رشتوں کی تلاش میں | والدین اور بچے | اردو کتاب

Rishton Ki Talaash Mein | رشتوں کی تلاش میں | والدین اور بچے

Rishton ki Talash mein رشتوں کی تلاش میں: والدین اور بچے

یہ کتاب لکھنے کی بنیادی وجہ میرے ارد گرد کی دنیا کا مشاہدہ، والدین کے دل میں بسنے والی فکریں اور وہ بے شمار سوالات ہیں جو ان کے ذہن میں ابھرتے رہتے ہیں۔ میں نے بہت سی ماؤں کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں کے رویے، تربیت اور مستقبل کے لئے پریشان رہتی ہیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے، بچے دوری کیوں محسوس کرتے ہیں  اور ان کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے؟

ان سوالوں کی تلاش نے ہی مجھے یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا۔ یہ صرف مشوروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے تسلی اور رہنمائی ہےتاکہ فاصلے کم ہوں، سکون ملے، اور انھیں یقین ہو کہ ان کی کوشش کافی ہے، بس اسے کچھ اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

مصنفہ

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Mera Ilmi Safar - Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

زیرِ نظر کتاب کی اردو زبان میں پیشکش کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے علمی و تحقیقی حلقوں، بالخصوص نوجوان محققین، اساتذہ اور طلبہ کو ایک ایسے فکری اسلوب اور طرزِ زندگی سے روشناس کرانا ہے جو معاصر دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے گہرا تعلق برقرار رکھتا ہے۔ معاصر تناظر میں ایک مسلم دانشور، استاد اور محقق کے کردار کی علمی پہچان کیسے ممکن ہے؟ یہ کتاب اس سوال کا ایک عملی اور فکری جواب فراہم کرتی ہے۔

اسلامی تہذیب کی اساس’علم‘ پر استوار ہے، جو محض معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت ہے جس کے برگ و بار لانے کے لیے گہرے فکری شعور اور طریقۂ تحقیق (Methodology) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر کی علمی اور فکری سوانح ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ طریقۂ تحقیق اور روایتی فکر کے میدان میں ان کا کام طلبہ کے لیے علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاصر فکری مباحث کا ایک متوازن ادراک بھی فراہم کرتا ہے۔

حسین نصر کی زندگی اور فکری سفر کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جدید اکیڈیمیا میں رہتے ہوئے اسلامی علمی روایت کااثبات اور ترجمانی کس طرح کی جا سکتی ہے۔اکیڈمک دیانت اور علمی روایت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی مفکرکی فکر سے کلی اتفاق لازم نہیں۔ راقم الحروف کو بھی ان کے بعض تفہیمی اور فلسفیانہ نتائجِ فکر سے علمی اختلاف ہے۔ فکرِ انسانی کا ارتقا دراصل اسی تنقیدی مطالعے (Critical Analysis) پر منحصر ہے۔

حقیقی طالبِ علم اور محقق کا منصب یہ نہیں کہ وہ محض ماضی کی تقلید کرے، بلکہ اس کا اصل کام اسلاف کے علمی کام کا معروضی جائزہ لینا، اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنا اور تحقیق کے نئے افق تلاش کرنا ہے تاکہ علمی تسلسل برقرار رہے اور فکری پیشرفت کی راہیں ہموار ہوں۔ حسین نصر کا فکری سفر اسی تعمیری اور تنقیدی روایت کی ایک اہم کڑی ہے، اور یہ کتاب اسی علمی مکالمے کو اردو داں طبقے تک پہنچانے کی ایک کاوش ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

“A provocative book… a tool for fighting back against the tools that run our lives.” —- Dallas Morning News

The Surrender of Culture to Technology

یعنی ثقافت کا ٹیکنالوجی کے آگے ہتھیار ڈال دینا۔۔۔ نیل پوسٹمین (Neil Postman) کی 1992 میں شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے انسانی معاشروں پر اثرات کے بارے میں تنقیدی اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتی ہے۔

یہ کتاب آج 2026 میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ سوالات اور خدشات جو پوسٹمین نے 1992 میں پیش کیےتھے، اب ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ذیل میں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب آج کے دور میں بھی غیر معمولی معنویت اور اہمیت رکھتی ہے:AI اور Automation کا غلبہ

پوسٹمین کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری پالیسی، صحت، مالیات، تعلیم میں الگورتھمز مستقل فیصلے کر رہے ہیں۔ انسانوں کے بجائے مشینوں کی ریٹنگ، اسکور اور ڈیٹا پر اعتماد بڑھ چکا ہے۔پوسٹمین نے خبردار کیا تھا کہ ٹیکنوپلی میں ٹیکنالوجی ’حقیقت‘ اور’سچائی‘ کو define کرنے لگتی ہے۔یہ آج کی AI- دنیا کی مکمل تصویر ہے۔

ڈیٹا نیا دیوتا بن چکا ہے

پوسٹمین کا خیال تھا کہ ٹیکنوپلی میں:’معلومات اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ معنی کھوجاتے ہیں‘۔ آج Big Dataہر جگہ موجود ہےہر چیز “برانڈ اسکور” اور “اینالیٹکس” سے چل رہی ہے۔ نجی زندگی ڈیٹا کی شکل میں کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی معلومات بڑھ چڑھ کر انسانی آزادی اور خود مختاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

سوشل میڈیا اور Attention Economy نے انسان کو صارف بنادیا ہے

پوسٹمین نے جس “تکنیکی ثقافت ” سے خبردار کیا تھا، وہ آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے:TikTok، Reels، Short کی وجہ سے انسانی تعلقات میں توجہ کا بحران شدید ترین ہوچکا ہے۔ الگورتھمز رائے عامہ بنا رہے ہیں۔جھوٹی خبریں معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں۔لوگ اصل تعلقات کے بجائے اسکرین تعلقات میں قید ہیں۔ یہ سب پوسٹمین کے اس خیال کی تصدیق ہے کہ ٹیکنوپلی انسانی شعور پر قبضہ کر لیتا ہے، اسے مفلوج کردیتا ہے۔

تعلیم کا مقصد مشینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھل رہا ہے

بچوں کو coding، STEM اور ہنر تو سکھایا جا رہا ہےمگر اخلاقیات، فلسفہ، اور انسانی سائنسز نظر انداز ہو رہی ہیں۔تعلیمی عمل ’’سافٹ ویئر + ٹیسٹنگ‘‘ کی مشین بن چکا ہے۔یہ وہی چیز ہے جسے پوسٹمین نے تعلیم کی تکنیکی غلامی کہا تھا۔

Meaning Crisisمعنی کا بحران

زندگی کا مقصد دھندلا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی شناخت کا زوال، روحانی و اخلاقی پیغام کا کمزور ہونا،ٹیکنالوجی نے سب کچھ آسان تو کر دیا، لیکن زندگی زیادہ بے معنٰی، بے ربط اور بے سمت دکھائی دینے لگی ہے۔پوسٹمین نے کہا تھا:”ٹیکنوپلی ثقافت سے معنی چھین لیتی ہے اور اسے کارکردگی سے بدل دیتی ہے۔”آج یہ بات حقیقت بن چکی ہے۔

انسان بمقابلہ مشین

آج ہم ان سوالات کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں:کیا مشینیں اخلاقی فیصلے کر سکتی ہیں؟کیا AI کو انسانی حقوق جیسے حقوق ملنے چاہئیں؟اگر الگورتھم غلط فیصلہ کرے تو ذمہ داری کس کی ہے؟پوسٹمین نے یہی بتایا تھا کہ ٹیکنوپلی (ٹیکنالوجی زدہ سماج ) میں فیصلوں کا مرکز انسان نہیں رہتا، ٹیکنالوجی بن جاتی ہے۔ یہ کتاب آج کے دور کا آئینہ ہے۔ اس لئے آج زیادہ اہم ہے، کہ یہ محض ٹیکنالوجی پر تنقید نہیں بلکہ یہ ہمیںیہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کا مالک ہے، غلام نہیں۔ اقدار، اخلاقیات، اور معنی سب سے اہم ہیں۔ ٹیکنالوجی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انسانیت کی حفاظت ایک لازمی فریضہ ہے۔یہ کتاب آج سماجی بقا، فکری آزادی اور انسانی شناخت کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ضرورت بن چکی ہے۔

یہ محض ایک کتاب کا ترجمہ نہیں، بلکہ مغرب میں جدید ٹیکنالوجی کے سماجی، اخلاقی اور فکری مباحث کو اردو بولنے والے معاشروں تک پہنچانا ہے۔اردو معاشروں میں ٹیکنالوجی پر تنقیدی سوچ کم پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ لوگوں میں سوال اٹھانے کی قوت پیدا کرتا ہے کہ: ٹیکنالوجی ہمیں کن بنیادوں پر بدل رہی ہے؟ ہماری اقدار اور سماجی ڈھانچے پر اس کے کیا اثرات ہیں؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا اس کے تابع؟

درحقیقت ٹیکنالوجی کی ethics پر گفتگو کم ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی کی آگاہی نہیں۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا سیاسی انتشار پیدا کر رہا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ پوسٹمین نے جو باتیں 1992 میں کہیں، وہ آج ہمارے خطے میں پوری شدت سے نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ ترجمہ صرف علمی نہیں، بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی طور پر بھی بہت اہم ہے۔

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Iqbal by Ali Khamenei

Iqbal by Ali Khamenei اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

Iqbal by Ali Khamenei

اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

’’اقبال: مشرق کا ستارہ‘‘ اُس فکری روشنی کا بیان ہے جس نے بیسویں صدی کے جمود کو توڑ کر مشرق کی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کی فکر وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جس کی بازگشت علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے افکار کی تفہیم اور انہیں نئی نسل تک پہنچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو مشرق کے علمی و روحانی احیاء کا خواہشمند ہے۔ زیرِ نظر تقریر کا ترجمہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ترجمے کے دوران نہ صرف لفظی معنویت برقرار رہے، بلکہ وہ لب ولہجہ بھی منتقل ہوجائے، جس کی تاثیر لفظوں سے بڑھ کر ہے۔ سید علی خامنہ ای صاحب کی اس تقریر کا اہم ترین پہلو علامہ اقبال کی فارسی شاعری اور ایرانی شعور کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ وہ اقبال کوروحانی پیشوا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خامنہ ای انقلاب ایران کے روح رواں ہیں، اور اُن کا ایرانی مفکرین پر گہرا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے جس ’خودی‘ اور ’حریت‘ کا درس دیا، اس نے ایرانیوں کے اندر سوئے ہوئے اس انقلابی جذبے کو بیدار کیا۔ ایرانی دانشوروں، بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں اقبال کا تذکرہ اس قدر کثرت سے ملتا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایران کا فکری انقلاب اقبال کے’لا الہ‘ کی گونج کے بغیر ادھورا تھا۔ علی شریعتی نے تو اقبال کو ’’مصلح قرن آخر‘‘ قرار دیا۔ اقبال نے ایرانی قوم کو ان کی ساسانی یا نسلی پہچان کے بجائے ان کی ’’اسلامی شناخت‘‘ سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مشرق کی نجات مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں کی طرف واپسی میں ہے۔ اس کتاب میں یہ نکتہ تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک ’ستارۂ مشرق‘ نے اپنی فارسی زبان کے اثر سے سرحدوں کی قید توڑ کر تہران کے گلی کوچوں میں آزادی کا چراغ روشن کیا۔

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

جاپان اور کوریا کا سفرنامہ

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Asmaan Taly Bikhry Moti

Asmaan Taly Bikhry Moti

Asmaan Taly Bikhry Moti

آسمان تلے بکھرے موتی

ملائشیا، سنگاپور، فلپائن اور تھائی لینڈ کا سفرنامہ

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Kothri Number 14

Kothri Number 14

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) ایک منفرد اردو ناول ہے جو انسانی نفسیات، سماجی رویوں، زندگی کی پیچیدگیوں اور جذباتی کشمکش کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ اگر آپ ایسے ناول پسند کرتے ہیں جو صرف کہانی سنانے تک محدود نہ ہوں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کریں، تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔

Emel.com.pk پر آپ Urdu Books، Literature Books، Urdu Novels اور Fiction Books کی مزید بہترین کتب بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک یادگار اور فکر انگیز کہانی

کوٹھری نمبر 14 اپنی دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی پس منظر کی وجہ سے اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ناول کے واقعات قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، جبکہ ہر باب انسانی فطرت، تعلقات اور معاشرتی حقائق کے نئے پہلو سامنے لاتا ہے۔

یہ کتاب صرف تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ قاری کو زندگی، انصاف، امید، خوف، تنہائی اور انسانی رویوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے عام ناولوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اس کتاب میں کیا پڑھنے کو ملے گا؟

  • دلچسپ اور سنسنی خیز کہانی
  • انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ
  • معاشرتی مسائل کی عکاسی
  • حقیقت سے قریب کردار
  • جذباتی اور فکری مکالمے
  • اردو ادب کا خوبصورت اسلوب
  • آخر تک دلچسپی برقرار رکھنے والا بیانیہ

یہ کتاب کیوں پڑھیں؟

Kothri Number 14 ان قارئین کے لیے بہترین انتخاب ہے جو معیاری اردو ادب، مضبوط کہانی اور گہرے موضوعات پر مبنی ناول پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے کردار اور واقعات قاری کو صرف محظوظ ہی نہیں کرتے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ اردو فکشن اور سماجی ناولوں کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کی ذاتی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے موزوں ہے؟

  • اردو ناول پڑھنے والے قارئین
  • ادب کے طلبہ
  • اساتذہ اور محققین
  • فکشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد
  • پاکستانی ادب کے شائقین
  • بک کلب کے اراکین
  • نوجوان اور بالغ قارئین

مزید مطالعہ

اگر آپ اردو ادب اور ناولوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو Bookstree.pk پر موجود دیگر اردو ناول، ادبی کتابیں اور فکشن کی کتب بھی ضرور ملاحظہ کریں۔ اگر آپ فکری اور ادبی مطالعہ پسند کرتے ہیں تو Tehzeeb ki Qirat، Cannibals and Kings اور Technopoly بھی دلچسپ انتخاب ہو سکتی ہیں۔

Emel.com.pk پر موجود History Books، Self Help Books، Educational Books اور Islamic Books بھی ضرور دیکھیں۔

مزید معلومات

کتاب کی جھلک

  • عنوان: Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)
  • موضوع: اردو ناول
  • زبان: اردو
  • قسم: فکشن / ادبی ناول
  • موزوں برائے: اردو ادب اور معیاری ناولوں کے شائقین

اگر آپ ایک ایسا اردو ناول تلاش کر رہے ہیں جو دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی و نفسیاتی موضوعات پر مبنی ہو تو Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) آپ کے مطالعے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ آج ہی اپنی کاپی Emel.com.pk سے آرڈر کریں اور ایک یادگار ادبی تجربے سے لطف اندوز ہوں۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Riding the Storm: Muhammad bin Qasim

Tarik Jan deserves congratulations for his remarkable literary effort in reviving and making relevant Nasim Hijazi’s masterpiece on Muhammad bin Qasim for the contemporary context.

Original price was: ₨ 2,000.Current price is: ₨ 1,600.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Tehzeeb ki Qirat

Tehzeeb ki Qirat تہذیب کی قرات

تہذیب کی قرات – Tehzeeb ki Qirat

احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔

Original price was: ₨ 2,200.Current price is: ₨ 2,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام

Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام

یہ کتاب اردو زبان کے تعلیمی، تنقیدی اور فکری ادب میں ایک ایسی نئی جہت پیش کرتی ہے جو اپنی نوعیت میں اولین ہے۔ مصنف نے ’’رٹا‘‘ جیسے عام اور رائج تصور کو محض حفظ یا بغیر فہم کے یاد کرنے کے محدود دائرے سے نکال کر تعلیم، نفسیات اور عمرانیات کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا ہے۔ شاید اردو زبان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ’’رٹے‘‘ کو اتنے ہمہ گیر زاویوں اور گیرائی سے پرکھا گیا ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Circle of Destiny – Novel

Circle of Destiny

A story of love and betrayal, friendship and deception, death and destruction spanning regions and moving across multiple geographical locations. Sweeping account of a nation traumatized by suicide bombings, terrorism, and militancy. Entire generation entrapped in the confusion of ideological quagmire ignited by political instability and fueled by the power of mass media.

Original price was: ₨ 2,200.Current price is: ₨ 1,600.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں

Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں

افغانستان دنیا کے لیے ہمیشہ ایک پہیلی کی مانند رہا ہے، پہیلی بھی سادہ نہیں بلکہ تہہ در تہہ الجھی ہوئی۔ یہ پیچیدہ کہانی انہیں بھی آج تک پوری طرح سمجھ نہیں آئی جو برس ہا برس تک افغانستان میں کھیلے جانے والے آگ اور خون کے کھیل کا حصہ رہے۔ وہ لوگ بھی اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہے جو خطے کے امن کی خاطر نیک نیتی سے اس میدان کارساز میں کودے۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Red (Novel)

Something’s off in the city tonight.
Under the city lights, something waits in the dark. It’s in the alleys where the trash cans rattle and in the backseats of the parked cars. The lads are used to keeping secrets, and it seems so are the birds, but some secrets start to keep you. They pull you in, whispering about the things you thought you’d never do or the things you thought were just in your head. What you see in the shadows might not be just your imagination.
And be careful when you look— it might just stare back.

Praise for R3D

“This book had me on edge from start to finish! The twists were mind-blowing, and the psychological depth of the characters made it impossible to put down. One of the best thrillers I’ve read in a long time!”
— Dr. Saba Javed, Psychiatrist, MBBS, FRANZCP

Buy Now

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
https://emel.com.pk/product/a-dolls-house/

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

پاکستان کے نام اور رقبہ کا سب سے بڑا حصہ، بلوچستان، آج ہمارے خدشات، پریشانیوں اور پچھتاوں کا بھی سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔ یہ داستان ہماری ناکامیوں، نالائقیوں، عاقبت نااندیشیوں، ہئیت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں اور جملہ ارباب اختیار کے مجرمانہ فیصلوں کی داستان ہے۔
محمد ریاض صاحب نے خودنوشت کے پردے میں داستانِ حیات کےعنوان سے شہرِ آشوب تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب غلطیوں کےپہاڑ، بنجر فیصلوں اور امیدوں کے مقتل کی ایسی داستان ہے جو بلوچستان کے پہاڑوں سے بلند اور گوادر کے سمندر سے گہری ہے۔ مصنف کی چشم بصیرت نے ایک شہری کی حیثیت سے اور پھر صوبہ کے پولیس سربراہ کے طور پہ، جو کچھ دیکھا، دردِ دل سے بیان کیا۔ اس بیان میں بلوچستان کی ثروت مند تاریخ، جغرافیہ، خوبصورت روایات اور منفرد کلچر کا تعارف بھی ہے اور سیاسی و سماجی منظر کا تجزیہ بھی۔عام لوگوں کی زندگی کا دلچسپ اور سنجیدہ بیان بھی ہے اور سیاسی، انتظامی، قبائلی اور مذہبی قائدین کا کردار بھی۔ ایک جانب یہ گواہی نظام کے اندر جھانکنے کے لئے عام آدمی کو کھڑکی فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب اہل اختیار کے اختیار کی حیثیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر کی آنکھ، تماشہ، تماش بین اور تماشہ گر، اس قطرہ میں دجلہ دیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ روزِ عمر کے آخری پہر میں ٹھہرے ہوئے ایک فرزندِ زمین کا یہ بیانِ حلفی اپنے بین السطور میں فردِ جرم بھی ہے اور اعترافِ جرم بھی۔ کیا اپنے اپنے گوشہء عافیت میںمقیم ہم لوگ بھی اس اعتراف میں شریک ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اس کتاب کا مخاطب بلوچستان کے شہری سے زیادہ ملک کے دیگر صوبوں کا فرد ہے۔ ہر وہ فرد جو پاکستانی کہلواتا ہے اور کہلوانا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بلوچستان کے لئے کچھ کرسکتا ہے یا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے یہ کتاب ایک سے زائد بار پڑھنی چاہیے کہ تشخیص و تعارف کے بغیر حل کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہماری لاعلمی ہماری ناکردہ کاری کا جواز نہیں بن سکتی۔

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

What Is to Be Done?

What Is to Be Done?

The civilization of Islam faces existential threat by modern industrial West. Despite many centuries of reform efforts, Muslim societies remain in disarray. This treatise analyses this dilemma in the light of evolution of human societies, rise of the West, and the catch up efforts made by five societies over the last three hundred years. While the analysis is in the context of civilization of Islam and Pakistan, the lessons drawn are universal, applicable to all traditional societies facing the challenges of modernity.
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

پروفیسرہسٹن اسمتھ، پروفیسرجارج صلیبا، پروفیسرسچیکو مراتا، اور ڈاکٹر موریس بوکائلے امریکا،فرانس،چین، اور مشرق وسطٰی میں علمی حلقوں کے معتبرنام ہیں۔ یہ کتاب ’آدمی کا علم‘ ان اسکالرز کے مقالات اورمضامین کے ترجمہ پہ مشتمل ہے۔ ان کی خاص بات موضوعات پرمنفرد ، معیاری، اورمدلل تحقیق ہے۔ کتاب میںشامل جناب افتخار حیدر اورڈاکٹر غلام شبیرکے مضامین بھی عمدہ تحقیقی کاوش ہیں، جنہیں مؤقرانگریزی روزنامہ ڈان میں شایع کیا گیا۔

اس تالیف کا مقصد ازمنہ وسطٰی سائنس، جدید سائنس، جدیدیت، اور ما بعد جدیدیت پر ایسی وقیع تحقیق اردو قارئین و محققین کے سامنے لانا ہے، جس کی علمی افادیت مسلمہ ہے۔ ناصر فاروق کی یہ کاوش اردو کے دامن کو ثروت مند اور قاری کے افق کو توسع عطا کرے گی۔

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Mystics, Mosques and Masons of Pothohar

Mystics, Mosques and Masons of Pothohar

Many aspects of Pothohar’s culture, including Sufism and heritage, have not been discussed in detail. In this book, I have tried to enlighten the reader about the lesser-known shrines and saints that did not receive scholarly attention. This book introduces the reader to the history of Sufi saints of specific villages and towns who spread their respective silsila through their teachings. They built mosques from where they spread their teachings. They employed celebrated masons to construct the mosques, which reflects the mastery of the Pothohari masons over stone and woodwork.

https://www.youlinmagazine.com/article/pothohar-and-zulfiqar-ali-kalhoro-third-book-on-it/MjgzMg==
Buy Now

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب

Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب

یہ کتاب مضامین کاوہ مجموعہ ہے، جو معروف اسرائیلی مؤرخ یوول نوح ہراری صاحب کی تین مقبول کتابوں

Sapiens: A Brief History of Humankind
21 Lessons for the 21st Century
Homo Deus: A Brief History of Tomorrow

میں پیش کی جانے والی فکر کی تنقید پہ مبنی ہے۔ یہ کتابیں جدید سائنس پرست مغرب کا علمی مؤقف ہیں۔ یہ مؤقف مذہب، روایت، اورتہذیب سے متصادم ہے۔ یہ مغربی مؤقف مستقبل کی دنیا میں الٰہیات کا کوئی کردار تسلیم نہیں کرتا۔ زیر نظر کتاب کے مضامین مغرب کے اس مؤقف کا سامنا کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے عنوان ‘آدمی کی تہذیب ‘ کی وجہ تسمیہ ’مغرب اور مذہب کی تاریخی وعقائدی تفصیل کو چند اصطلاحوں میں سمیٹنے کی سعی‘ ہے۔ تخلیق، ارتقاء، اور تہذیب کے مغربی و مذہبی تصورات کا بُعد واضح کرنا، اور ان کی تصحیح یا تغلیط ان مضامین کا مقصد ہے۔

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

گیارہ کہانیاں، ایک سبق
Buy Now

 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Panjeeri پنجیری (سفرانچے)

عرفان شہود کے سفرانچوں کی تازہ کتاب ”پنجیری “ مختلف طرح کے اسفار کی وجہ سے پڑھنے والوں کے لیے ایک توشہِ خاص سے کم نہیں۔یہ کتاب اپنے قارئین کو بیٹھے بٹھائے کئی طرح کے سفر کرواسکتی ہے۔اس کتاب میں شاعری، مصوری،موسیقی اور دیگر فنون یک جا ہو کر فطرت کے جادوئی پن کا گیت کچھ اس طرح گاتے ہیں کہ دل اور روح کے تار کافی دیر تک ساکت نہیں ہوپاتے۔
رفاقت حیات
عرفان شہود کی روح ازلی انسان کی مسافر روح ہے پھراُن کی مسافت بھی ایسی ہے کہ سفرانچہ بھی بھیتر کھوجنے لگتا ہے۔ان کی تحریر شفاف منہ زور ندی کی مانند اپنے ساتھ بہا لے جانا جانتی ہے ۔وہ سفر کے کسی بھی لمحہ کو استعارہ بنانے پر قادر ہیں۔ دھرتی ماں نے پنجیری انہیں سوغات میں دی ہے۔
ڈاکٹر ثروت زہرا

Buy Now

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

خود نوشت سوانح حیات
Buy Now

 950
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Memories, Mystics and Monuments of Pothohar

Memories, Mystics and Monuments of Pothohar

Not much is written on the heritage of the Pothohar region in Punjab. Keeping this in mind, I travelled extensively in this region to recollect additional legacy of history to authenticate the hidden treasures of Pothohar. This region abounds in the heritage sites which I have been documenting since 2000. While documenting the cultural heritage of Pothohar, an idea struck my mind that there should be a series of books on the various aspects of the heritage, culture, religion and history of this region. I decided to venture out in search of a new literary horizon to investigate and compose a series of books on the history, culture, and heritage of Pothohar. The current book is the first in the series of ten books that I plan to write on the heritage of this region. I would like to inform my readers that before the publishing of this book, I have already written one book on Pothohar heritage titled “Reflections on the Pothohar Heritage.”
Buy Now

Original price was: ₨ 1,000.Current price is: ₨ 700.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Educational Administration and Leadership

Educational Administration and Leadership

The focus of this book is on the human and leadership aspects of educational administration. The administrator is seen as accountable as well as responsible for a human system responsive to the leader’s motivations and responses to situations and interactions with people. The topics discussed relate to day-to-day problems that modern administrators face. All is brought to focus on the administrators in action, as both administrator and leader. Even the Systems’ concepts for planning and decision-making are discussed in the book to help administrators perform as human beings in a human system while making optimum use of scientific theories. Administrative effectiveness and better educational institutions is the outcome envisioned and therefore, the orientation of the book is also behavioral and reflects a deep commitment in increasing the administrators’ capacity on each level of the institution to humanize the educational institutions. This book presents Educational Administration, Character Building, and Leadership Development.
Buy Now

Original price was: ₨ 850.Current price is: ₨ 580.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Tehzeeb-e-Sukhan تہذیبِ سخن

Tehzeeb-e-Sukhan تہذیبِ سخن

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف) – Dr Najeeba Arif

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ)

قصیدہ بردہ شریف کا منظوم اردو ترجمہ

ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اس منظوم ترجمے کے کئی امتیازات ہیں۔ مجھے پہلے کے چند تراجم کے مقابلے میں یہ سعیِ جمیل متن کے زیادہ قریب بھی لگی اور زیادہ سلیس و رواں بھی۔ لکھنے کو تو یہ بات ایک مختصر سے جملے میں لکھ دی گئی ہے مگر واقفانِ کار جانتے ہیں کہ اس کڑے معیار تک پہنچنا کس قدر دشوار ہے۔ تائید ایزدی شاملِ حال نہ ہو تو محض علم و فضل، صلاحیت، مہارت اور تجربے کے زور پر یہ چوٹی سرنہیں ہوا کرتی۔ اب یہاں یہ اشارہ بھی برمحل لگ رہا ہے کہ اس ترجمے میں سوز و گداز بھی زیادہ ہے اور لفظوں کی تہ میں کچھ اور بھی ہے، اچھا اچھا سا، جسے بیان کرنے کے لیے مجھے سرِدست موزوں لفظ نہیں مل رہے۔

Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف)

اقبال کے بہ قول : اصل اس کی نَے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے۔ مجھے امید ہے کہ بہت سے قارئین بھی میرے اس تاثر کی تائید و توثیق کریں گے۔ترجمے میں بعض مشکل یا کسی قدر نامانوس الفاظ ناگزیر طور پر برقرار رکھے گئے ہیں جو ایک طرف تو متن سے قریبی ارتباط قائم رکھتے ہیں اور دوسری طرف مجموعی شعری فضا کا کیف انگیز ذائقہ بھی چکھاتے رہتے ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لیے ان کے معانی درج کرنے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔

Original price was: ₨ 5,000.Current price is: ₨ 3,800.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Roodad Rail ki روداد ریل کی

Roodad Rail ki

ریلوے کا آغاز، حائل مشکلات، ارتقائی منازل اوربرصغیر میںاس نظام کے اجراء کے بعد وطنِ عزیز میں اس کے حشر نشر کے بارے میں دلچسپ، مضحکہ خیز، خوفناک اور حیرت انگیز حالات اور واقعات پر مبنی کتاب۔

—————–

ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یاد ہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں ۔

معاصر دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اب ریل ماضی کا ایسا بوسیدہ نشان بن کر رہ گئی ہے کہ چاہے تو اس پہ ماتم کر لیجئے یا سینے سے لگا کر فخر، مستقبل کا کوئی خوش کن منظر چشم تصور میں نہیں آئے گا۔
خیر۔ آئیے چلتے ہیں کتاب کی طرف۔ قاضی صاحب ریل کے پرانے کارکن ساتھی ہیں ، عمر بھر کا ساتھ رہا۔ اور اس نسل کے فرد ہیں کہ جن کے لیے ملازمت بھی نامیاتی رنگ کا زندہ تعلق ہوا کرتا تھا ۔ آج کے کاروباری اور افادی تعلق کی طرح نہیں کہ جس کی بنیاد صرف اجرت پر رکھی جاتی ہے۔
داستان کی قدیم صنف کا مزا، ریل کے جدید موضوع کے ساتھ صاحبان ذوق کے لئے ایک پرلطف تجربہ ہے۔ معلومات اور واقعات کا ایسا خزینہ اور پھر اہل زبان کے رواں اور شستہ قلم کا بے ساختہ اور رچا ہوا اسلوب کہ جانے کون کون سی حسیات کی تسکین کا سامان۔
ریل کے اس تذکرے میں زوال کا نوحہ بھی ملتا ہےاور شگفتہ واقعات خندہ زیرلب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ دلچسپی کا عنصر کسی افسانے یاناول سے کم نہیں اور معلومات کسی نصابی کتاب سے بھی زیادہ، مگر اسلوب کی خوبصورتی قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخری سطر تک برقرار رہتی ہے۔

Buy Now

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Muslims Today

Muslims Today: Changes within, Challenges without

The struggle for an inclusive progressive understanding of the faith.
Buy Now

 680
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart