سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

جاپان اور کوریا کا سفرنامہ

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Ghulami se Alami Badshahat Tak

Ghulami se Alami Badshahat Tak

Ghulami se Alami Badshahat Tak

غلامی سے عالمی بادشاہت تک
چین کا سفرنامہ

چائنہ ؟

چائنہ کیوں ؟

میرے بچے یہ سن کر حیران  ہو گئے  کہ اس بار میرا  چین  کے سفر کا ارادہ ہے !

 

وہ ’’ سیانے بچے‘‘ ہیں ۔ حالات و واقعات کی نبض پر انگلی رکھے بیٹھے ہیں اور جانتے ہیں کہ  میرے پاسپورٹ پر چائنہ کا ویزا کئی ممالک میں میرے لیے مشکل کھڑی کر سکتا ہے ۔  وہ امریکہ ، کینیڈا اور چائنہ کی حکومتوں کے درمیان چل رہی  گرمی ، سردی اور مشہور و معروف ’’ ٹیرف وار‘‘ سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ آئے دن چائنہ اور امریکہ کی طرف سے سیاحوں پر لاگو  کی جانے والی پابندیاں اور ناخوشگوار واقعات  خبروں یا سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں تو کسی نہ کسی طور میں بچوں سے اس کا ذکر کرتی ہوں ۔ لہٰذا اُن کا خیال تھا کہ جب تمام حالات کی آپ کو خبر ہے تو ایسا رسک لینے کی کیا ضرورت ہے !

لیکن  ـــــــــــــ

یہ دل ۔۔۔۔

دیوانہ دل ضد کر بیٹھا ہے کہ جس طرح دنیا کے حالات بدل رہے ہیں اگر میں ان کے موافق ہونے کا انتظار کرتی رہی تو میرے گوڈے گٹے  تو جواب دے جائیں گے ۔

تو سچ یہ ہے  بھائیا جی ۔۔۔۔

جب تک منہ میں دانت ، پیٹ میں آنت  اور گھٹنوں میں سانس چل رہا ہے  اپنے جذبہ جنوں کو ہوا دیتے رہو اور اپنے سوٹ کیس تیار  رکھو ۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah

Written in the 14th century amid the solitude of a North African fortress, Ibn Khaldun’s Muqaddimah stands as one of the most original and far-reaching inquiries into the dynamics of human civilization.

Far more than a mere prologue to history, it probes the underlying forces that shape collective life, showing how societies rise through cohesion and justice, flourish through labor, learning, and sound governance, and decline through corruption, luxury, and moral decay.

‘A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah’ offers a clear and thoughtful engagement with Ibn Khaldun’s abiding perception, illuminating the moral rhythms that govern the rise and fall of nations, economies, and cultures. In an age of rapid change and uncertainty, Ibn Khaldun’s insights continue to speak with lasting wisdom and urgency.

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Tehzeeb ki Qirat

Tehzeeb ki Qirat تہذیب کی قرات

تہذیب کی قرات – Tehzeeb ki Qirat

احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔

Original price was: ₨ 2,200.Current price is: ₨ 2,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
https://emel.com.pk/product/a-dolls-house/

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

پاکستان کے نام اور رقبہ کا سب سے بڑا حصہ، بلوچستان، آج ہمارے خدشات، پریشانیوں اور پچھتاوں کا بھی سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔ یہ داستان ہماری ناکامیوں، نالائقیوں، عاقبت نااندیشیوں، ہئیت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں اور جملہ ارباب اختیار کے مجرمانہ فیصلوں کی داستان ہے۔
محمد ریاض صاحب نے خودنوشت کے پردے میں داستانِ حیات کےعنوان سے شہرِ آشوب تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب غلطیوں کےپہاڑ، بنجر فیصلوں اور امیدوں کے مقتل کی ایسی داستان ہے جو بلوچستان کے پہاڑوں سے بلند اور گوادر کے سمندر سے گہری ہے۔ مصنف کی چشم بصیرت نے ایک شہری کی حیثیت سے اور پھر صوبہ کے پولیس سربراہ کے طور پہ، جو کچھ دیکھا، دردِ دل سے بیان کیا۔ اس بیان میں بلوچستان کی ثروت مند تاریخ، جغرافیہ، خوبصورت روایات اور منفرد کلچر کا تعارف بھی ہے اور سیاسی و سماجی منظر کا تجزیہ بھی۔عام لوگوں کی زندگی کا دلچسپ اور سنجیدہ بیان بھی ہے اور سیاسی، انتظامی، قبائلی اور مذہبی قائدین کا کردار بھی۔ ایک جانب یہ گواہی نظام کے اندر جھانکنے کے لئے عام آدمی کو کھڑکی فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب اہل اختیار کے اختیار کی حیثیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر کی آنکھ، تماشہ، تماش بین اور تماشہ گر، اس قطرہ میں دجلہ دیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ روزِ عمر کے آخری پہر میں ٹھہرے ہوئے ایک فرزندِ زمین کا یہ بیانِ حلفی اپنے بین السطور میں فردِ جرم بھی ہے اور اعترافِ جرم بھی۔ کیا اپنے اپنے گوشہء عافیت میںمقیم ہم لوگ بھی اس اعتراف میں شریک ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اس کتاب کا مخاطب بلوچستان کے شہری سے زیادہ ملک کے دیگر صوبوں کا فرد ہے۔ ہر وہ فرد جو پاکستانی کہلواتا ہے اور کہلوانا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بلوچستان کے لئے کچھ کرسکتا ہے یا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے یہ کتاب ایک سے زائد بار پڑھنی چاہیے کہ تشخیص و تعارف کے بغیر حل کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہماری لاعلمی ہماری ناکردہ کاری کا جواز نہیں بن سکتی۔

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Saints and Shrines of Pothohar

Saints and Shrines of Pothohar

 

Contents:

Acknowledgements

Introduction

1 Petroglyphs of Pothohar

2 Sarai Pakka Khanpur

3 Historic Bhagpur Village

4 The Pre-Partition Havelis of Daultala

5 Mosque and Mansions of Dhoke Musa Village

6 The Pre-partition Arya High School of Chakwal

7 The Works of Shrimati Jawala Devi of Vahali

8 Temples and Havelis of Bhaun

9 Jhelum’s Historic Padhri Village

10 Gakhar Monuments of Pharwala and Bagh Jogian

11 Rawat Monuments

12 Temples of Gujar Khan

13 Glorious Gulyana

14  Baba Khem Singh Bedi Haveli of Kallar Syedan

15 Nayika Paintings of Pothohar

16 Krishna Temple of Kallar Syedan

17 The Samadhi of Baba Mohan Das

18 Fateh Jang Temples

19 Sacred Landscape of Islamabad

20 The Chishti Sabiri Saints of Kalyam Sharif

21 Qadiri Qalandari Saints of Islamabad’s Tumair Village

22 Saints of Chak Bahadur and Bajrana Villages

23 Saints of Gujar Khan’s Dhoke Shams

24 Chishti Saints of Chawli

25 Janjua Saints of Chakwal

26 Naqshbandi Sufi Saints of Rupper Kalan Sharif

27 A Qadiri Naushahi Saint of Pind Bainso

28 Qadiri Saints of Wasala Bangial Village

   Figures

   References

   Index

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی

Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی

یہ کتاب اسلام یا کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کسی علم الٰہیات یا مذہبی نظریہ پر بھی مبنی نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کے بارے میں ہے، جو اسلام کی رہنمائی میں تشکیل پائی۔
مائیکل ہملٹن مورگن

یہ کتاب، جس کا مقصد ان کہی کہانیاں سنانا ہے، یہ نہ صرف اسلام کی ثقافتی اور علمی تاریخ کے لٹریچر میں عمدہ اضافہ ہے بلکہ مغرب سے اس کے علمی تعلق کا محقق بیان بھی ہے۔ اسلامی تہذیب کی اکثرکامرانیاں اور ان کا مغربی تہذیب سے گہرا تعلق اکادمی جریدوں تک محدود ہے۔ مزید برآں، بہت سے دستیاب کام تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

یہ کام مغرب والوں کو اسلام کے بارے میں جاننے میں مدد دے گا، اور انہیں یہ سمجھنے میں معاون ہوگا کہ جس طرح ہمارا ماضی علمی اور تعمیری فکروتحقیق سے جڑا ہوا ہے، ہمارا مستقبل بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اسلام کی تہذیبی اور فکری کامیابیاں یورپ کے لیے نامعلوم نہ تھیں، اور درحقیقت یہودی اور عیسائی فلسفیوں، سائنس دانوں، شاعروں، موسیقاروں، حتیٰ کہ ماہرینِ الہٰیات نے بھی اپنے مسلمان ہم عصروں کی کامیابیوں سے کافی استفادہ کیا۔
شاہ اردن عبد اللہ دوم

کتاب ’’تاریخ گُم گَشتہ‘‘ بہت اہم کتاب ہے۔ تاریخ کے وہ گُمَشدہ ابواب اس میں شامل کیے گئے ہیں ، جو اب تک بڑی تعداد میں یورپ کے کتب خانوں میں نامعلوم رہے ہیں۔
مائیکل ہیملٹن مورگن نے ان گُم شدہ ابواب سے علم کے چند موتی ہمارے لیے ایک لڑی میں پرودیے ہیں ۔ اسی اہمیت کے سبب اس کتاب کا خلاصہ اور ترجمہ کیا گیاہے۔
ناصر فاروق – مترجم
Buy Now

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

What Is to Be Done?

What Is to Be Done?

The civilization of Islam faces existential threat by modern industrial West. Despite many centuries of reform efforts, Muslim societies remain in disarray. This treatise analyses this dilemma in the light of evolution of human societies, rise of the West, and the catch up efforts made by five societies over the last three hundred years. While the analysis is in the context of civilization of Islam and Pakistan, the lessons drawn are universal, applicable to all traditional societies facing the challenges of modernity.
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Iqbali Bayan اقبالی بیان

اقبالی بیان

انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا  اور  سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا  واحد  حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ  آئینہ بنایا ہے کہ  مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں  زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی  اسلوب خوب پھبتا ہے۔


اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان


کتاب کی فہرست

کہانی کار کی کتھا

احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

گیارہ کہانیاں، ایک سبق
Buy Now

 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک

Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Central Canada, Cubic aur Ontario سینٹرل کینیڈا

Central Canada, Cubic aur Ontario سینٹرل کینیڈا

فرانس، برطانیہ  اور  امریکہ کی عسکری , سیاسی اور مذہبی تجربہ گاہ

(سفرنامہ  مانٹریال ، کیوبک، اوٹاوہ اور تھاؤزینڈ آئی لینڈ )

 

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

پی ٹی وی کےخبر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی کارکن کی شاید یہ پہلی جسارت ہے۔ سرگانہ صاحب نے قلم یوں اٹھایا ہے کہ ایک دستاویزی فلم بنا ڈالی، دلچسپ، تحیر خیز اور حیرت انگیز۔

Buy Now

 750
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Roodad Rail ki روداد ریل کی

Roodad Rail ki

ریلوے کا آغاز، حائل مشکلات، ارتقائی منازل اوربرصغیر میںاس نظام کے اجراء کے بعد وطنِ عزیز میں اس کے حشر نشر کے بارے میں دلچسپ، مضحکہ خیز، خوفناک اور حیرت انگیز حالات اور واقعات پر مبنی کتاب۔

—————–

ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یاد ہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں ۔

معاصر دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اب ریل ماضی کا ایسا بوسیدہ نشان بن کر رہ گئی ہے کہ چاہے تو اس پہ ماتم کر لیجئے یا سینے سے لگا کر فخر، مستقبل کا کوئی خوش کن منظر چشم تصور میں نہیں آئے گا۔
خیر۔ آئیے چلتے ہیں کتاب کی طرف۔ قاضی صاحب ریل کے پرانے کارکن ساتھی ہیں ، عمر بھر کا ساتھ رہا۔ اور اس نسل کے فرد ہیں کہ جن کے لیے ملازمت بھی نامیاتی رنگ کا زندہ تعلق ہوا کرتا تھا ۔ آج کے کاروباری اور افادی تعلق کی طرح نہیں کہ جس کی بنیاد صرف اجرت پر رکھی جاتی ہے۔
داستان کی قدیم صنف کا مزا، ریل کے جدید موضوع کے ساتھ صاحبان ذوق کے لئے ایک پرلطف تجربہ ہے۔ معلومات اور واقعات کا ایسا خزینہ اور پھر اہل زبان کے رواں اور شستہ قلم کا بے ساختہ اور رچا ہوا اسلوب کہ جانے کون کون سی حسیات کی تسکین کا سامان۔
ریل کے اس تذکرے میں زوال کا نوحہ بھی ملتا ہےاور شگفتہ واقعات خندہ زیرلب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ دلچسپی کا عنصر کسی افسانے یاناول سے کم نہیں اور معلومات کسی نصابی کتاب سے بھی زیادہ، مگر اسلوب کی خوبصورتی قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخری سطر تک برقرار رہتی ہے۔

Buy Now

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Predicaments of Empowerment

The major aim in this book is to trace women’s experiences of empowerment in the Chitral valley in the north of Pakistan. My engagement with the narratives of the women informants focuses on empowerment as a continuous and intimate journey of personal change and self-awareness which involves constant negotiations and enduring pain.

The primary concern of this study is to gain an understanding of the complexities involved in the empowerment process by unravelling the many varied aspects of power dynamics in the day-to-day lives of ordinary women through their personal experiences. I argue that empowerment happens when individual women desire, struggle for and are able to bring substantial changes in relations of power at different levels in their lives. Yet, to do this they require the ability to identify their disadvantaged position within a particular social setting.

Original price was: ₨ 680.Current price is: ₨ 500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Daleel ka Daur دلیل کا دور

Daleel ka Daur دلیل کا دور

’دلیل کا دور ‘ آپ کے ہاتھوں میںہے، یہ وہ دلیل کا دور (Age or Reason) نہیں جو ماڈرن ازم کی خاص اصطلاح ہے بلکہ وہ دلیل کا دور ہے جو قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔یہ چند ایک مماثلتوں کے باوجود چیزے دیگر است۔ دلائل کا یہ اسلوب صرف عقلوں کو ہی نہیں ہمارے جذبات و احساسات کی گہرائیوں تک جا کر چھُوتا، جھنجھوڑتا اور ابھارتا ہے۔ اگر نصیب اچھے ہوں تو یہ دلائل ہمیں زندگی کا وہ پہلو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اقبال کے الفاظ میںیہ ہمیں جنتِ پنہاں اپنے زورِ بازو۔۔ زیادہ درست الفاظ میں اپنے خونِ جگر کے چراغ جلا کر حاصل کرنے کا راستہ بتاتے اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یہ دلائل اتنے واضح اور سہل ہیں کہ ذرا سے زاویئہ نگا ہ کی تبدیلی سے اس کا راستہ واضح، حصول ممکن، اور زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
کوئی نقطہ نظر اگر کلاسیکل نقطہ نظرسے زیادہ ہمارے کردار سازی میں معاون و مددگار ثابت ہو سکےتواس کو اختیار کرنے میں خیر کا پہلو نمایاں ہے۔ کم از کم اس پر غور و فکر تو لازما ہونا چاہیے۔ یہی خواہش ’دلیل کا دور‘ کی وجہ تصنیف بنی۔
Buy Now

Original price was: ₨ 850.Current price is: ₨ 660.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Muslims Today

Muslims Today: Changes within, Challenges without

The struggle for an inclusive progressive understanding of the faith.
Buy Now

 680
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Hilal aur Fakhta ہلال اور فاختہ

Hilal aur Fakhta ہلال اور فاختہ

  1. ابراہیم کالن: ابراہیم کالن جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ و ثقافت کے مضامین پڑھاتے ہیں۔آپ کی زیادہ تر دلچسپی مابعد ابنِ سینا اسلامک فلاسفی ہے۔ تاریخِ عثمانیہ، بین المذاہب تعلقات اور تقابلی فلسفے میں مطالعہ اور تحقیق کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کالن نے اسلامی فلسفے اور اسلام اور مغرب کے مابین تعلقات پر کافی کچھ لکھا ہے۔ اسلامی فلسفے پر آپ کی  ایک کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔ آپ کی کتاب ‘اسلام اور مغرب’ نے ترکی کی رائٹرز ایسوسی ایشن ۲۰۰۷ میں بہترین کتاب کا ایوارڈ حاصل کیا ہے۔
Original price was: ₨ 680.Current price is: ₨ 480.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Operation Sawat آپریشن سوات و مالاکنڈ

Operation Sawat آپریشن سوات و مالاکنڈ

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Media, Islam aur Ham میڈیا، اسلام اور ہم

Media, Islam aur Ham میڈیا، اسلام اور ہم

اسلام کے نظریہ سماع و ابلاغ کا مختصر تعارف

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 600.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart