Mera Ilmi Safar - Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

زیرِ نظر کتاب کی اردو زبان میں پیشکش کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے علمی و تحقیقی حلقوں، بالخصوص نوجوان محققین، اساتذہ اور طلبہ کو ایک ایسے فکری اسلوب اور طرزِ زندگی سے روشناس کرانا ہے جو معاصر دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے گہرا تعلق برقرار رکھتا ہے۔ معاصر تناظر میں ایک مسلم دانشور، استاد اور محقق کے کردار کی علمی پہچان کیسے ممکن ہے؟ یہ کتاب اس سوال کا ایک عملی اور فکری جواب فراہم کرتی ہے۔

اسلامی تہذیب کی اساس’علم‘ پر استوار ہے، جو محض معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت ہے جس کے برگ و بار لانے کے لیے گہرے فکری شعور اور طریقۂ تحقیق (Methodology) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر کی علمی اور فکری سوانح ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ طریقۂ تحقیق اور روایتی فکر کے میدان میں ان کا کام طلبہ کے لیے علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاصر فکری مباحث کا ایک متوازن ادراک بھی فراہم کرتا ہے۔

حسین نصر کی زندگی اور فکری سفر کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جدید اکیڈیمیا میں رہتے ہوئے اسلامی علمی روایت کااثبات اور ترجمانی کس طرح کی جا سکتی ہے۔اکیڈمک دیانت اور علمی روایت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی مفکرکی فکر سے کلی اتفاق لازم نہیں۔ راقم الحروف کو بھی ان کے بعض تفہیمی اور فلسفیانہ نتائجِ فکر سے علمی اختلاف ہے۔ فکرِ انسانی کا ارتقا دراصل اسی تنقیدی مطالعے (Critical Analysis) پر منحصر ہے۔

حقیقی طالبِ علم اور محقق کا منصب یہ نہیں کہ وہ محض ماضی کی تقلید کرے، بلکہ اس کا اصل کام اسلاف کے علمی کام کا معروضی جائزہ لینا، اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنا اور تحقیق کے نئے افق تلاش کرنا ہے تاکہ علمی تسلسل برقرار رہے اور فکری پیشرفت کی راہیں ہموار ہوں۔ حسین نصر کا فکری سفر اسی تعمیری اور تنقیدی روایت کی ایک اہم کڑی ہے، اور یہ کتاب اسی علمی مکالمے کو اردو داں طبقے تک پہنچانے کی ایک کاوش ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Kothri Number 14

Kothri Number 14

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) ایک منفرد اردو ناول ہے جو انسانی نفسیات، سماجی رویوں، زندگی کی پیچیدگیوں اور جذباتی کشمکش کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ اگر آپ ایسے ناول پسند کرتے ہیں جو صرف کہانی سنانے تک محدود نہ ہوں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کریں، تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔

Emel.com.pk پر آپ Urdu Books، Literature Books، Urdu Novels اور Fiction Books کی مزید بہترین کتب بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک یادگار اور فکر انگیز کہانی

کوٹھری نمبر 14 اپنی دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی پس منظر کی وجہ سے اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ناول کے واقعات قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، جبکہ ہر باب انسانی فطرت، تعلقات اور معاشرتی حقائق کے نئے پہلو سامنے لاتا ہے۔

یہ کتاب صرف تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ قاری کو زندگی، انصاف، امید، خوف، تنہائی اور انسانی رویوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے عام ناولوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اس کتاب میں کیا پڑھنے کو ملے گا؟

  • دلچسپ اور سنسنی خیز کہانی
  • انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ
  • معاشرتی مسائل کی عکاسی
  • حقیقت سے قریب کردار
  • جذباتی اور فکری مکالمے
  • اردو ادب کا خوبصورت اسلوب
  • آخر تک دلچسپی برقرار رکھنے والا بیانیہ

یہ کتاب کیوں پڑھیں؟

Kothri Number 14 ان قارئین کے لیے بہترین انتخاب ہے جو معیاری اردو ادب، مضبوط کہانی اور گہرے موضوعات پر مبنی ناول پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے کردار اور واقعات قاری کو صرف محظوظ ہی نہیں کرتے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ اردو فکشن اور سماجی ناولوں کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کی ذاتی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے موزوں ہے؟

  • اردو ناول پڑھنے والے قارئین
  • ادب کے طلبہ
  • اساتذہ اور محققین
  • فکشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد
  • پاکستانی ادب کے شائقین
  • بک کلب کے اراکین
  • نوجوان اور بالغ قارئین

مزید مطالعہ

اگر آپ اردو ادب اور ناولوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو Bookstree.pk پر موجود دیگر اردو ناول، ادبی کتابیں اور فکشن کی کتب بھی ضرور ملاحظہ کریں۔ اگر آپ فکری اور ادبی مطالعہ پسند کرتے ہیں تو Tehzeeb ki Qirat، Cannibals and Kings اور Technopoly بھی دلچسپ انتخاب ہو سکتی ہیں۔

Emel.com.pk پر موجود History Books، Self Help Books، Educational Books اور Islamic Books بھی ضرور دیکھیں۔

مزید معلومات

کتاب کی جھلک

  • عنوان: Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)
  • موضوع: اردو ناول
  • زبان: اردو
  • قسم: فکشن / ادبی ناول
  • موزوں برائے: اردو ادب اور معیاری ناولوں کے شائقین

اگر آپ ایک ایسا اردو ناول تلاش کر رہے ہیں جو دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی و نفسیاتی موضوعات پر مبنی ہو تو Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) آپ کے مطالعے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ آج ہی اپنی کاپی Emel.com.pk سے آرڈر کریں اور ایک یادگار ادبی تجربے سے لطف اندوز ہوں۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Aik Safar Baqi Hay

Aik Safar Baqi Hay

Aik Safar Baqi Hay ایک سفر باقی ہے

ایک آپ بیتی اور جگ بیتی

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Tarik Jan deserves congratulations for his remarkable literary effort in reviving and making relevant Nasim Hijazi’s masterpiece on Muhammad bin Qasim for the contemporary context.

Original price was: ₨ 2,000.Current price is: ₨ 1,600.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
https://emel.com.pk/product/a-dolls-house/

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

پاکستان کے نام اور رقبہ کا سب سے بڑا حصہ، بلوچستان، آج ہمارے خدشات، پریشانیوں اور پچھتاوں کا بھی سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔ یہ داستان ہماری ناکامیوں، نالائقیوں، عاقبت نااندیشیوں، ہئیت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں اور جملہ ارباب اختیار کے مجرمانہ فیصلوں کی داستان ہے۔
محمد ریاض صاحب نے خودنوشت کے پردے میں داستانِ حیات کےعنوان سے شہرِ آشوب تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب غلطیوں کےپہاڑ، بنجر فیصلوں اور امیدوں کے مقتل کی ایسی داستان ہے جو بلوچستان کے پہاڑوں سے بلند اور گوادر کے سمندر سے گہری ہے۔ مصنف کی چشم بصیرت نے ایک شہری کی حیثیت سے اور پھر صوبہ کے پولیس سربراہ کے طور پہ، جو کچھ دیکھا، دردِ دل سے بیان کیا۔ اس بیان میں بلوچستان کی ثروت مند تاریخ، جغرافیہ، خوبصورت روایات اور منفرد کلچر کا تعارف بھی ہے اور سیاسی و سماجی منظر کا تجزیہ بھی۔عام لوگوں کی زندگی کا دلچسپ اور سنجیدہ بیان بھی ہے اور سیاسی، انتظامی، قبائلی اور مذہبی قائدین کا کردار بھی۔ ایک جانب یہ گواہی نظام کے اندر جھانکنے کے لئے عام آدمی کو کھڑکی فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب اہل اختیار کے اختیار کی حیثیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر کی آنکھ، تماشہ، تماش بین اور تماشہ گر، اس قطرہ میں دجلہ دیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ روزِ عمر کے آخری پہر میں ٹھہرے ہوئے ایک فرزندِ زمین کا یہ بیانِ حلفی اپنے بین السطور میں فردِ جرم بھی ہے اور اعترافِ جرم بھی۔ کیا اپنے اپنے گوشہء عافیت میںمقیم ہم لوگ بھی اس اعتراف میں شریک ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اس کتاب کا مخاطب بلوچستان کے شہری سے زیادہ ملک کے دیگر صوبوں کا فرد ہے۔ ہر وہ فرد جو پاکستانی کہلواتا ہے اور کہلوانا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بلوچستان کے لئے کچھ کرسکتا ہے یا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے یہ کتاب ایک سے زائد بار پڑھنی چاہیے کہ تشخیص و تعارف کے بغیر حل کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہماری لاعلمی ہماری ناکردہ کاری کا جواز نہیں بن سکتی۔

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Iris Leghari: Life & Times in Pre-Partition

Iris Leghari
A first-hand account of an English woman’s experience of living in the Indian sub-continent.
Epidemics of various diseases broke out in the camps and hundreds died from them. One could smell the stench of dead bodies seven miles away. People used to ring me up at the house, to ask me to get in touch with the authorities and ask for more time to bury their dead. Needless to say, I hardly saw my husband during these terrible days.

Oxford, England. 1932
Iris Titherley, an English equestrian and horse trainer, meets Ata Mohammad Khan Leghari, an Indian student at Oxford University with a feudal background. They fall in love, marry and move to India where Ata joins the prestigious Indian Civil Service.
Iris, a foreigner in a faraway land, struggles at first to make sense of the culture and traditions in her adopted country but spends her time hunting bulls, riding into the hills and shooting with tribesmen. In time, she finds camaraderie with the locals and respect within the family.
Part-memoir, part-travelogue, Iris Leghari: Life and Times in Pre-Partition India and Pakistan is an account of an adventurous and fulfilling life, brimming with interesting observations, anecdotes, and pictures of travels through India, the Middle East and Europe. It is a rare and unique memoir, and a story of love, adventure and belonging.
Buy Now

Original price was: ₨ 5,000.Current price is: ₨ 3,500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Iqbali Bayan اقبالی بیان

اقبالی بیان

انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا  اور  سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا  واحد  حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ  آئینہ بنایا ہے کہ  مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں  زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی  اسلوب خوب پھبتا ہے۔


اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان


کتاب کی فہرست

کہانی کار کی کتھا

احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

خود نوشت سوانح حیات
Buy Now

 950
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Mera Mutalia میرا مطالعہ

Mera Mutalia  میرا مطالعہ

معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی: انکی پسندیدہ کتابیں اور مصنفین
Buy Now

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

پی ٹی وی کےخبر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی کارکن کی شاید یہ پہلی جسارت ہے۔ سرگانہ صاحب نے قلم یوں اٹھایا ہے کہ ایک دستاویزی فلم بنا ڈالی، دلچسپ، تحیر خیز اور حیرت انگیز۔

Buy Now

 750
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Mata e Shaam e Safar متاع شام سفر

Mata e Shaam e Safar

Autobiography خودنوشت سوانح


کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی
وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت

ضمیر جعفری کو توغالباً ایسے کام یاد آ گئے ہوںگے، جو کرنے کے تھے مگر ابھی تک کر نہ سکے ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی تو کرنے کے لیے نہیں تھامیں پریشان کیوں ہوتا؟ ایسے میں شامِ زندگی صرف ماضی میں ہی جھانکنے کا حوصلہ دلاسکتی ہے۔ ماضی کے لمحات، زندگی کے قیمتی لمحات کی ایسی تصویریں جو سرعت کے ساتھ وقت کے دھندلکوں میں غائب ہوگئی تھیں، یقین نہیں آتااس طرح آ موجود ہوں گی۔یہ ماہ و سال پھسل کر کدھر کو نکل گئے تھے؟ مُٹھی میں بند ریت کے ذرات کی طرح۔ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس، خاموش اور دبے پائوں ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں ایسی جگہ جہاںشعور کی روشنی کا کوئی گزر نہیں۔ماضی میں جانے کے لیے جہاں دل میں بے پناہ خواہشیںمچل رہی ہوتی ہیں، وہاںکتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ماضی پیارا ہوتا ہے، اپنا ماضی۔ یہ یادوں کی وہ صلیب ہے جو انسان کو کسی حالت میں نہیں چھوڑتی۔اس کے دُکھ، اس کے سُکھ، تکلیف اور آرام،اس کی ہر شے اپنی اور اپنی چیز کسے پیاری نہیں ہوتی۔شاہ ہو یا گدا، غریب ہو یا امیر، سب ماضی کے اسیر۔ماضی ہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت۔ مستقبل تو کسی نے دیکھا نہیں۔اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اس کا ہر لمحہ تیزی سے ماضی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حال ہے کہاں؟ کیا ہم ایک سیکنڈ کو حال کہیں گے؟ سیکنڈ کے دسویں حصے کو یا اس کے کروڑویں حصے کو؟ ہم تو مستقبل کو ماضی بنتے اورحال کو بے حال ہوتے ایک تماشائی کی طرح اس منظرنامے کو تکتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں سوائے ماضی کے اور اچانک کسی وقت ہم سب اسی ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ رہے نام اللہ کا۔

مصنف
Buy Now

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Dastan e Zeest داستان زیست

Dastan e Zeest داستان زیست

چکوال کے محمد خان قلندر کی اس کتاب میں دو چار نہیں تو ایک دو سخت مقام تو آنے کو تیار تھے مگر ہمارے یار نے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لئے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔
قلندرانہ باتیں جو وہ کر گئے ان کی بابت کہنے کا ہمارا مقام ہے نہ حق، وہ جو کچھ کہہ گئے اس بابت وہ سینے پر ہاتھ مار کے کہہ سکتے ہیں، “ مہ قلندرانہ گفتم !
کتاب کی نثر رواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظر بدلتے جاتے ہیں دلچسپی ہے کہ کم نہی ہوتی۔بیدل نے کہا تھا، “تو حنا بستی و من مفئی رنگیں بستم”۔تو نے مہندی لگائی تو میں رنگوں بھری باتیں لکھنے لگ گیا۔
ان کی نثر پنجاب کے اردو لکھنے والے کی زبان ہے سادہ بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آ گیا تو وہ پنجابی سے آیا۔ وہ لفظوں کی توتا مینا نہیں بناتے، مقصد کی بات کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں، رُک کر تفصیل دینے کی بجائے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں، مبالغہ بھی نہیں، تفاصیل بھی نہیں، اردو میں پنجابی اہل قلم کا ایسا ہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاریگری ہے نہ تکلف نہ صنائع بدائع، سیدھی دوٹوک بات اور صاف بیان۔
ہمارے ہاں ادب میں ایک صنف ہوا کرتی تھی جسے ڈائری لکھنا یا روزنامچہ کہا جاتا تھا۔ انگریزی ادب میں بھی اینے فرانک کی ڈائری نے پچاس کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں اپنی جگہ بنائی ہمارے ہاں ڈائری لکھنے کا شغل انہی زمانوں تک چلا۔ اس کتاب کو میں روزنامچہ ہی کی صورت دیکھ رہا ہوں اگرچہ اس میں کسی دن کسی تاریخ کا اندراج نہی ایک روزنامچہ کی طرح اشاروں سے اختصار کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے روز و شب کا نچوڑ یہاں جمع کر دیا۔

Buy Now

 500
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Ilm ka Musafir علم کا مسافر

Buy Now

Ilm ka Musafir علم کا مسافر

 850
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Prisoner of Conscience: Badshah Khan

Prisoner of Conscience: Badshah Khan

Badshah Khan lived his whole life as in battle. Although he lived to a good old age, time neither dimmed his intellect, nor darkened his moral vision, nor did it slacken the ardour of his genius. In age, his speeches had in them all the energy and fire of youth. Even during the last phase of his life, he was fully abreast of his surroundings. No events or circumstances escaped his intelligent observation which was in harmony with the guiding sentiment of his life: ‘My country is the world, and all mankind are my country men’.

With him it was not race or colour but humanity that mattered. He was always firm and fearless, clear sighted and strong, quick to discern the right, eloquent and bold enough to defend it. In times of crisis he was a fountain of light and a tower of strength.

I was fortunate to have known Badshah Khan since the year 1964, while I was a student at Karachi. If anyone had told me that this simply dressed man will possess such an enduring impact on my life, I would have shaken my head in disbelief. Nevertheless, in reality, there has never been a moment in my life to lose faith in his greatness. For me, he is to be valued and loved; there is a wealth of images from his life that I associate with my time with him. I received my political initiation from him and worked closely under his guidance for many years. I regarded him as the chief apostle of the immediate and unconditional emancipation of all enslaved Pakhtuns. I shall never forget the feelings with which I went to hear this man. It was more than fifty years ago. In him there was no contradiction between what he said and what he acted upon. He had a countenance that portrayed firmness and benignity, a controlled temper and serenity of mind. Sweetness of spirit and a sublime intelligence was writ luminously on his countenance, as if by an angel! A million of human faces might be searched without finding one like his. In him I beheld the resurrection of the dead and buried hope of the long-enslaved Pashtuns.

As I now reminisce, he spoke not like an orator. There were no striking gestures, no fine flow of words, no dazzling rhetoric and no startling emphasis. His power as a speaker was the power which belongs only to the strength of character, earnest conviction and high moral purpose of a true reformer. It was not the utterance, but the man behind it that gave dignity, weight and effect to his speech. Though I was quite young when I first saw him, he appeared even then a venerable man. His part in the battle of life had been at the front. The serious work he was called upon to perform had left its traces on all. Popular displeasure and bitter persecution had poured upon him their fiercest wrath. He was taunted, ridiculed, caricatured, misrepresented and denounced by the vulgar, and treated with contempt and scorn by the rich and great. Yet there he stood, without bitterness, without hate, without violence in speech or act, in thought or wish, self-poised, erect and serene.

Now that this man has filled up the measure of his years, now that the leaf has fallen to the ground as all leaves must, we behold a great life come to an end, a great purpose achieved, a great career beautifully finished, and a great example of heroic endeavour nobly established. For our own good and the good of those who shall follow us.

The world has seen many heroes, some who have founded empires and some who have overthrown governments, some who have with their strong arms and broad swords hewed their way to power, fame, and fortune. There have been great kings, great generals, and great statesmen; but these great ones for the most part owed their greatness to circumstances rather than to themselves. It was not so with this great man whose memory we celebrate through this book. Let us try to emulate his virtues, and endeavour as he did, to leave the world freer, nobler, and better than we have found it. Let us cherish his memory as a precious inheritance.

Pervaiz Khan

Original price was: ₨ 8,000.Current price is: ₨ 5,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart