ہوتے ہوئے احساس بھی نہ ہوگا کہ یہ کہانی آپ کی عمر کے لئے نہیں لکھی گئی۔ اس کہانی میں ہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ ہے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر کہیں نہ کہیں چھوٹی کالی مچھلی بستی ہے۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now

 900
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی

Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی

یہ کتاب اسلام یا کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کسی علم الٰہیات یا مذہبی نظریہ پر بھی مبنی نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کے بارے میں ہے، جو اسلام کی رہنمائی میں تشکیل پائی۔
مائیکل ہملٹن مورگن

یہ کتاب، جس کا مقصد ان کہی کہانیاں سنانا ہے، یہ نہ صرف اسلام کی ثقافتی اور علمی تاریخ کے لٹریچر میں عمدہ اضافہ ہے بلکہ مغرب سے اس کے علمی تعلق کا محقق بیان بھی ہے۔ اسلامی تہذیب کی اکثرکامرانیاں اور ان کا مغربی تہذیب سے گہرا تعلق اکادمی جریدوں تک محدود ہے۔ مزید برآں، بہت سے دستیاب کام تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

یہ کام مغرب والوں کو اسلام کے بارے میں جاننے میں مدد دے گا، اور انہیں یہ سمجھنے میں معاون ہوگا کہ جس طرح ہمارا ماضی علمی اور تعمیری فکروتحقیق سے جڑا ہوا ہے، ہمارا مستقبل بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اسلام کی تہذیبی اور فکری کامیابیاں یورپ کے لیے نامعلوم نہ تھیں، اور درحقیقت یہودی اور عیسائی فلسفیوں، سائنس دانوں، شاعروں، موسیقاروں، حتیٰ کہ ماہرینِ الہٰیات نے بھی اپنے مسلمان ہم عصروں کی کامیابیوں سے کافی استفادہ کیا۔
شاہ اردن عبد اللہ دوم

کتاب ’’تاریخ گُم گَشتہ‘‘ بہت اہم کتاب ہے۔ تاریخ کے وہ گُمَشدہ ابواب اس میں شامل کیے گئے ہیں ، جو اب تک بڑی تعداد میں یورپ کے کتب خانوں میں نامعلوم رہے ہیں۔
مائیکل ہیملٹن مورگن نے ان گُم شدہ ابواب سے علم کے چند موتی ہمارے لیے ایک لڑی میں پرودیے ہیں ۔ اسی اہمیت کے سبب اس کتاب کا خلاصہ اور ترجمہ کیا گیاہے۔
ناصر فاروق – مترجم
Buy Now

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور

Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور

فہرست

تعارف:  تہذیبِ تصور۔۔۔ آج؟

طریقہ تحقیق

ارتقا سے انحطاط تک

انسان پرستی کا تنازع

 

باب اول

جدیدیت سے پہلے کے بیانیے

عبرانی روایت’ تصور

قصہ آدم(علیہ السلام): مسئلہ خیروشر(YESTER)

عبرانی روایت۔ نفس کشی کا رستہ

راہ عمل

آدمی کا خیر وشراور تاریخ

 

ضمیمہ

خدا کی صورت پر مباحث

خدا کی صورت پر؟ عہد نامہ قدیم وجدید کی تشریحات

عہد نامہ قدیم کے ذرائع

عہد نامہ جدید کی تشریحات

 

 

دوسرا باب

یونانی ’’تصور‘‘

پرومیتھین دیومالا: تخلیق کاری

افلاطون کا ’’تصور‘‘

افلاطون کی ماوراالطبیعات

افلاطون کا ایک مخمصہ

 

 

تیسرا باب

آگسٹن، فلاطینوس، اور ازمنہ وسطی کا نظریہ تصور

تشریحات

رچرڈ سینٹ آف وکٹر

سینٹ بونا وینچیو

اکوئینس

ازمنہ وسطٰی میں تصویرکشی اوربت شکنی

 

 

تتمہ اول

ازمنہ وسطٰی میں ’وجود‘ کی ’پیشکش‘ کا وجودیاتی الٰہیاتی نظریہ

تتمہ دوم

فیلاکسینس آف ماباگ

تتمہ سوم

’تصور ‘پر موسٰی بن میمون کی رائے

 

چوتھا باب

جدید بیانیے

ماورائی تصور

کوپرنیکن انقلاب

عبوری تحریکیں

نشاۃ ثانیہ کی تحریک تصوف

ڈیکارٹ کا فلسفہ

تجربیت

کانٹ اور ماورائی تصور

کانٹ کی جمالیات

جمال سے جلال تک

جرمن مثالیت پسندی، فشٹے اور شیلنگ

رومانیت پسند تحریک

لب لباب: تصور کی پسپائی

 

تتمہ

کانٹین تصور۔۔۔ ہائیڈیگرکی تشریح

 

 

پانچواں باب

وجودی ’’تصور‘‘

کئیرکیگارڈ اورنٹشے

مثبت تنقید کا کلچر

کیئر کیگارڈ

بہترین آدمی

پرومیتیئھن پروجیکٹ

نٹشے

 

 

چھٹا باب

وجودی تصور دوئم

سارتر

البرٹ کامیو

ہائیڈگر

سارتراور تصورکی نفی

خودفریب ذہن کی صورتیں

پگمیلین Pygmalion

نارسیسس Narcissus

اعصابی خلل

وجودیاتی اطلاقات

انسان پرستی کا دوبارہ جائزہ

اخلاقیات کا سوال

ادب کا سوال

تاریخ کا سوال

اختتام

 

 

 

تصور کے بعد۔۔۔؟

 

ما بعد جدید بیانیے

تیسرا حصہ

ساتواں باب

بہروپیہ تصور

لاکاں: تصوریت کا انہدام

آلتوسے: تصور ایک باطل شعور ہے

فوکو: آدمی کا اختتام

رولاں بارت: تصنفیی تصور کی موت

دریدا: نقل در نقل کا نہ رکنے والا سلسلہ

اصل کے بغیر نقل

نہ ختم ہونے والا بحران

 

 

باب آٹھ

مابعد جدید ثقافت: مکمل تباہی؟

  1. (Pynchon)

امیجنیشن ڈیڈ امیجن (بیکیٹ)

جنجر اینڈ فریڈ (فیلنی)

پیرس، ٹیکساس (وینڈرز)

لی میگاسین ڈی بین (واٹیئر)

زندہ فن پاروں کا محل

 

تتمہ: پوسٹ ماڈرن آرٹ، فن تعمیر اور موسیقی پر کچھ اضافی تبصرے

مابعد جدید آرٹ

پوسٹ ماڈرن فن تعمیر پر پاولو پورٹوگیزی کے خیالات

فریڈرک جیمسن کا نکتہ نظر

ما بعد جدیدیت اور موسیقی

موسیقی کی سنجیدہ اور تجارتی شکلوں کا ملاپ

معاصر پاپ موسیقی میں پوسٹ ماڈرن خصوصیات

 

 

اختتام

تصور کے بعد؟

ایک اخلاقی تصورکی جانب بڑھتے ہوئے

شاعرانہ تخیل کی جانب بڑھتے ہوئے

مزاحمت کی حکمت عملی

تشریحی کام

تاریخی کام

بیانیے کا کام

پوسٹ ماڈرن تخیل کے چیلنجز

بعد ازاں

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

پروفیسرہسٹن اسمتھ، پروفیسرجارج صلیبا، پروفیسرسچیکو مراتا، اور ڈاکٹر موریس بوکائلے امریکا،فرانس،چین، اور مشرق وسطٰی میں علمی حلقوں کے معتبرنام ہیں۔ یہ کتاب ’آدمی کا علم‘ ان اسکالرز کے مقالات اورمضامین کے ترجمہ پہ مشتمل ہے۔ ان کی خاص بات موضوعات پرمنفرد ، معیاری، اورمدلل تحقیق ہے۔ کتاب میںشامل جناب افتخار حیدر اورڈاکٹر غلام شبیرکے مضامین بھی عمدہ تحقیقی کاوش ہیں، جنہیں مؤقرانگریزی روزنامہ ڈان میں شایع کیا گیا۔

اس تالیف کا مقصد ازمنہ وسطٰی سائنس، جدید سائنس، جدیدیت، اور ما بعد جدیدیت پر ایسی وقیع تحقیق اردو قارئین و محققین کے سامنے لانا ہے، جس کی علمی افادیت مسلمہ ہے۔ ناصر فاروق کی یہ کاوش اردو کے دامن کو ثروت مند اور قاری کے افق کو توسع عطا کرے گی۔

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف) – Dr Najeeba Arif

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ)

قصیدہ بردہ شریف کا منظوم اردو ترجمہ

ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اس منظوم ترجمے کے کئی امتیازات ہیں۔ مجھے پہلے کے چند تراجم کے مقابلے میں یہ سعیِ جمیل متن کے زیادہ قریب بھی لگی اور زیادہ سلیس و رواں بھی۔ لکھنے کو تو یہ بات ایک مختصر سے جملے میں لکھ دی گئی ہے مگر واقفانِ کار جانتے ہیں کہ اس کڑے معیار تک پہنچنا کس قدر دشوار ہے۔ تائید ایزدی شاملِ حال نہ ہو تو محض علم و فضل، صلاحیت، مہارت اور تجربے کے زور پر یہ چوٹی سرنہیں ہوا کرتی۔ اب یہاں یہ اشارہ بھی برمحل لگ رہا ہے کہ اس ترجمے میں سوز و گداز بھی زیادہ ہے اور لفظوں کی تہ میں کچھ اور بھی ہے، اچھا اچھا سا، جسے بیان کرنے کے لیے مجھے سرِدست موزوں لفظ نہیں مل رہے۔

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف)

اقبال کے بہ قول : اصل اس کی نَے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے۔ مجھے امید ہے کہ بہت سے قارئین بھی میرے اس تاثر کی تائید و توثیق کریں گے۔ترجمے میں بعض مشکل یا کسی قدر نامانوس الفاظ ناگزیر طور پر برقرار رکھے گئے ہیں جو ایک طرف تو متن سے قریبی ارتباط قائم رکھتے ہیں اور دوسری طرف مجموعی شعری فضا کا کیف انگیز ذائقہ بھی چکھاتے رہتے ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لیے ان کے معانی درج کرنے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔

Original price was: ₨ 5,000.Current price is: ₨ 3,800.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart