Wirasat وراثت (افسانے)

Wirasat وراثت (افسانے)

 

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
رشتوں کی تلاش میں | والدین اور بچے | اردو کتاب

Rishton Ki Talaash Mein | رشتوں کی تلاش میں | والدین اور بچے

Rishton ki Talash mein رشتوں کی تلاش میں: والدین اور بچے

یہ کتاب لکھنے کی بنیادی وجہ میرے ارد گرد کی دنیا کا مشاہدہ، والدین کے دل میں بسنے والی فکریں اور وہ بے شمار سوالات ہیں جو ان کے ذہن میں ابھرتے رہتے ہیں۔ میں نے بہت سی ماؤں کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں کے رویے، تربیت اور مستقبل کے لئے پریشان رہتی ہیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے، بچے دوری کیوں محسوس کرتے ہیں  اور ان کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے؟

ان سوالوں کی تلاش نے ہی مجھے یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا۔ یہ صرف مشوروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے تسلی اور رہنمائی ہےتاکہ فاصلے کم ہوں، سکون ملے، اور انھیں یقین ہو کہ ان کی کوشش کافی ہے، بس اسے کچھ اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

مصنفہ

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Mera Ilmi Safar - Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر

زیرِ نظر کتاب کی اردو زبان میں پیشکش کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے علمی و تحقیقی حلقوں، بالخصوص نوجوان محققین، اساتذہ اور طلبہ کو ایک ایسے فکری اسلوب اور طرزِ زندگی سے روشناس کرانا ہے جو معاصر دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے گہرا تعلق برقرار رکھتا ہے۔ معاصر تناظر میں ایک مسلم دانشور، استاد اور محقق کے کردار کی علمی پہچان کیسے ممکن ہے؟ یہ کتاب اس سوال کا ایک عملی اور فکری جواب فراہم کرتی ہے۔

اسلامی تہذیب کی اساس’علم‘ پر استوار ہے، جو محض معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت ہے جس کے برگ و بار لانے کے لیے گہرے فکری شعور اور طریقۂ تحقیق (Methodology) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر کی علمی اور فکری سوانح ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ طریقۂ تحقیق اور روایتی فکر کے میدان میں ان کا کام طلبہ کے لیے علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاصر فکری مباحث کا ایک متوازن ادراک بھی فراہم کرتا ہے۔

حسین نصر کی زندگی اور فکری سفر کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جدید اکیڈیمیا میں رہتے ہوئے اسلامی علمی روایت کااثبات اور ترجمانی کس طرح کی جا سکتی ہے۔اکیڈمک دیانت اور علمی روایت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی مفکرکی فکر سے کلی اتفاق لازم نہیں۔ راقم الحروف کو بھی ان کے بعض تفہیمی اور فلسفیانہ نتائجِ فکر سے علمی اختلاف ہے۔ فکرِ انسانی کا ارتقا دراصل اسی تنقیدی مطالعے (Critical Analysis) پر منحصر ہے۔

حقیقی طالبِ علم اور محقق کا منصب یہ نہیں کہ وہ محض ماضی کی تقلید کرے، بلکہ اس کا اصل کام اسلاف کے علمی کام کا معروضی جائزہ لینا، اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنا اور تحقیق کے نئے افق تلاش کرنا ہے تاکہ علمی تسلسل برقرار رہے اور فکری پیشرفت کی راہیں ہموار ہوں۔ حسین نصر کا فکری سفر اسی تعمیری اور تنقیدی روایت کی ایک اہم کڑی ہے، اور یہ کتاب اسی علمی مکالمے کو اردو داں طبقے تک پہنچانے کی ایک کاوش ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی

“A provocative book… a tool for fighting back against the tools that run our lives.” —- Dallas Morning News

The Surrender of Culture to Technology

یعنی ثقافت کا ٹیکنالوجی کے آگے ہتھیار ڈال دینا۔۔۔ نیل پوسٹمین (Neil Postman) کی 1992 میں شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے انسانی معاشروں پر اثرات کے بارے میں تنقیدی اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتی ہے۔

یہ کتاب آج 2026 میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ سوالات اور خدشات جو پوسٹمین نے 1992 میں پیش کیےتھے، اب ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ذیل میں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب آج کے دور میں بھی غیر معمولی معنویت اور اہمیت رکھتی ہے:AI اور Automation کا غلبہ

پوسٹمین کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری پالیسی، صحت، مالیات، تعلیم میں الگورتھمز مستقل فیصلے کر رہے ہیں۔ انسانوں کے بجائے مشینوں کی ریٹنگ، اسکور اور ڈیٹا پر اعتماد بڑھ چکا ہے۔پوسٹمین نے خبردار کیا تھا کہ ٹیکنوپلی میں ٹیکنالوجی ’حقیقت‘ اور’سچائی‘ کو define کرنے لگتی ہے۔یہ آج کی AI- دنیا کی مکمل تصویر ہے۔

ڈیٹا نیا دیوتا بن چکا ہے

پوسٹمین کا خیال تھا کہ ٹیکنوپلی میں:’معلومات اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ معنی کھوجاتے ہیں‘۔ آج Big Dataہر جگہ موجود ہےہر چیز “برانڈ اسکور” اور “اینالیٹکس” سے چل رہی ہے۔ نجی زندگی ڈیٹا کی شکل میں کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی معلومات بڑھ چڑھ کر انسانی آزادی اور خود مختاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

سوشل میڈیا اور Attention Economy نے انسان کو صارف بنادیا ہے

پوسٹمین نے جس “تکنیکی ثقافت ” سے خبردار کیا تھا، وہ آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے:TikTok، Reels، Short کی وجہ سے انسانی تعلقات میں توجہ کا بحران شدید ترین ہوچکا ہے۔ الگورتھمز رائے عامہ بنا رہے ہیں۔جھوٹی خبریں معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں۔لوگ اصل تعلقات کے بجائے اسکرین تعلقات میں قید ہیں۔ یہ سب پوسٹمین کے اس خیال کی تصدیق ہے کہ ٹیکنوپلی انسانی شعور پر قبضہ کر لیتا ہے، اسے مفلوج کردیتا ہے۔

تعلیم کا مقصد مشینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھل رہا ہے

بچوں کو coding، STEM اور ہنر تو سکھایا جا رہا ہےمگر اخلاقیات، فلسفہ، اور انسانی سائنسز نظر انداز ہو رہی ہیں۔تعلیمی عمل ’’سافٹ ویئر + ٹیسٹنگ‘‘ کی مشین بن چکا ہے۔یہ وہی چیز ہے جسے پوسٹمین نے تعلیم کی تکنیکی غلامی کہا تھا۔

Meaning Crisisمعنی کا بحران

زندگی کا مقصد دھندلا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی شناخت کا زوال، روحانی و اخلاقی پیغام کا کمزور ہونا،ٹیکنالوجی نے سب کچھ آسان تو کر دیا، لیکن زندگی زیادہ بے معنٰی، بے ربط اور بے سمت دکھائی دینے لگی ہے۔پوسٹمین نے کہا تھا:”ٹیکنوپلی ثقافت سے معنی چھین لیتی ہے اور اسے کارکردگی سے بدل دیتی ہے۔”آج یہ بات حقیقت بن چکی ہے۔

انسان بمقابلہ مشین

آج ہم ان سوالات کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں:کیا مشینیں اخلاقی فیصلے کر سکتی ہیں؟کیا AI کو انسانی حقوق جیسے حقوق ملنے چاہئیں؟اگر الگورتھم غلط فیصلہ کرے تو ذمہ داری کس کی ہے؟پوسٹمین نے یہی بتایا تھا کہ ٹیکنوپلی (ٹیکنالوجی زدہ سماج ) میں فیصلوں کا مرکز انسان نہیں رہتا، ٹیکنالوجی بن جاتی ہے۔ یہ کتاب آج کے دور کا آئینہ ہے۔ اس لئے آج زیادہ اہم ہے، کہ یہ محض ٹیکنالوجی پر تنقید نہیں بلکہ یہ ہمیںیہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کا مالک ہے، غلام نہیں۔ اقدار، اخلاقیات، اور معنی سب سے اہم ہیں۔ ٹیکنالوجی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انسانیت کی حفاظت ایک لازمی فریضہ ہے۔یہ کتاب آج سماجی بقا، فکری آزادی اور انسانی شناخت کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ضرورت بن چکی ہے۔

یہ محض ایک کتاب کا ترجمہ نہیں، بلکہ مغرب میں جدید ٹیکنالوجی کے سماجی، اخلاقی اور فکری مباحث کو اردو بولنے والے معاشروں تک پہنچانا ہے۔اردو معاشروں میں ٹیکنالوجی پر تنقیدی سوچ کم پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ لوگوں میں سوال اٹھانے کی قوت پیدا کرتا ہے کہ: ٹیکنالوجی ہمیں کن بنیادوں پر بدل رہی ہے؟ ہماری اقدار اور سماجی ڈھانچے پر اس کے کیا اثرات ہیں؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا اس کے تابع؟

درحقیقت ٹیکنالوجی کی ethics پر گفتگو کم ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی کی آگاہی نہیں۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا سیاسی انتشار پیدا کر رہا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ پوسٹمین نے جو باتیں 1992 میں کہیں، وہ آج ہمارے خطے میں پوری شدت سے نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ ترجمہ صرف علمی نہیں، بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی طور پر بھی بہت اہم ہے۔

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Iqbal by Ali Khamenei

Iqbal by Ali Khamenei اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

Iqbal by Ali Khamenei

اقبال: مشرق کا بلند ستارہ

’’اقبال: مشرق کا ستارہ‘‘ اُس فکری روشنی کا بیان ہے جس نے بیسویں صدی کے جمود کو توڑ کر مشرق کی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کی فکر وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جس کی بازگشت علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے افکار کی تفہیم اور انہیں نئی نسل تک پہنچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو مشرق کے علمی و روحانی احیاء کا خواہشمند ہے۔ زیرِ نظر تقریر کا ترجمہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ترجمے کے دوران نہ صرف لفظی معنویت برقرار رہے، بلکہ وہ لب ولہجہ بھی منتقل ہوجائے، جس کی تاثیر لفظوں سے بڑھ کر ہے۔ سید علی خامنہ ای صاحب کی اس تقریر کا اہم ترین پہلو علامہ اقبال کی فارسی شاعری اور ایرانی شعور کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ وہ اقبال کوروحانی پیشوا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خامنہ ای انقلاب ایران کے روح رواں ہیں، اور اُن کا ایرانی مفکرین پر گہرا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے جس ’خودی‘ اور ’حریت‘ کا درس دیا، اس نے ایرانیوں کے اندر سوئے ہوئے اس انقلابی جذبے کو بیدار کیا۔ ایرانی دانشوروں، بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں اقبال کا تذکرہ اس قدر کثرت سے ملتا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایران کا فکری انقلاب اقبال کے’لا الہ‘ کی گونج کے بغیر ادھورا تھا۔ علی شریعتی نے تو اقبال کو ’’مصلح قرن آخر‘‘ قرار دیا۔ اقبال نے ایرانی قوم کو ان کی ساسانی یا نسلی پہچان کے بجائے ان کی ’’اسلامی شناخت‘‘ سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مشرق کی نجات مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں کی طرف واپسی میں ہے۔ اس کتاب میں یہ نکتہ تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک ’ستارۂ مشرق‘ نے اپنی فارسی زبان کے اثر سے سرحدوں کی قید توڑ کر تہران کے گلی کوچوں میں آزادی کا چراغ روشن کیا۔

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین

جاپان اور کوریا کا سفرنامہ

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Asmaan Taly Bikhry Moti

Asmaan Taly Bikhry Moti

Asmaan Taly Bikhry Moti

آسمان تلے بکھرے موتی

ملائشیا، سنگاپور، فلپائن اور تھائی لینڈ کا سفرنامہ

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Kothri Number 14

Kothri Number 14

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)

Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) ایک منفرد اردو ناول ہے جو انسانی نفسیات، سماجی رویوں، زندگی کی پیچیدگیوں اور جذباتی کشمکش کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ اگر آپ ایسے ناول پسند کرتے ہیں جو صرف کہانی سنانے تک محدود نہ ہوں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کریں، تو یہ کتاب آپ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوگی۔

Emel.com.pk پر آپ Urdu Books، Literature Books، Urdu Novels اور Fiction Books کی مزید بہترین کتب بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک یادگار اور فکر انگیز کہانی

کوٹھری نمبر 14 اپنی دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی پس منظر کی وجہ سے اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ناول کے واقعات قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، جبکہ ہر باب انسانی فطرت، تعلقات اور معاشرتی حقائق کے نئے پہلو سامنے لاتا ہے۔

یہ کتاب صرف تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ قاری کو زندگی، انصاف، امید، خوف، تنہائی اور انسانی رویوں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے عام ناولوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اس کتاب میں کیا پڑھنے کو ملے گا؟

  • دلچسپ اور سنسنی خیز کہانی
  • انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ
  • معاشرتی مسائل کی عکاسی
  • حقیقت سے قریب کردار
  • جذباتی اور فکری مکالمے
  • اردو ادب کا خوبصورت اسلوب
  • آخر تک دلچسپی برقرار رکھنے والا بیانیہ

یہ کتاب کیوں پڑھیں؟

Kothri Number 14 ان قارئین کے لیے بہترین انتخاب ہے جو معیاری اردو ادب، مضبوط کہانی اور گہرے موضوعات پر مبنی ناول پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے کردار اور واقعات قاری کو صرف محظوظ ہی نہیں کرتے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اگر آپ اردو فکشن اور سماجی ناولوں کے شوقین ہیں تو یہ کتاب آپ کی ذاتی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے موزوں ہے؟

  • اردو ناول پڑھنے والے قارئین
  • ادب کے طلبہ
  • اساتذہ اور محققین
  • فکشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد
  • پاکستانی ادب کے شائقین
  • بک کلب کے اراکین
  • نوجوان اور بالغ قارئین

مزید مطالعہ

اگر آپ اردو ادب اور ناولوں سے دلچسپی رکھتے ہیں تو Bookstree.pk پر موجود دیگر اردو ناول، ادبی کتابیں اور فکشن کی کتب بھی ضرور ملاحظہ کریں۔ اگر آپ فکری اور ادبی مطالعہ پسند کرتے ہیں تو Tehzeeb ki Qirat، Cannibals and Kings اور Technopoly بھی دلچسپ انتخاب ہو سکتی ہیں۔

Emel.com.pk پر موجود History Books، Self Help Books، Educational Books اور Islamic Books بھی ضرور دیکھیں۔

مزید معلومات

کتاب کی جھلک

  • عنوان: Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14)
  • موضوع: اردو ناول
  • زبان: اردو
  • قسم: فکشن / ادبی ناول
  • موزوں برائے: اردو ادب اور معیاری ناولوں کے شائقین

اگر آپ ایک ایسا اردو ناول تلاش کر رہے ہیں جو دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور گہرے سماجی و نفسیاتی موضوعات پر مبنی ہو تو Kothri Number 14 (کوٹھری نمبر 14) آپ کے مطالعے کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ آج ہی اپنی کاپی Emel.com.pk سے آرڈر کریں اور ایک یادگار ادبی تجربے سے لطف اندوز ہوں۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Aik Safar Baqi Hay

Aik Safar Baqi Hay

Aik Safar Baqi Hay ایک سفر باقی ہے

ایک آپ بیتی اور جگ بیتی

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Ghulami se Alami Badshahat Tak

Ghulami se Alami Badshahat Tak

Ghulami se Alami Badshahat Tak

غلامی سے عالمی بادشاہت تک
چین کا سفرنامہ

چائنہ ؟

چائنہ کیوں ؟

میرے بچے یہ سن کر حیران  ہو گئے  کہ اس بار میرا  چین  کے سفر کا ارادہ ہے !

 

وہ ’’ سیانے بچے‘‘ ہیں ۔ حالات و واقعات کی نبض پر انگلی رکھے بیٹھے ہیں اور جانتے ہیں کہ  میرے پاسپورٹ پر چائنہ کا ویزا کئی ممالک میں میرے لیے مشکل کھڑی کر سکتا ہے ۔  وہ امریکہ ، کینیڈا اور چائنہ کی حکومتوں کے درمیان چل رہی  گرمی ، سردی اور مشہور و معروف ’’ ٹیرف وار‘‘ سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ آئے دن چائنہ اور امریکہ کی طرف سے سیاحوں پر لاگو  کی جانے والی پابندیاں اور ناخوشگوار واقعات  خبروں یا سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں تو کسی نہ کسی طور میں بچوں سے اس کا ذکر کرتی ہوں ۔ لہٰذا اُن کا خیال تھا کہ جب تمام حالات کی آپ کو خبر ہے تو ایسا رسک لینے کی کیا ضرورت ہے !

لیکن  ـــــــــــــ

یہ دل ۔۔۔۔

دیوانہ دل ضد کر بیٹھا ہے کہ جس طرح دنیا کے حالات بدل رہے ہیں اگر میں ان کے موافق ہونے کا انتظار کرتی رہی تو میرے گوڈے گٹے  تو جواب دے جائیں گے ۔

تو سچ یہ ہے  بھائیا جی ۔۔۔۔

جب تک منہ میں دانت ، پیٹ میں آنت  اور گھٹنوں میں سانس چل رہا ہے  اپنے جذبہ جنوں کو ہوا دیتے رہو اور اپنے سوٹ کیس تیار  رکھو ۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Rumi ki Sarzameen Pe

Rumi ki Sarzameen Pe

Rumi ki Sarzameen Pe (رومی کی سرزمین پہ) Rumi ki Sarzameen Pe (رومی کی سرزمین پہ) ایک دلکش اردو سفرنامہ

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Chal Musafir Chal چل مسافر چل

Chal Musafir Chal چل مسافر چل

اسپین اور پرتگال کا سفرنامہ

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah

Written in the 14th century amid the solitude of a North African fortress, Ibn Khaldun’s Muqaddimah stands as one of the most original and far-reaching inquiries into the dynamics of human civilization.

Far more than a mere prologue to history, it probes the underlying forces that shape collective life, showing how societies rise through cohesion and justice, flourish through labor, learning, and sound governance, and decline through corruption, luxury, and moral decay.

‘A Reader’s Guide to Ibn Khaldun’s Muqaddimah’ offers a clear and thoughtful engagement with Ibn Khaldun’s abiding perception, illuminating the moral rhythms that govern the rise and fall of nations, economies, and cultures. In an age of rapid change and uncertainty, Ibn Khaldun’s insights continue to speak with lasting wisdom and urgency.

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale! Tehzeeb ki Qirat

Tehzeeb ki Qirat تہذیب کی قرات

تہذیب کی قرات – Tehzeeb ki Qirat

احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔

Original price was: ₨ 2,200.Current price is: ₨ 2,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام

Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام

یہ کتاب اردو زبان کے تعلیمی، تنقیدی اور فکری ادب میں ایک ایسی نئی جہت پیش کرتی ہے جو اپنی نوعیت میں اولین ہے۔ مصنف نے ’’رٹا‘‘ جیسے عام اور رائج تصور کو محض حفظ یا بغیر فہم کے یاد کرنے کے محدود دائرے سے نکال کر تعلیم، نفسیات اور عمرانیات کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا ہے۔ شاید اردو زبان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ’’رٹے‘‘ کو اتنے ہمہ گیر زاویوں اور گیرائی سے پرکھا گیا ہے۔

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں

Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں

افغانستان دنیا کے لیے ہمیشہ ایک پہیلی کی مانند رہا ہے، پہیلی بھی سادہ نہیں بلکہ تہہ در تہہ الجھی ہوئی۔ یہ پیچیدہ کہانی انہیں بھی آج تک پوری طرح سمجھ نہیں آئی جو برس ہا برس تک افغانستان میں کھیلے جانے والے آگ اور خون کے کھیل کا حصہ رہے۔ وہ لوگ بھی اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہے جو خطے کے امن کی خاطر نیک نیتی سے اس میدان کارساز میں کودے۔

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,000.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

Buy Now

 

Jean Anouilh kay chaar Dramy ژان آنوئی کے چار ڈرامے

 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار

Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار

ڈاکٹر غیور ایوب سرجری کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ ان کاتعلق پاراچنار سے ہے، جو افغانستان کی سرحد پر تورا بورا کے اس پار واقع ہے۔ ان کا بچپن ایک ایسے گاؤں میں گزرا جو تیرہ ہزار فٹ بلند برف پوش کوہِ سفید کے دامن میں واقع ہے۔ فطرت سے ان کی طبعی محبت اسی ماحول کا نتیجہ ہے۔ 1979 میں اعلیٰ جراحی کی تربیت مکمل کرکے، وہ برطانیہ کو خیر باد کہہ کر اپنی برطانوی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاراچنار واپس لوٹے۔ اس وقت افغان جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ انہوں نے افغانستان سےمسلسل آنے والے لاتعداد زخمیوں کا علاج شروع کیا۔
یہ کتاب ان کے انہی مشاہدات اورتجربات کا امتزاج اور عکس ہے، جو انہیں 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور 2001 میں 9/11 کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کرتے ہوئے حاصل ہوئے۔
یہ ناول حقائق اور افسانوی واقعات کاحسین امتزاج ہے، جس میں ڈاکٹر غیور نے رومانوی، تاریخی، دینی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کو پرونے کی کوشش کی ہے۔ آج کل وہ برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔

Buy Now

Original price was: ₨ 1,500.Current price is: ₨ 1,200.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
https://emel.com.pk/product/a-dolls-house/

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر

پاکستان کے نام اور رقبہ کا سب سے بڑا حصہ، بلوچستان، آج ہمارے خدشات، پریشانیوں اور پچھتاوں کا بھی سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔ یہ داستان ہماری ناکامیوں، نالائقیوں، عاقبت نااندیشیوں، ہئیت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں اور جملہ ارباب اختیار کے مجرمانہ فیصلوں کی داستان ہے۔
محمد ریاض صاحب نے خودنوشت کے پردے میں داستانِ حیات کےعنوان سے شہرِ آشوب تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب غلطیوں کےپہاڑ، بنجر فیصلوں اور امیدوں کے مقتل کی ایسی داستان ہے جو بلوچستان کے پہاڑوں سے بلند اور گوادر کے سمندر سے گہری ہے۔ مصنف کی چشم بصیرت نے ایک شہری کی حیثیت سے اور پھر صوبہ کے پولیس سربراہ کے طور پہ، جو کچھ دیکھا، دردِ دل سے بیان کیا۔ اس بیان میں بلوچستان کی ثروت مند تاریخ، جغرافیہ، خوبصورت روایات اور منفرد کلچر کا تعارف بھی ہے اور سیاسی و سماجی منظر کا تجزیہ بھی۔عام لوگوں کی زندگی کا دلچسپ اور سنجیدہ بیان بھی ہے اور سیاسی، انتظامی، قبائلی اور مذہبی قائدین کا کردار بھی۔ ایک جانب یہ گواہی نظام کے اندر جھانکنے کے لئے عام آدمی کو کھڑکی فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب اہل اختیار کے اختیار کی حیثیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر کی آنکھ، تماشہ، تماش بین اور تماشہ گر، اس قطرہ میں دجلہ دیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ روزِ عمر کے آخری پہر میں ٹھہرے ہوئے ایک فرزندِ زمین کا یہ بیانِ حلفی اپنے بین السطور میں فردِ جرم بھی ہے اور اعترافِ جرم بھی۔ کیا اپنے اپنے گوشہء عافیت میںمقیم ہم لوگ بھی اس اعتراف میں شریک ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اس کتاب کا مخاطب بلوچستان کے شہری سے زیادہ ملک کے دیگر صوبوں کا فرد ہے۔ ہر وہ فرد جو پاکستانی کہلواتا ہے اور کہلوانا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بلوچستان کے لئے کچھ کرسکتا ہے یا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے یہ کتاب ایک سے زائد بار پڑھنی چاہیے کہ تشخیص و تعارف کے بغیر حل کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہماری لاعلمی ہماری ناکردہ کاری کا جواز نہیں بن سکتی۔

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Adha Saans آدھا سانس (ناول)

Adha Saans آدھا سانس (ناول)

اوائل عمری کا وہ وقت مجھے کبھی نہیں بھولتاجب میرے اردگرد کی خواتین اور لڑکیاں سلمیٰ کنول، رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمٰن کے نئے آنے والے ناول کا انتظار کیا کرتی تھیں۔ پھر میرے لکھنے کے وقت میںنے یہ خاصہ عمیرہ احمدمیں دیکھا۔ یقینا ً کئی اور معتبر لکھنے والیاں بھی ہوں گی لیکن میرا حاشیہ اِن چاروں کے گرد کھِچا رہا۔ عمیرہ احمد ناول نگاری کے بعد ڈرامہ نگاری کی طرف آئیں تو یہاں بھی اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔
یہ تو میرے تجرباتی سفر کے مشاہدات تھے لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک نئی لکھنے والی کے ناول کو پڑھنے کا موقع مِلا۔ تحریر میں شگفتگی ،شستگی واردات اور جنون کو دیکھ کر لگاکہ کوئی دل والی ہے۔ خود چوٹ کھائی ہے یا چوٹ مارنے والی ہے۔ وہ ہے آمنہ شبیب اس نے ’’آدھا سانس‘‘ لکھا ہے۔ اس کا ناول پڑھ کہ پتہ چلا محبتوں کو گنوا کر بیٹھے ہوئے جنونی لوگ پورا سانس کہاں لیتے ہیں۔ تحریر میں پختگی ہے لیکن وقت عمر تجربہ قلم کو نیا روپ دینے کی اساس مانی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ تحریر اور لہجے کی سلوٹیں اُترنے لگتی ہیں۔
اور ایک دن اللہ کی مہربانی سے حرفِ قلم یکتائی کی معراج تک جا پہنچتا ہے۔ تحریر میں نیا پن یہ بھی دیکھا کہ آمنہ شبیب باہمی گفتگو کو مکالمے کی طرز پر لکھتی ہے جیسے ہم ڈرامہ نگار لکھتے ہیں۔ کردار کا نام اور پھر اس کے سامنے مکالمہ۔ یہ شاید اس بات کی نوید ہے کہ آج کی یہ ناول نگار کل کی ایک مایہ ناز ڈرامہ نگار بنے گی۔
دُعا ہے ناول نگاری میں ایک دن اسے سلمیٰ کنول ، رضیہ بٹ اور بشریٰٰ رحمٰن کے احاطے میں دیکھوں اور ڈرامہ نگاری میں اسے بھی عمیرہ احمد جیساامتیاز نصیب ہو۔
آخر میں آمنہ شبیب سے کہوں گا یادرکھنا لکھنے والا سب سے بڑا بھکاری اور چور ہوتا ہے۔ لیکن اس بات میں اعزاز یہ ہے کہ وہ مانگتا اپنے پروردگار سے ہے اور چوری لوگوں کے دُکھ اُن کی تڑپ اور اُن کے جذبات کی کرتا ہے۔
خلیل الرحمان قمر

سچ کہوں تو ناول پڑھتے ہوئے مجھے یہ احساس بار بار ہوا کہ آدھا سانس لینے والوں کا حال وہی ہوتا ہے۔ جو جل بن مچھلی کا ہوتا ہے ، وہی تڑپ وہی بے قراری، وہی حالتِ نزع وہی۔محترمہ آمنہ شبیب کا آدھا سانس اس حبس زدہ ادبی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔
روتباک برک
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Punchline پنچ لائن

Punchline پنچ لائن

قومی مسائل پر کالموں کا مجموعہ
Buy Now

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو

Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو

صمد بہرنگی کی کہانیاں ترجمہ کرنا صرف الفاظ کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا کام ہی نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا ادبی سفر ہے جس میں سیکھنے کے کئی مقام آتے ہیں۔ زبان و بیان کی بل کھاتی سڑک ہو یا پھر ذخیرۂ الفاظ کا گھنا جنگل، تشبیہ و استعارات کا ایک بوستان ہو یا پھر بیانیے کی بہتی ندیا، یا کہ داستان گوئی کا دریا ہو جس کے کنارے اپنی کہانی کی کشتی لگانی ہو۔ اس ادبی سفر میں آپ کو سب ملے گا۔ ان کی کہانیوں میں سے ثقافت، پرجوش اور ہوش مند انقلابی سوچ، ترقی پسند بیانیہ، ظلم کے خلاف آہنی دیوار بننے کا درس یہ سب ترجمہ کرتے وقت میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھا کی۔ کہ میرے حصے میں وہ ادیب آیا جو کہانی کے بہانے جانے کب آنسو بہا لیتا تھا اور کب چُٹکی بجا کر ہنس و ہنسا لیتا تھا، کم ہی یہ راز جان پائے۔ ان کا قلم لکھتا نہیں، گاتا تھا۔ بلکہ بانسری بجاتا تھا۔ درد و الم کی بانسری۔ جو ظالم کے خلاف بجائی جاتی تھی مگر اس کی لے پر جھومتا وہ بھی تھا۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now

 900
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی

Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی

ترک ادبیات میں، بطور مترجم، صمد بہرنگی کی اس چھوٹی سی کتاب سے بڑے اورضخیم کام میری توجہ کے طالب تھے۔ مگر بطور ایک قاریہ کے میرے لئے بچپن کی یادوں کو سمیٹے ہوئے اس کہانی کا ترجمہ اکساتا تھا۔
یہ ہر زاویے سے ایک مختلف کہانی ہے۔ آپ اسے مزاحمتی، انقلابی یا محبت و محنت، تجسس اور کوشش کی کسی بھی چیز کی کہانی سمجھ کر پڑھنا چاہیں۔ یہ آپ پر اپنا وہی پہلو کھولے گی۔ اور آپ کو بڑے یا چھوٹے ہوتے ہوئے احساس بھی نہ ہوگا کہ یہ کہانی آپ کی عمر کے لئے نہیں لکھی گئی۔ اس کہانی میں ہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ ہے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر کہیں نہ کہیں چھوٹی کالی مچھلی بستی ہے۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now

 900
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Sarang: History of Gakkhars

Sarang: History of Gakkhars

Dr. Saheeb A. Kayani’s book significantly contributes to the scholarly examination of the history of Gakkhars through its compilation of 20 insightful essays. Each essay provides a thorough exploration of a particular dimension of the history of Gakkhars. His work is notable not only for the depth of its content but also for the diverse range of historical sources he has carefully collected, analyzed, and used. This approach enables a more nuanced understanding of the Gakkhars’ past and their connection with the Pothohar region. This book will serve as an invaluable resource for scholars, providing a strong foundation for further research into the topics discussed. Many of the themes explored in this work have either been ignored in past studies or have received minimal attention from researchers, making the book particularly noteworthy.
Buy Now

 1,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور

Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور

فہرست

تعارف:  تہذیبِ تصور۔۔۔ آج؟

طریقہ تحقیق

ارتقا سے انحطاط تک

انسان پرستی کا تنازع

 

باب اول

جدیدیت سے پہلے کے بیانیے

عبرانی روایت’ تصور

قصہ آدم(علیہ السلام): مسئلہ خیروشر(YESTER)

عبرانی روایت۔ نفس کشی کا رستہ

راہ عمل

آدمی کا خیر وشراور تاریخ

 

ضمیمہ

خدا کی صورت پر مباحث

خدا کی صورت پر؟ عہد نامہ قدیم وجدید کی تشریحات

عہد نامہ قدیم کے ذرائع

عہد نامہ جدید کی تشریحات

 

 

دوسرا باب

یونانی ’’تصور‘‘

پرومیتھین دیومالا: تخلیق کاری

افلاطون کا ’’تصور‘‘

افلاطون کی ماوراالطبیعات

افلاطون کا ایک مخمصہ

 

 

تیسرا باب

آگسٹن، فلاطینوس، اور ازمنہ وسطی کا نظریہ تصور

تشریحات

رچرڈ سینٹ آف وکٹر

سینٹ بونا وینچیو

اکوئینس

ازمنہ وسطٰی میں تصویرکشی اوربت شکنی

 

 

تتمہ اول

ازمنہ وسطٰی میں ’وجود‘ کی ’پیشکش‘ کا وجودیاتی الٰہیاتی نظریہ

تتمہ دوم

فیلاکسینس آف ماباگ

تتمہ سوم

’تصور ‘پر موسٰی بن میمون کی رائے

 

چوتھا باب

جدید بیانیے

ماورائی تصور

کوپرنیکن انقلاب

عبوری تحریکیں

نشاۃ ثانیہ کی تحریک تصوف

ڈیکارٹ کا فلسفہ

تجربیت

کانٹ اور ماورائی تصور

کانٹ کی جمالیات

جمال سے جلال تک

جرمن مثالیت پسندی، فشٹے اور شیلنگ

رومانیت پسند تحریک

لب لباب: تصور کی پسپائی

 

تتمہ

کانٹین تصور۔۔۔ ہائیڈیگرکی تشریح

 

 

پانچواں باب

وجودی ’’تصور‘‘

کئیرکیگارڈ اورنٹشے

مثبت تنقید کا کلچر

کیئر کیگارڈ

بہترین آدمی

پرومیتیئھن پروجیکٹ

نٹشے

 

 

چھٹا باب

وجودی تصور دوئم

سارتر

البرٹ کامیو

ہائیڈگر

سارتراور تصورکی نفی

خودفریب ذہن کی صورتیں

پگمیلین Pygmalion

نارسیسس Narcissus

اعصابی خلل

وجودیاتی اطلاقات

انسان پرستی کا دوبارہ جائزہ

اخلاقیات کا سوال

ادب کا سوال

تاریخ کا سوال

اختتام

 

 

 

تصور کے بعد۔۔۔؟

 

ما بعد جدید بیانیے

تیسرا حصہ

ساتواں باب

بہروپیہ تصور

لاکاں: تصوریت کا انہدام

آلتوسے: تصور ایک باطل شعور ہے

فوکو: آدمی کا اختتام

رولاں بارت: تصنفیی تصور کی موت

دریدا: نقل در نقل کا نہ رکنے والا سلسلہ

اصل کے بغیر نقل

نہ ختم ہونے والا بحران

 

 

باب آٹھ

مابعد جدید ثقافت: مکمل تباہی؟

  1. (Pynchon)

امیجنیشن ڈیڈ امیجن (بیکیٹ)

جنجر اینڈ فریڈ (فیلنی)

پیرس، ٹیکساس (وینڈرز)

لی میگاسین ڈی بین (واٹیئر)

زندہ فن پاروں کا محل

 

تتمہ: پوسٹ ماڈرن آرٹ، فن تعمیر اور موسیقی پر کچھ اضافی تبصرے

مابعد جدید آرٹ

پوسٹ ماڈرن فن تعمیر پر پاولو پورٹوگیزی کے خیالات

فریڈرک جیمسن کا نکتہ نظر

ما بعد جدیدیت اور موسیقی

موسیقی کی سنجیدہ اور تجارتی شکلوں کا ملاپ

معاصر پاپ موسیقی میں پوسٹ ماڈرن خصوصیات

 

 

اختتام

تصور کے بعد؟

ایک اخلاقی تصورکی جانب بڑھتے ہوئے

شاعرانہ تخیل کی جانب بڑھتے ہوئے

مزاحمت کی حکمت عملی

تشریحی کام

تاریخی کام

بیانیے کا کام

پوسٹ ماڈرن تخیل کے چیلنجز

بعد ازاں

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی

Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی

احمد فراز کے مطبوعہ و نشر شدہ انٹرویوز
Buy Now

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Ramooz e Takhleeq رموز تخلیق

رموز تخلیق

کائنات، وقت اور انسان قرآن اور جدید سائنس کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد عبد الرشید سیال کی نئی تصنیف ’’رُموزِ تخلیق‘‘ اس اعتبار سے بڑی اہم اور وقیع ہے کہ اس میں انہوں نے قرآنِ حکیم کو آج کے دور کے سائنسی نظریات کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مسلم امہ کے مفکرین کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اس مقدس کتاب کی حقانیت کو آج کے سائنسی انکشافات کے تناظر میں دیکھیں۔ آج بھی تخلیق کائنات کا عمل جاری و ساری ہے۔ ہماری کائنات ہر سیکنڈ میں تین لاکھ کلو میٹر کی رفتار سے پھیل رہی ہے۔ کائنات کی ان محیر العقول وسعتوں میں ہم محض ایک تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے بلکہ جدید اور اہم سائنسی انکشافات کو ہم قرآن کی روشنی میں پرکھ کر اپنے لئے ایک سمت کا تعین کرسکتے ہیں، قرآن جو روشنی اور حکمت کا سرچشمہ ہے، ہمہ وقت ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔
Buy Now

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Urdu Imla اردو املا: مسائل و مباحث

Urdu Imla اردو املا: مسائل و مباحث

رشید حسن خان کے حوالے سے

میں نے اس کتاب میں اُن مضامین کو شامل کیا جو رشید حسن خاں کی کتابوں (اُردو اِملا، زبان اور قواعد، انشا اور تلفظ، عبارت کیسے لکھیں، اُردو کیسے لکھیں وغیرہ)، ان کی ابتدائی ادبی زندگی کے مضامین پر اور ان کی وفات کے بعد اصحاب ِقلم نے اِملا سے متعلق جو بھی لکھا اسے قارئین کے سامنے من و عن پیش کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے۔ علاوہ ازیں رشید حسن خاں کے اِملا سے متعلق لکھے گئے تین مضمون ضمیمے کے طور پر شامل کیے ہیں تاکہ قارئین بیک وقت اِملا کے بنیادی مسائل پر غور و خوض کر سکیں۔

 

 2,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم

پروفیسرہسٹن اسمتھ، پروفیسرجارج صلیبا، پروفیسرسچیکو مراتا، اور ڈاکٹر موریس بوکائلے امریکا،فرانس،چین، اور مشرق وسطٰی میں علمی حلقوں کے معتبرنام ہیں۔ یہ کتاب ’آدمی کا علم‘ ان اسکالرز کے مقالات اورمضامین کے ترجمہ پہ مشتمل ہے۔ ان کی خاص بات موضوعات پرمنفرد ، معیاری، اورمدلل تحقیق ہے۔ کتاب میںشامل جناب افتخار حیدر اورڈاکٹر غلام شبیرکے مضامین بھی عمدہ تحقیقی کاوش ہیں، جنہیں مؤقرانگریزی روزنامہ ڈان میں شایع کیا گیا۔

اس تالیف کا مقصد ازمنہ وسطٰی سائنس، جدید سائنس، جدیدیت، اور ما بعد جدیدیت پر ایسی وقیع تحقیق اردو قارئین و محققین کے سامنے لانا ہے، جس کی علمی افادیت مسلمہ ہے۔ ناصر فاروق کی یہ کاوش اردو کے دامن کو ثروت مند اور قاری کے افق کو توسع عطا کرے گی۔

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Falasteen kay Rang فلسطین کے رنگ

کچھ کتاب کے بارے میں آرا:

اسرائیل کے سرکاری عہدے دار فلسطینیوں کو ”جانور“ قرار دیتے ہیں، اور اپنے دفاع میں وہ ”جانوروں“ کا خاتمہ ضروری سمجھتے ہیں، جیسا کہ اس وقت وہ غزہ اور فلسطین میں کر رہے ہیں۔ یہ کتاب اس جھوٹ اور ظلم کے بنیاد گزار علم کو بالکل عیاں کر دیتی ہے۔ محمد دین جوہر

قارئین منصور ندیم کی ان تحریروں میں فلسطین کے حوالے سے معمول کی سیاسی خبروں اور تجزیوں سے ہٹ کر فلسطینیوں کی حقیقی زندگی اور ان کو درپیش ابتلا کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ عمار خان ناصر

جیسا کہ اہل وطن کی مزمن عادت ہے، کچھ لوگ اپنے جذباتیت اور “سفید و سیاہ” کی ثنویت کی ہوا سے بھرے نظریہ سازش میں حقائق کی سوئی چبھوئے جانے پر برافروختہ ہوں گے۔ ایسا ہوا تو منصور صاحب اپنی کاوش میں کامیاب ٹھہریں گے۔ عثمان قاضی

مصنف کسی بھی نوع کی آئیڈیالوجی، سوچ یا نظریے کی بریکٹ میں موجود عصبیتوں سے کنارہ کش ہو کر ایسی شعوری متن سازی کرتے ہیں کہ جس کی معنویت اپنے اندر عالمی انسانی قدروں کے فروغ کا باعث ہو۔ صلاح الدین درویش

مصنف نے اپنے محاذ پر ہمیں فلسطین کی تہذیبی روایتوں سے روشناس کروا رہے ہیں۔میں سمجھتی ہوں منصور ندیم نے اپنی تحریروں میں جو معلومات اکھٹی کی ہیں اس سے بہت سے بیانیوں کے بت ٹوٹیں گے۔ تزئین حسن

زیرنظر کتاب میں فلسطین پر لکھے مضامین کے تنوع، محنت اور علمی تحقیق سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ غزہ کی صورتحال پر منصور نے بھی قلم اٹھایا مگر روایتی جذباتی تحریروں کے بجائے بہت سی مفید اور معلومات افزاء تحریریں لکھیں۔ عامر ہاشم خاکوانی
Buy Now

 1,400
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب

Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب

یہ کتاب مضامین کاوہ مجموعہ ہے، جو معروف اسرائیلی مؤرخ یوول نوح ہراری صاحب کی تین مقبول کتابوں

Sapiens: A Brief History of Humankind
21 Lessons for the 21st Century
Homo Deus: A Brief History of Tomorrow

میں پیش کی جانے والی فکر کی تنقید پہ مبنی ہے۔ یہ کتابیں جدید سائنس پرست مغرب کا علمی مؤقف ہیں۔ یہ مؤقف مذہب، روایت، اورتہذیب سے متصادم ہے۔ یہ مغربی مؤقف مستقبل کی دنیا میں الٰہیات کا کوئی کردار تسلیم نہیں کرتا۔ زیر نظر کتاب کے مضامین مغرب کے اس مؤقف کا سامنا کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے عنوان ‘آدمی کی تہذیب ‘ کی وجہ تسمیہ ’مغرب اور مذہب کی تاریخی وعقائدی تفصیل کو چند اصطلاحوں میں سمیٹنے کی سعی‘ ہے۔ تخلیق، ارتقاء، اور تہذیب کے مغربی و مذہبی تصورات کا بُعد واضح کرنا، اور ان کی تصحیح یا تغلیط ان مضامین کا مقصد ہے۔

 1,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Iqbali Bayan اقبالی بیان

اقبالی بیان

انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا  اور  سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا  واحد  حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ  آئینہ بنایا ہے کہ  مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں  زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی  اسلوب خوب پھبتا ہے۔


اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان


کتاب کی فہرست

کہانی کار کی کتھا

احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات

گیارہ کہانیاں، ایک سبق
Buy Now

 2,600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Dukh Andar Dukh Bahar دکھ اندر دکھ باہر

Buy Now

 

Dukh Andar Dukh Bahar دکھ اندر دکھ باہر

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Panjeeri پنجیری (سفرانچے)

عرفان شہود کے سفرانچوں کی تازہ کتاب ”پنجیری “ مختلف طرح کے اسفار کی وجہ سے پڑھنے والوں کے لیے ایک توشہِ خاص سے کم نہیں۔یہ کتاب اپنے قارئین کو بیٹھے بٹھائے کئی طرح کے سفر کرواسکتی ہے۔اس کتاب میں شاعری، مصوری،موسیقی اور دیگر فنون یک جا ہو کر فطرت کے جادوئی پن کا گیت کچھ اس طرح گاتے ہیں کہ دل اور روح کے تار کافی دیر تک ساکت نہیں ہوپاتے۔
رفاقت حیات
عرفان شہود کی روح ازلی انسان کی مسافر روح ہے پھراُن کی مسافت بھی ایسی ہے کہ سفرانچہ بھی بھیتر کھوجنے لگتا ہے۔ان کی تحریر شفاف منہ زور ندی کی مانند اپنے ساتھ بہا لے جانا جانتی ہے ۔وہ سفر کے کسی بھی لمحہ کو استعارہ بنانے پر قادر ہیں۔ دھرتی ماں نے پنجیری انہیں سوغات میں دی ہے۔
ڈاکٹر ثروت زہرا

Buy Now

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک

Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت

خود نوشت سوانح حیات
Buy Now

 950
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Konya Mujhy Bula Raha Tha قونیہ مجھے بلارہا تھا

Konya Mujhy Bula Raha Tha قونیہ مجھے بلارہا تھا

’’محمد وسیم کا سفر قونیہ ایک اثر انگیز روحانی واردات ہے جس میں عقیدت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کا بھی بھرپور اظہار ملتا ہے۔ یہ تحریر معمولی نہیں ہے، اس میں بڑی نثر کے امکانات موجود ہیں۔ ویسے بھی تارڑ حضرات میں آوارگی کے جرثومے پائے جاتے ہیں اور وہ سفرنامہ لکھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ محمد وسیم کی تحریر پڑھتے ہوئے قونیہ ہمیں بھی بلانے لگتا ہے… ؎تو ہستی من شدی از آنی ہمہ من…من نیست شدم در تو از آنم ہمہ تو‘‘
مستنصرحسین تارڑ
Buy Now

 400
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Ghurbat aur Ghulami غربت اور غلامی:خاتمہ کیسے ہو؟

غربت اور غلامی:خاتمہ کیسے ہو

اگر آپ کسی بھی قسم کی مذہبی ،علاقائی یا فکری عصبیت سے بالاتر ہو کر سیاسیات اور اقتصادیات کے طالبعلم کی حیثیت سے حقائق کی گتھیاں سلجھانا چاہتے ہیں اور معاشرے کے بنیادی مسائل کا اِدراک چاہتے ہیں تو اس کتاب کو ضرور پڑھیں اور تمام سوالات پر کھلے دل و دماغ کے ساتھ غور کریں۔

اس کتاب میں نہ صرف معیشت کے بنیادی تصورات کو سلیس انداز میں بیان کیا گیا ہے بلکہ انسانی معاشرے کی پیچیدگیوں کو بھی سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کی گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل ازم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں موضوعات پوری کتاب پر حاوی رہتے ہیں تاہم ان کا تقابل فاشزم اور سوشل ازم جیسے مختلف تصورات سے بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے موضوعات کا تنوع قائم اور دلچسپی برقرار رہتی ہے۔
Buy Now

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Qulzum kay Us Paar قلزم کے اس پار

یہ تاثرات مغربی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ اِن بشری معاشروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور نہ اُن کی بے جا ہر زہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کے ساتھ تقابل کامقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسنا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لئے بحیثیت مہمیز استعمال کرنا ہے۔ 9/11 کے بعد کا مغرب مسلمان دنیا کے لئے اپنی تمام تر جارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ اہل مغرب کے لئے مسلم دنیا۔ یہ تحریراُس اہم تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شاید یہی اس کی انفرادیت کا اَمر بنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیا کو نیک وبد یا سیاہ و سفید کے ہمدرد پیرا یوں میں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیا میں ہر لمحہ اٹھتے نئے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ دنیا نئی تاریخ، تفسیر اور تسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پر اس تحریر کو زیادہ تحقیقی اور گراں بار بنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کو بشری کا وشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاںسکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیر عمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کو مشرقی معاشروں سے افضل یا کمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حد تک خلوص نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔

Original price was: ₨ 800.Current price is: ₨ 650.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Ishq e Natamaam عشق ناتمام

Ishq e Natamaam عشق ناتمام

ادھوری محبتوں کی داستان
محمد خان قلندر کی کہانیاں

ہم نے حسب وعدہ کوہستان نمک کی وادیوں میں نقش ہوئی کہانیاں داستان کی ہیں۔ اہم ترین پہلو یہ ہےکہ ان کہانیوں کے اصل کردار زیادہ تر ہمارے کالج سے یونیورسٹی تک دوست ہیںجن کے ہم ہمراز تھے، کچھ ہاسٹل فیلو ہیں اور کچھ ہم جماعت و ہم نشین۔ ہم نے زیادہ کہانیاں صیغہ واحد متکلم اور واحد حاضر میں قلمبند کی ہیں۔ بلاشبہ یہ وارداتیں ہم پے ہر گز نہیں وارد ہوئیں، ہم تو وقائع نویس بن گئے کہ ادب و انشا میں جمع متکلم میں لکھنا بیانیہ کی جاذبیت کھو دیتا ہے۔اس وضاحت کے بعد اگر ہمارے قاری یار ہمیں ہیرو بناتے ہیں تو زہے نصیب۔

Buy Now

 600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Allah Sohny Men Hazir Hoon اللہ سوھنے میں حاضر ہوں

Allah Sohny Men Hazir Hoon اللہ سوھنے میں حاضر ہوں

 

Buy Now

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Tehzeeb-e-Sukhan تہذیبِ سخن

Tehzeeb-e-Sukhan تہذیبِ سخن

 1,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Mera Mutalia میرا مطالعہ

Mera Mutalia  میرا مطالعہ

معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی: انکی پسندیدہ کتابیں اور مصنفین
Buy Now

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Waqtan Fawaqtan وقتاََ فوقتاََ

Buy Now

Waqtan Fawaqtan وقتاََ فوقتاََ

Original price was: ₨ 1,200.Current price is: ₨ 900.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Central Canada, Cubic aur Ontario سینٹرل کینیڈا

Central Canada, Cubic aur Ontario سینٹرل کینیڈا

فرانس، برطانیہ  اور  امریکہ کی عسکری , سیاسی اور مذہبی تجربہ گاہ

(سفرنامہ  مانٹریال ، کیوبک، اوٹاوہ اور تھاؤزینڈ آئی لینڈ )

 

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال

پی ٹی وی کےخبر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی کارکن کی شاید یہ پہلی جسارت ہے۔ سرگانہ صاحب نے قلم یوں اٹھایا ہے کہ ایک دستاویزی فلم بنا ڈالی، دلچسپ، تحیر خیز اور حیرت انگیز۔

Buy Now

 750
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Roodad Rail ki روداد ریل کی

Roodad Rail ki

ریلوے کا آغاز، حائل مشکلات، ارتقائی منازل اوربرصغیر میںاس نظام کے اجراء کے بعد وطنِ عزیز میں اس کے حشر نشر کے بارے میں دلچسپ، مضحکہ خیز، خوفناک اور حیرت انگیز حالات اور واقعات پر مبنی کتاب۔

—————–

ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یاد ہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں ۔

معاصر دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اب ریل ماضی کا ایسا بوسیدہ نشان بن کر رہ گئی ہے کہ چاہے تو اس پہ ماتم کر لیجئے یا سینے سے لگا کر فخر، مستقبل کا کوئی خوش کن منظر چشم تصور میں نہیں آئے گا۔
خیر۔ آئیے چلتے ہیں کتاب کی طرف۔ قاضی صاحب ریل کے پرانے کارکن ساتھی ہیں ، عمر بھر کا ساتھ رہا۔ اور اس نسل کے فرد ہیں کہ جن کے لیے ملازمت بھی نامیاتی رنگ کا زندہ تعلق ہوا کرتا تھا ۔ آج کے کاروباری اور افادی تعلق کی طرح نہیں کہ جس کی بنیاد صرف اجرت پر رکھی جاتی ہے۔
داستان کی قدیم صنف کا مزا، ریل کے جدید موضوع کے ساتھ صاحبان ذوق کے لئے ایک پرلطف تجربہ ہے۔ معلومات اور واقعات کا ایسا خزینہ اور پھر اہل زبان کے رواں اور شستہ قلم کا بے ساختہ اور رچا ہوا اسلوب کہ جانے کون کون سی حسیات کی تسکین کا سامان۔
ریل کے اس تذکرے میں زوال کا نوحہ بھی ملتا ہےاور شگفتہ واقعات خندہ زیرلب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ دلچسپی کا عنصر کسی افسانے یاناول سے کم نہیں اور معلومات کسی نصابی کتاب سے بھی زیادہ، مگر اسلوب کی خوبصورتی قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخری سطر تک برقرار رہتی ہے۔

Buy Now

 1,800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Mata e Shaam e Safar متاع شام سفر

Mata e Shaam e Safar

Autobiography خودنوشت سوانح


کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی
وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت

ضمیر جعفری کو توغالباً ایسے کام یاد آ گئے ہوںگے، جو کرنے کے تھے مگر ابھی تک کر نہ سکے ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی تو کرنے کے لیے نہیں تھامیں پریشان کیوں ہوتا؟ ایسے میں شامِ زندگی صرف ماضی میں ہی جھانکنے کا حوصلہ دلاسکتی ہے۔ ماضی کے لمحات، زندگی کے قیمتی لمحات کی ایسی تصویریں جو سرعت کے ساتھ وقت کے دھندلکوں میں غائب ہوگئی تھیں، یقین نہیں آتااس طرح آ موجود ہوں گی۔یہ ماہ و سال پھسل کر کدھر کو نکل گئے تھے؟ مُٹھی میں بند ریت کے ذرات کی طرح۔ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس، خاموش اور دبے پائوں ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں ایسی جگہ جہاںشعور کی روشنی کا کوئی گزر نہیں۔ماضی میں جانے کے لیے جہاں دل میں بے پناہ خواہشیںمچل رہی ہوتی ہیں، وہاںکتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ماضی پیارا ہوتا ہے، اپنا ماضی۔ یہ یادوں کی وہ صلیب ہے جو انسان کو کسی حالت میں نہیں چھوڑتی۔اس کے دُکھ، اس کے سُکھ، تکلیف اور آرام،اس کی ہر شے اپنی اور اپنی چیز کسے پیاری نہیں ہوتی۔شاہ ہو یا گدا، غریب ہو یا امیر، سب ماضی کے اسیر۔ماضی ہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت۔ مستقبل تو کسی نے دیکھا نہیں۔اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اس کا ہر لمحہ تیزی سے ماضی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حال ہے کہاں؟ کیا ہم ایک سیکنڈ کو حال کہیں گے؟ سیکنڈ کے دسویں حصے کو یا اس کے کروڑویں حصے کو؟ ہم تو مستقبل کو ماضی بنتے اورحال کو بے حال ہوتے ایک تماشائی کی طرح اس منظرنامے کو تکتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں سوائے ماضی کے اور اچانک کسی وقت ہم سب اسی ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ رہے نام اللہ کا۔

مصنف
Buy Now

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Badbaan

Badbaan بادبان

چکوال کے قلندرمحمدخان نے اُس زندگی کو لکھا ہے جو اُس کے سامنے کی ہے۔ وقار شاہ کا چھوٹا بیٹا اورگدی نشین اصغر شاہ باوا، ملیار خاندان سے متعلق وہ منشی جس میں شاہ جی کی جان تھی، گاؤں کا نائی جو باوا جی کی حجامت بناتا تھا، ناظر، تحصیلدار، ڈی سی اور ان جیسے کئی اور کردار جو دیہی زندگی کاجزو ہوتے ہیں یا دخیل، قلندر محمدخان نے انہیں اپنے سادہ لفظوں میں ایک کہانی کی صورت لکھ دیا ہے۔

Buy Now

 650
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Baraf ki Aurat برف کی عورت

Baraf ki Aurat برف کی عورت

شاہین کاظمی نے ان افسانوں میں اپنے تخلیقی وفور اور فنی مہارت سے نسوانی محسوسات اور مسائل کو اس طرح اجالا ہے کہ صنفی امتیاز کاشائبہ تک نہیں ہوتا اورمسائل خالص انسانی سطح پہ ظہور کرتے ہوئے قاری کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں۔ مصنفہ نے صنفی تقسیم سے ماورا ہو کر نسوانی جذبات کو اتنی خوبصورتی سے زبان دی ہےکہ قاری دوران مطالعہ اپنی عورت یا مرد کی حیثیت بھو ل کرکہانی کے ساتھ بہنے لگتا ہے
Buy Now

 750
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Manzil e Murad منزل مراد

Buy Now

Manzil e Murad منزل مراد

 600
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Dastan e Zeest داستان زیست

Dastan e Zeest داستان زیست

چکوال کے محمد خان قلندر کی اس کتاب میں دو چار نہیں تو ایک دو سخت مقام تو آنے کو تیار تھے مگر ہمارے یار نے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لئے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔
قلندرانہ باتیں جو وہ کر گئے ان کی بابت کہنے کا ہمارا مقام ہے نہ حق، وہ جو کچھ کہہ گئے اس بابت وہ سینے پر ہاتھ مار کے کہہ سکتے ہیں، “ مہ قلندرانہ گفتم !
کتاب کی نثر رواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظر بدلتے جاتے ہیں دلچسپی ہے کہ کم نہی ہوتی۔بیدل نے کہا تھا، “تو حنا بستی و من مفئی رنگیں بستم”۔تو نے مہندی لگائی تو میں رنگوں بھری باتیں لکھنے لگ گیا۔
ان کی نثر پنجاب کے اردو لکھنے والے کی زبان ہے سادہ بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آ گیا تو وہ پنجابی سے آیا۔ وہ لفظوں کی توتا مینا نہیں بناتے، مقصد کی بات کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں، رُک کر تفصیل دینے کی بجائے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں، مبالغہ بھی نہیں، تفاصیل بھی نہیں، اردو میں پنجابی اہل قلم کا ایسا ہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاریگری ہے نہ تکلف نہ صنائع بدائع، سیدھی دوٹوک بات اور صاف بیان۔
ہمارے ہاں ادب میں ایک صنف ہوا کرتی تھی جسے ڈائری لکھنا یا روزنامچہ کہا جاتا تھا۔ انگریزی ادب میں بھی اینے فرانک کی ڈائری نے پچاس کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں اپنی جگہ بنائی ہمارے ہاں ڈائری لکھنے کا شغل انہی زمانوں تک چلا۔ اس کتاب کو میں روزنامچہ ہی کی صورت دیکھ رہا ہوں اگرچہ اس میں کسی دن کسی تاریخ کا اندراج نہی ایک روزنامچہ کی طرح اشاروں سے اختصار کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے روز و شب کا نچوڑ یہاں جمع کر دیا۔

Buy Now

 500
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Ilm ka Musafir علم کا مسافر

Buy Now

Ilm ka Musafir علم کا مسافر

 850
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Bank Interest بنک انٹرسٹ: منافع یا ربا

Bank Interest

سود کے موضوع پر لکھنے والوں نے ربا کی جتنی بھی تعریفیں کیں ہیں ان کا تنقیدی جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کا اطلاق کیونکر بینک انٹرسٹ پر درست نہیں ہو سکتا ۔ جتنے اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی مفاسد بتائے جاتے رہے ہیں ان کا تعلق قرآن مجید کے بیان کردہ ’’ربا‘‘ سے تو صاف نظر آ تا ہے مگر بینک انٹرسٹ پر نہیں ۔ اسی طرح لغت اور قرآن مجید کے سیاق و سباق سے ’’ربا‘‘ کی حقیقت وہ نہیں معلوم ہوتی جو بینک انٹرسٹ سے ظاہر ہوتی ہے ۔
اسلامی بینکوں نے بھی اسی لیے مجبورًا وہی طریقے اپنا رکھے ہیں جو روایتی بینکوں کے ہاں ملتے ہیں ۔
Buy Now

 2,200
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Deeni Madaris دینی مدارس: روایت اور تجدید

Deeni Madaris دینی مدارس: روایت اور تجدید

 1,050
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Kamyabi ka Mughalta کامیابی کا مغالطہ

Kamyabi ka Mughalta

اپنی افتادِ طبع، تعلیم اور حالات کے باعث میں ایک عرصے سے مروجہ Success Literature کے متعلق مشکوک چلا آرہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کے متعلق میرے شکوک اور الجھنوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ انہی الجھنوں اور شکوک کے باعث میں نے پہلے پہل اس لٹریچر کے بارے میں نجی گفتگو میں غیر سنجیدہ انداز میں استہزائیہ تبصرے کرنے شروع کیے جن سے عموماً لوگوں چڑتے تھے۔ محض لوگوں کی چڑ سے لطف اندوز ہونے کیلئے میں نے سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی تبصرے شروع کر دیے تو مجھے احساس ہوا کہ اس لٹریچر کے مختلف پہلووں پر سنجیدہ اور مربوط تنقید بھی کی جاسکتی ہے ی،وں یہ کتاب وجود میں آئی۔ یہ کاوش کتنی وقیع ہے اسکا فیصلہ تو قارئین اور اہل علم کریں گے لیکن میرے علم کی حد تک یہ اردو زبان میں مروجہ Success Literature پر مربوط اور باقاعدہ تنقید کی پہلی کوشش ہے جو بہت سے اصحاب کیلئے باعثِ دلچسپی ہوگی۔
Buy Now

 800
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart

Hidayat ki Talash ہدایت کی تلاش

Hidayat ki Talash ہدایت کی تلاش

انسانی حواس ہمیشہ معروضی انداز میں کام نہیں کرتے اس لیے درست نتیجہ فکر تک پہنچنا آسان نہیں رہتا۔ حواس دراصل خود ہی حقیقت کی تلاش میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تمام تگ و تاز اور دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنے کے باوجو د منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔

اس کتاب میں انسانی علم کے اسی المناک پہلو کی داستان کا ذکر ہے۔

کتاب میں انسانی علم کے برعکس ایک دوسری قسم کے علم کا ذکر ہے جو انسانی حواس سے ماورا ہے۔ یہ علم ہمیں وحی ربانی سے متعارف کرواتا ہے۔ اس علم کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وحی پر مبنی علم میں انسانی علوم کی آمیزش اسے کیا بنادیتی ہے۔ تحقیق و تجسّس کی اس جستجو کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گذشتہ انبیائے کرام ؑ پر نازل ہونے والی کتابوں کو خود ان کے ماننے والوں نے کس قدر مسخ کرڈالا۔ ان کتابوں میں ہونے والی ترامیم اور اضافے کہیں تو شعوری کوشش اور مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر وقوع پذیر ہوئے اور کہیں ہر زمانے کے خصوصی حالات نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
Buy Now

 2,000
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart
Sale!

Daanish se Mukalma دانش سے مکالمہ

Daanish se Mukalma دانش سے مکالمہ

Original price was: ₨ 600.Current price is: ₨ 500.
Buy Now Quick View/ Brief Info
Add to cart