Rishton Ki Talaash Mein | رشتوں کی تلاش میں | والدین اور بچے
Rishton ki Talash mein رشتوں کی تلاش میں: والدین اور بچے
یہ کتاب لکھنے کی بنیادی وجہ میرے ارد گرد کی دنیا کا مشاہدہ، والدین کے دل میں بسنے والی فکریں اور وہ بے شمار سوالات ہیں جو ان کے ذہن میں ابھرتے رہتے ہیں۔ میں نے بہت سی ماؤں کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں کے رویے، تربیت اور مستقبل کے لئے پریشان رہتی ہیں کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے، بچے دوری کیوں محسوس کرتے ہیں اور ان کے جذبات کو کیسے سمجھا جائے؟
ان سوالوں کی تلاش نے ہی مجھے یہ کتاب لکھنے پر مجبور کیا۔ یہ صرف مشوروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے تسلی اور رہنمائی ہےتاکہ فاصلے کم ہوں، سکون ملے، اور انھیں یقین ہو کہ ان کی کوشش کافی ہے، بس اسے کچھ اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
مصنفہ
Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر
Mera Ilmi Safar – Hossain Nasr میرا علمی سفر
زیرِ نظر کتاب کی اردو زبان میں پیشکش کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کے علمی و تحقیقی حلقوں، بالخصوص نوجوان محققین، اساتذہ اور طلبہ کو ایک ایسے فکری اسلوب اور طرزِ زندگی سے روشناس کرانا ہے جو معاصر دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں سے گہرا تعلق برقرار رکھتا ہے۔ معاصر تناظر میں ایک مسلم دانشور، استاد اور محقق کے کردار کی علمی پہچان کیسے ممکن ہے؟ یہ کتاب اس سوال کا ایک عملی اور فکری جواب فراہم کرتی ہے۔
اسلامی تہذیب کی اساس’علم‘ پر استوار ہے، جو محض معلومات کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک روایت ہے جس کے برگ و بار لانے کے لیے گہرے فکری شعور اور طریقۂ تحقیق (Methodology) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر کی علمی اور فکری سوانح ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ طریقۂ تحقیق اور روایتی فکر کے میدان میں ان کا کام طلبہ کے لیے علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ معاصر فکری مباحث کا ایک متوازن ادراک بھی فراہم کرتا ہے۔
حسین نصر کی زندگی اور فکری سفر کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جدید اکیڈیمیا میں رہتے ہوئے اسلامی علمی روایت کااثبات اور ترجمانی کس طرح کی جا سکتی ہے۔اکیڈمک دیانت اور علمی روایت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی مفکرکی فکر سے کلی اتفاق لازم نہیں۔ راقم الحروف کو بھی ان کے بعض تفہیمی اور فلسفیانہ نتائجِ فکر سے علمی اختلاف ہے۔ فکرِ انسانی کا ارتقا دراصل اسی تنقیدی مطالعے (Critical Analysis) پر منحصر ہے۔
حقیقی طالبِ علم اور محقق کا منصب یہ نہیں کہ وہ محض ماضی کی تقلید کرے، بلکہ اس کا اصل کام اسلاف کے علمی کام کا معروضی جائزہ لینا، اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنا اور تحقیق کے نئے افق تلاش کرنا ہے تاکہ علمی تسلسل برقرار رہے اور فکری پیشرفت کی راہیں ہموار ہوں۔ حسین نصر کا فکری سفر اسی تعمیری اور تنقیدی روایت کی ایک اہم کڑی ہے، اور یہ کتاب اسی علمی مکالمے کو اردو داں طبقے تک پہنچانے کی ایک کاوش ہے۔
Cannibals and Kings Book
Cannibals and Kings تمدنوں کی اصل
مصنف مارون ہیریس معروف امریکی ماہرِ بشریات اور سماجی مفکر تھے جنہوں نے انسانی تہذیب، ثقافت، جنگ، مذہب اور معاشرتی ارتقا پر گہرا کام کیا۔ ان کی تحریروں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پیچیدہ تاریخی اور سماجی موضوعات کو سادہ مگر فکر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ Cannibals and Kings اُن کی نمایاں تصانیف میں شمار ہوتی ہے جس میں تہذیب کے ارتقا کو ایک منفرد زاویۂ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔
Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی
Technopoly ٹیکنالوجی کی غلامی
“A provocative book… a tool for fighting back against the tools that run our lives.” —- Dallas Morning News
The Surrender of Culture to Technology
یعنی ثقافت کا ٹیکنالوجی کے آگے ہتھیار ڈال دینا۔۔۔ نیل پوسٹمین (Neil Postman) کی 1992 میں شائع ہونے والی ایک اہم کتاب ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے انسانی معاشروں پر اثرات کے بارے میں تنقیدی اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتی ہے۔
یہ کتاب آج 2026 میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ سوالات اور خدشات جو پوسٹمین نے 1992 میں پیش کیےتھے، اب ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ذیل میں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب آج کے دور میں بھی غیر معمولی معنویت اور اہمیت رکھتی ہے:AI اور Automation کا غلبہ
پوسٹمین کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری پالیسی، صحت، مالیات، تعلیم میں الگورتھمز مستقل فیصلے کر رہے ہیں۔ انسانوں کے بجائے مشینوں کی ریٹنگ، اسکور اور ڈیٹا پر اعتماد بڑھ چکا ہے۔پوسٹمین نے خبردار کیا تھا کہ ٹیکنوپلی میں ٹیکنالوجی ’حقیقت‘ اور’سچائی‘ کو define کرنے لگتی ہے۔یہ آج کی AI- دنیا کی مکمل تصویر ہے۔
ڈیٹا نیا دیوتا بن چکا ہے
پوسٹمین کا خیال تھا کہ ٹیکنوپلی میں:’معلومات اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ معنی کھوجاتے ہیں‘۔ آج Big Dataہر جگہ موجود ہےہر چیز “برانڈ اسکور” اور “اینالیٹکس” سے چل رہی ہے۔ نجی زندگی ڈیٹا کی شکل میں کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی معلومات بڑھ چڑھ کر انسانی آزادی اور خود مختاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
سوشل میڈیا اور Attention Economy نے انسان کو صارف بنادیا ہے
پوسٹمین نے جس “تکنیکی ثقافت ” سے خبردار کیا تھا، وہ آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے:TikTok، Reels، Short کی وجہ سے انسانی تعلقات میں توجہ کا بحران شدید ترین ہوچکا ہے۔ الگورتھمز رائے عامہ بنا رہے ہیں۔جھوٹی خبریں معاشروں کو تقسیم کر رہی ہیں۔لوگ اصل تعلقات کے بجائے اسکرین تعلقات میں قید ہیں۔ یہ سب پوسٹمین کے اس خیال کی تصدیق ہے کہ ٹیکنوپلی انسانی شعور پر قبضہ کر لیتا ہے، اسے مفلوج کردیتا ہے۔
تعلیم کا مقصد مشینوں کی ضروریات کے مطابق ڈھل رہا ہے
بچوں کو coding، STEM اور ہنر تو سکھایا جا رہا ہےمگر اخلاقیات، فلسفہ، اور انسانی سائنسز نظر انداز ہو رہی ہیں۔تعلیمی عمل ’’سافٹ ویئر + ٹیسٹنگ‘‘ کی مشین بن چکا ہے۔یہ وہی چیز ہے جسے پوسٹمین نے تعلیم کی تکنیکی غلامی کہا تھا۔
Meaning Crisisمعنی کا بحران
زندگی کا مقصد دھندلا رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ اجتماعی شناخت کا زوال، روحانی و اخلاقی پیغام کا کمزور ہونا،ٹیکنالوجی نے سب کچھ آسان تو کر دیا، لیکن زندگی زیادہ بے معنٰی، بے ربط اور بے سمت دکھائی دینے لگی ہے۔پوسٹمین نے کہا تھا:”ٹیکنوپلی ثقافت سے معنی چھین لیتی ہے اور اسے کارکردگی سے بدل دیتی ہے۔”آج یہ بات حقیقت بن چکی ہے۔
انسان بمقابلہ مشین
آج ہم ان سوالات کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں:کیا مشینیں اخلاقی فیصلے کر سکتی ہیں؟کیا AI کو انسانی حقوق جیسے حقوق ملنے چاہئیں؟اگر الگورتھم غلط فیصلہ کرے تو ذمہ داری کس کی ہے؟پوسٹمین نے یہی بتایا تھا کہ ٹیکنوپلی (ٹیکنالوجی زدہ سماج ) میں فیصلوں کا مرکز انسان نہیں رہتا، ٹیکنالوجی بن جاتی ہے۔ یہ کتاب آج کے دور کا آئینہ ہے۔ اس لئے آج زیادہ اہم ہے، کہ یہ محض ٹیکنالوجی پر تنقید نہیں بلکہ یہ ہمیںیہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کا مالک ہے، غلام نہیں۔ اقدار، اخلاقیات، اور معنی سب سے اہم ہیں۔ ٹیکنالوجی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں انسانیت کی حفاظت ایک لازمی فریضہ ہے۔یہ کتاب آج سماجی بقا، فکری آزادی اور انسانی شناخت کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ضرورت بن چکی ہے۔
یہ محض ایک کتاب کا ترجمہ نہیں، بلکہ مغرب میں جدید ٹیکنالوجی کے سماجی، اخلاقی اور فکری مباحث کو اردو بولنے والے معاشروں تک پہنچانا ہے۔اردو معاشروں میں ٹیکنالوجی پر تنقیدی سوچ کم پائی جاتی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ لوگوں میں سوال اٹھانے کی قوت پیدا کرتا ہے کہ: ٹیکنالوجی ہمیں کن بنیادوں پر بدل رہی ہے؟ ہماری اقدار اور سماجی ڈھانچے پر اس کے کیا اثرات ہیں؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے مالک ہیں یا اس کے تابع؟
درحقیقت ٹیکنالوجی کی ethics پر گفتگو کم ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی کی آگاہی نہیں۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا سیاسی انتشار پیدا کر رہا ہے۔ کتاب کا ترجمہ ان مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ پوسٹمین نے جو باتیں 1992 میں کہیں، وہ آج ہمارے خطے میں پوری شدت سے نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ ترجمہ صرف علمی نہیں، بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی طور پر بھی بہت اہم ہے۔
Iqbal by Ali Khamenei اقبال: مشرق کا بلند ستارہ
Iqbal by Ali Khamenei
اقبال: مشرق کا بلند ستارہ
’’اقبال: مشرق کا ستارہ‘‘ اُس فکری روشنی کا بیان ہے جس نے بیسویں صدی کے جمود کو توڑ کر مشرق کی تقدیر بدلنے کا خواب دیکھا۔ علامہ اقبال کی فکر وہ ہمہ گیر حقیقت ہے جس کی بازگشت علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے افکار کی تفہیم اور انہیں نئی نسل تک پہنچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو مشرق کے علمی و روحانی احیاء کا خواہشمند ہے۔ زیرِ نظر تقریر کا ترجمہ میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ترجمے کے دوران نہ صرف لفظی معنویت برقرار رہے، بلکہ وہ لب ولہجہ بھی منتقل ہوجائے، جس کی تاثیر لفظوں سے بڑھ کر ہے۔ سید علی خامنہ ای صاحب کی اس تقریر کا اہم ترین پہلو علامہ اقبال کی فارسی شاعری اور ایرانی شعور کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ وہ اقبال کوروحانی پیشوا کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خامنہ ای انقلاب ایران کے روح رواں ہیں، اور اُن کا ایرانی مفکرین پر گہرا اثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے جس ’خودی‘ اور ’حریت‘ کا درس دیا، اس نے ایرانیوں کے اندر سوئے ہوئے اس انقلابی جذبے کو بیدار کیا۔ ایرانی دانشوروں، بالخصوص ڈاکٹر علی شریعتی اور آیت اللہ خامنہ ای کے ہاں اقبال کا تذکرہ اس قدر کثرت سے ملتا ہے کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ایران کا فکری انقلاب اقبال کے’لا الہ‘ کی گونج کے بغیر ادھورا تھا۔ علی شریعتی نے تو اقبال کو ’’مصلح قرن آخر‘‘ قرار دیا۔ اقبال نے ایرانی قوم کو ان کی ساسانی یا نسلی پہچان کے بجائے ان کی ’’اسلامی شناخت‘‘ سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مشرق کی نجات مغرب کی اندھی تقلید میں نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں کی طرف واپسی میں ہے۔ اس کتاب میں یہ نکتہ تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح ایک ’ستارۂ مشرق‘ نے اپنی فارسی زبان کے اثر سے سرحدوں کی قید توڑ کر تہران کے گلی کوچوں میں آزادی کا چراغ روشن کیا۔
سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین
سکون صبح اور طلوع آفتاب کی سرزمین
جاپان اور کوریا کا سفرنامہ
Asmaan Taly Bikhry Moti
Asmaan Taly Bikhry Moti
آسمان تلے بکھرے موتی
ملائشیا، سنگاپور، فلپائن اور تھائی لینڈ کا سفرنامہ
Riding the Storm: Muhammad bin Qasim
Riding the Storm: Muhammad bin Qasim
Tarik Jan deserves congratulations for his remarkable literary effort in reviving and making relevant Nasim Hijazi’s masterpiece on Muhammad bin Qasim for the contemporary context.
Rumi ki Sarzameen Pe
Rumi ki Sarzameen Pe (رومی کی سرزمین پہ) Rumi ki Sarzameen Pe (رومی کی سرزمین پہ) ایک دلکش اردو سفرنامہ
Chal Musafir Chal چل مسافر چل
Chal Musafir Chal چل مسافر چل
اسپین اور پرتگال کا سفرنامہ
Tehzeeb ki Qirat تہذیب کی قرات
تہذیب کی قرات – Tehzeeb ki Qirat
احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔
Pothohar: Historic and Sacred Spaces
Pothohar: Historic and Sacred Spaces
This is the fourth volume in the History, Culture, and Heritage of Pothohar Series. Drawing on extensive ethnographic research, Pothohar: Historic and Sacred Spaces explores how people interact with havelis, temples, tombs, and shrines in everyday life. Through conversations, observations, and local narratives, the book captures Pothohar as a lived cultural landscape, highlighting both its rich diversity and the urgent need to preserve its fragile heritage.
Qafas sy ati Roshni قفس سے آتی روشنی
Qafas sy ati Roshni قفس سے آتی روشنی
Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام
Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام
یہ کتاب اردو زبان کے تعلیمی، تنقیدی اور فکری ادب میں ایک ایسی نئی جہت پیش کرتی ہے جو اپنی نوعیت میں اولین ہے۔ مصنف نے ’’رٹا‘‘ جیسے عام اور رائج تصور کو محض حفظ یا بغیر فہم کے یاد کرنے کے محدود دائرے سے نکال کر تعلیم، نفسیات اور عمرانیات کے وسیع تر پس منظر میں دیکھا ہے۔ شاید اردو زبان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ’’رٹے‘‘ کو اتنے ہمہ گیر زاویوں اور گیرائی سے پرکھا گیا ہے۔
Circle of Destiny – Novel
Circle of Destiny
A story of love and betrayal, friendship and deception, death and destruction spanning regions and moving across multiple geographical locations. Sweeping account of a nation traumatized by suicide bombings, terrorism, and militancy. Entire generation entrapped in the confusion of ideological quagmire ignited by political instability and fueled by the power of mass media.
Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں
Talban K Saey Men طالبان کے سائے میں
افغانستان دنیا کے لیے ہمیشہ ایک پہیلی کی مانند رہا ہے، پہیلی بھی سادہ نہیں بلکہ تہہ در تہہ الجھی ہوئی۔ یہ پیچیدہ کہانی انہیں بھی آج تک پوری طرح سمجھ نہیں آئی جو برس ہا برس تک افغانستان میں کھیلے جانے والے آگ اور خون کے کھیل کا حصہ رہے۔ وہ لوگ بھی اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام رہے جو خطے کے امن کی خاطر نیک نیتی سے اس میدان کارساز میں کودے۔
Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر
Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر
The Glass Menagerie by Tennessee Williams
کانچ کا گھر
A Brief History of Engineering Design
A Brief History of Engineering Design
The field of engineering design has been a driving force behind human progress since time immemorial. It is a discipline born from necessity and nurtured by human ingenuity—a testament to our relentless quest to solve problems, improve our environment, and create a better future. A Brief History of Engineering Design: From Ancient Innovations to Modern Solutions is a journey through time that traces the evolution of this transformative field, exploring how ancient ingenuity has paved the way for today’s cutting-edge technologies.
Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے
Eugène Ionesco یوجین ایونیسکو کے چار ڈرامے
Red (Novel)
Something’s off in the city tonight.
Under the city lights, something waits in the dark. It’s in the alleys where the trash cans rattle and in the backseats of the parked cars. The lads are used to keeping secrets, and it seems so are the birds, but some secrets start to keep you. They pull you in, whispering about the things you thought you’d never do or the things you thought were just in your head. What you see in the shadows might not be just your imagination.
And be careful when you look— it might just stare back.
Praise for R3D
“This book had me on edge from start to finish! The twists were mind-blowing, and the psychological depth of the characters made it impossible to put down. One of the best thrillers I’ve read in a long time!”
— Dr. Saba Javed, Psychiatrist, MBBS, FRANZCP
Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار
Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار
ڈاکٹر غیور ایوب سرجری کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ ان کاتعلق پاراچنار سے ہے، جو افغانستان کی سرحد پر تورا بورا کے اس پار واقع ہے۔ ان کا بچپن ایک ایسے گاؤں میں گزرا جو تیرہ ہزار فٹ بلند برف پوش کوہِ سفید کے دامن میں واقع ہے۔ فطرت سے ان کی طبعی محبت اسی ماحول کا نتیجہ ہے۔ 1979 میں اعلیٰ جراحی کی تربیت مکمل کرکے، وہ برطانیہ کو خیر باد کہہ کر اپنی برطانوی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاراچنار واپس لوٹے۔ اس وقت افغان جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ انہوں نے افغانستان سےمسلسل آنے والے لاتعداد زخمیوں کا علاج شروع کیا۔
یہ کتاب ان کے انہی مشاہدات اورتجربات کا امتزاج اور عکس ہے، جو انہیں 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور 2001 میں 9/11 کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کرتے ہوئے حاصل ہوئے۔
یہ ناول حقائق اور افسانوی واقعات کاحسین امتزاج ہے، جس میں ڈاکٹر غیور نے رومانوی، تاریخی، دینی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کو پرونے کی کوشش کی ہے۔ آج کل وہ برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔
Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر
Siasi Koh-e-Taqseer: Baluchistan سیاسی کوہِ تقصیر
پاکستان کے نام اور رقبہ کا سب سے بڑا حصہ، بلوچستان، آج ہمارے خدشات، پریشانیوں اور پچھتاوں کا بھی سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔ یہ داستان ہماری ناکامیوں، نالائقیوں، عاقبت نااندیشیوں، ہئیت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں اور جملہ ارباب اختیار کے مجرمانہ فیصلوں کی داستان ہے۔
محمد ریاض صاحب نے خودنوشت کے پردے میں داستانِ حیات کےعنوان سے شہرِ آشوب تصنیف کیا ہے۔ یہ کتاب غلطیوں کےپہاڑ، بنجر فیصلوں اور امیدوں کے مقتل کی ایسی داستان ہے جو بلوچستان کے پہاڑوں سے بلند اور گوادر کے سمندر سے گہری ہے۔ مصنف کی چشم بصیرت نے ایک شہری کی حیثیت سے اور پھر صوبہ کے پولیس سربراہ کے طور پہ، جو کچھ دیکھا، دردِ دل سے بیان کیا۔ اس بیان میں بلوچستان کی ثروت مند تاریخ، جغرافیہ، خوبصورت روایات اور منفرد کلچر کا تعارف بھی ہے اور سیاسی و سماجی منظر کا تجزیہ بھی۔عام لوگوں کی زندگی کا دلچسپ اور سنجیدہ بیان بھی ہے اور سیاسی، انتظامی، قبائلی اور مذہبی قائدین کا کردار بھی۔ ایک جانب یہ گواہی نظام کے اندر جھانکنے کے لئے عام آدمی کو کھڑکی فراہم کرتی ہے تو دوسری جانب اہل اختیار کے اختیار کی حیثیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر کی آنکھ، تماشہ، تماش بین اور تماشہ گر، اس قطرہ میں دجلہ دیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ روزِ عمر کے آخری پہر میں ٹھہرے ہوئے ایک فرزندِ زمین کا یہ بیانِ حلفی اپنے بین السطور میں فردِ جرم بھی ہے اور اعترافِ جرم بھی۔ کیا اپنے اپنے گوشہء عافیت میںمقیم ہم لوگ بھی اس اعتراف میں شریک ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اس کتاب کا مخاطب بلوچستان کے شہری سے زیادہ ملک کے دیگر صوبوں کا فرد ہے۔ ہر وہ فرد جو پاکستانی کہلواتا ہے اور کہلوانا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو بالواسطہ یا بلاواسطہ بلوچستان کے لئے کچھ کرسکتا ہے یا کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے یہ کتاب ایک سے زائد بار پڑھنی چاہیے کہ تشخیص و تعارف کے بغیر حل کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہماری لاعلمی ہماری ناکردہ کاری کا جواز نہیں بن سکتی۔
Adha Saans آدھا سانس (ناول)
Adha Saans آدھا سانس (ناول)
اوائل عمری کا وہ وقت مجھے کبھی نہیں بھولتاجب میرے اردگرد کی خواتین اور لڑکیاں سلمیٰ کنول، رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمٰن کے نئے آنے والے ناول کا انتظار کیا کرتی تھیں۔ پھر میرے لکھنے کے وقت میںنے یہ خاصہ عمیرہ احمدمیں دیکھا۔ یقینا ً کئی اور معتبر لکھنے والیاں بھی ہوں گی لیکن میرا حاشیہ اِن چاروں کے گرد کھِچا رہا۔ عمیرہ احمد ناول نگاری کے بعد ڈرامہ نگاری کی طرف آئیں تو یہاں بھی اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔
یہ تو میرے تجرباتی سفر کے مشاہدات تھے لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک نئی لکھنے والی کے ناول کو پڑھنے کا موقع مِلا۔ تحریر میں شگفتگی ،شستگی واردات اور جنون کو دیکھ کر لگاکہ کوئی دل والی ہے۔ خود چوٹ کھائی ہے یا چوٹ مارنے والی ہے۔ وہ ہے آمنہ شبیب اس نے ’’آدھا سانس‘‘ لکھا ہے۔ اس کا ناول پڑھ کہ پتہ چلا محبتوں کو گنوا کر بیٹھے ہوئے جنونی لوگ پورا سانس کہاں لیتے ہیں۔ تحریر میں پختگی ہے لیکن وقت عمر تجربہ قلم کو نیا روپ دینے کی اساس مانی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ تحریر اور لہجے کی سلوٹیں اُترنے لگتی ہیں۔
اور ایک دن اللہ کی مہربانی سے حرفِ قلم یکتائی کی معراج تک جا پہنچتا ہے۔ تحریر میں نیا پن یہ بھی دیکھا کہ آمنہ شبیب باہمی گفتگو کو مکالمے کی طرز پر لکھتی ہے جیسے ہم ڈرامہ نگار لکھتے ہیں۔ کردار کا نام اور پھر اس کے سامنے مکالمہ۔ یہ شاید اس بات کی نوید ہے کہ آج کی یہ ناول نگار کل کی ایک مایہ ناز ڈرامہ نگار بنے گی۔
دُعا ہے ناول نگاری میں ایک دن اسے سلمیٰ کنول ، رضیہ بٹ اور بشریٰٰ رحمٰن کے احاطے میں دیکھوں اور ڈرامہ نگاری میں اسے بھی عمیرہ احمد جیساامتیاز نصیب ہو۔
آخر میں آمنہ شبیب سے کہوں گا یادرکھنا لکھنے والا سب سے بڑا بھکاری اور چور ہوتا ہے۔ لیکن اس بات میں اعزاز یہ ہے کہ وہ مانگتا اپنے پروردگار سے ہے اور چوری لوگوں کے دُکھ اُن کی تڑپ اور اُن کے جذبات کی کرتا ہے۔
خلیل الرحمان قمر
سچ کہوں تو ناول پڑھتے ہوئے مجھے یہ احساس بار بار ہوا کہ آدھا سانس لینے والوں کا حال وہی ہوتا ہے۔ جو جل بن مچھلی کا ہوتا ہے ، وہی تڑپ وہی بے قراری، وہی حالتِ نزع وہی۔محترمہ آمنہ شبیب کا آدھا سانس اس حبس زدہ ادبی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔
روتباک برک
Buy Now
A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر
A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر
تین ایکٹ کا یہ کھیل پہلی مرتبہ 21 دسمبر 1879 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک کے رائل تھیٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل میں اس وقت کی نارویجئین شادی شدہ خواتین کا بیان کیا گیا ہے جنہیں اپنے فیصلوں میں خودمختاری حاصل نہ تھی۔ اگرچہ ابسن نے متعدد مرتبہ اس رائے کی تردید کی کہ یہ کھیل جدید حقوق نسواں کا علمبردار ہے، تاہم اس کھیل نے اپنی پیش کش کےساتھ ہی چاروں جانب کھلبلی مچا دی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب چرچا رہا۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
The Enemy of the People سماج دشمن
The Enemy of the People سماج دشمن
یہ کھیل 1882 میں قلم بند کیا گیا جو انیسویں صدی کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں معاشرتی منافقت پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ایک تلخ سماجی حقیقت کو افشا کرتا ہے اور اس کی سزا پاتا ہے۔ اس کھیل کے بارے میں ابسن اپنے پبلشر کو ایک خط میں لکھتا ہے، “میں اب بھی تذبذب کا شکار ہوں کہ اس کھیل کو ڈرامہ کہوں یا کامیڈی۔۔۔ اگرچہ اس کھیل میں طنزیہ کامیڈی کے عناصر ہیں لیکن اس کا ڈھانچہ ایک سنجیدہ تخیل پر کھڑا ہے۔”
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
Buy Now
Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر
Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر
یہ کھیل پہلی مرتبہ 31 جنوری 1891 کو میونخ میں ابسن کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔ اس کھیل کو ادبی حقیقت پسندی، انیسویں صدی کے تھیٹر اور عالمی تھیٹر تحریک میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔ ایک نامی گرامی جنرل کی بیٹی، ہیڈا گابلر، خود کو ایک بے کیف شادی اور اور ایک بے زار گھریلو زندگی میں مقیّد پاتی ہے۔ ہیڈا گابلر کا مرکزی کردار عالمی تھیٹر کے ایک نمایاں کردار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناقدین نے ہیڈا گابلر کو ہیملٹ کا نسوانی روپ قرار دیا ہے۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
Punchline پنچ لائن
Punchline پنچ لائن
قومی مسائل پر کالموں کا مجموعہ
Buy Now
Iris Leghari: Life & Times in Pre-Partition
Iris Leghari
A first-hand account of an English woman’s experience of living in the Indian sub-continent.
Epidemics of various diseases broke out in the camps and hundreds died from them. One could smell the stench of dead bodies seven miles away. People used to ring me up at the house, to ask me to get in touch with the authorities and ask for more time to bury their dead. Needless to say, I hardly saw my husband during these terrible days.
Oxford, England. 1932
Iris Titherley, an English equestrian and horse trainer, meets Ata Mohammad Khan Leghari, an Indian student at Oxford University with a feudal background. They fall in love, marry and move to India where Ata joins the prestigious Indian Civil Service.
Iris, a foreigner in a faraway land, struggles at first to make sense of the culture and traditions in her adopted country but spends her time hunting bulls, riding into the hills and shooting with tribesmen. In time, she finds camaraderie with the locals and respect within the family.
Part-memoir, part-travelogue, Iris Leghari: Life and Times in Pre-Partition India and Pakistan is an account of an adventurous and fulfilling life, brimming with interesting observations, anecdotes, and pictures of travels through India, the Middle East and Europe. It is a rare and unique memoir, and a story of love, adventure and belonging.
Buy Now
Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو
Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو
صمد بہرنگی کی کہانیاں ترجمہ کرنا صرف الفاظ کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا کام ہی نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا ادبی سفر ہے جس میں سیکھنے کے کئی مقام آتے ہیں۔ زبان و بیان کی بل کھاتی سڑک ہو یا پھر ذخیرۂ الفاظ کا گھنا جنگل، تشبیہ و استعارات کا ایک بوستان ہو یا پھر بیانیے کی بہتی ندیا، یا کہ داستان گوئی کا دریا ہو جس کے کنارے اپنی کہانی کی کشتی لگانی ہو۔ اس ادبی سفر میں آپ کو سب ملے گا۔ ان کی کہانیوں میں سے ثقافت، پرجوش اور ہوش مند انقلابی سوچ، ترقی پسند بیانیہ، ظلم کے خلاف آہنی دیوار بننے کا درس یہ سب ترجمہ کرتے وقت میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھا کی۔ کہ میرے حصے میں وہ ادیب آیا جو کہانی کے بہانے جانے کب آنسو بہا لیتا تھا اور کب چُٹکی بجا کر ہنس و ہنسا لیتا تھا، کم ہی یہ راز جان پائے۔ ان کا قلم لکھتا نہیں، گاتا تھا۔ بلکہ بانسری بجاتا تھا۔ درد و الم کی بانسری۔ جو ظالم کے خلاف بجائی جاتی تھی مگر اس کی لے پر جھومتا وہ بھی تھا۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now
Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی
Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی
ترک ادبیات میں، بطور مترجم، صمد بہرنگی کی اس چھوٹی سی کتاب سے بڑے اورضخیم کام میری توجہ کے طالب تھے۔ مگر بطور ایک قاریہ کے میرے لئے بچپن کی یادوں کو سمیٹے ہوئے اس کہانی کا ترجمہ اکساتا تھا۔
یہ ہر زاویے سے ایک مختلف کہانی ہے۔ آپ اسے مزاحمتی، انقلابی یا محبت و محنت، تجسس اور کوشش کی کسی بھی چیز کی کہانی سمجھ کر پڑھنا چاہیں۔ یہ آپ پر اپنا وہی پہلو کھولے گی۔ اور آپ کو بڑے یا چھوٹے ہوتے ہوئے احساس بھی نہ ہوگا کہ یہ کہانی آپ کی عمر کے لئے نہیں لکھی گئی۔ اس کہانی میں ہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ ہے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر کہیں نہ کہیں چھوٹی کالی مچھلی بستی ہے۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now
Sarang: History of Gakkhars
Sarang: History of Gakkhars
Dr. Saheeb A. Kayani’s book significantly contributes to the scholarly examination of the history of Gakkhars through its compilation of 20 insightful essays. Each essay provides a thorough exploration of a particular dimension of the history of Gakkhars. His work is notable not only for the depth of its content but also for the diverse range of historical sources he has carefully collected, analyzed, and used. This approach enables a more nuanced understanding of the Gakkhars’ past and their connection with the Pothohar region. This book will serve as an invaluable resource for scholars, providing a strong foundation for further research into the topics discussed. Many of the themes explored in this work have either been ignored in past studies or have received minimal attention from researchers, making the book particularly noteworthy.
Buy Now
Saints and Shrines of Pothohar
Saints and Shrines of Pothohar
Contents:
Acknowledgements
Introduction
1 Petroglyphs of Pothohar
2 Sarai Pakka Khanpur
3 Historic Bhagpur Village
4 The Pre-Partition Havelis of Daultala
5 Mosque and Mansions of Dhoke Musa Village
6 The Pre-partition Arya High School of Chakwal
7 The Works of Shrimati Jawala Devi of Vahali
8 Temples and Havelis of Bhaun
9 Jhelum’s Historic Padhri Village
10 Gakhar Monuments of Pharwala and Bagh Jogian
11 Rawat Monuments
12 Temples of Gujar Khan
13 Glorious Gulyana
14 Baba Khem Singh Bedi Haveli of Kallar Syedan
15 Nayika Paintings of Pothohar
16 Krishna Temple of Kallar Syedan
17 The Samadhi of Baba Mohan Das
18 Fateh Jang Temples
19 Sacred Landscape of Islamabad
20 The Chishti Sabiri Saints of Kalyam Sharif
21 Qadiri Qalandari Saints of Islamabad’s Tumair Village
22 Saints of Chak Bahadur and Bajrana Villages
23 Saints of Gujar Khan’s Dhoke Shams
24 Chishti Saints of Chawli
25 Janjua Saints of Chakwal
26 Naqshbandi Sufi Saints of Rupper Kalan Sharif
27 A Qadiri Naushahi Saint of Pind Bainso
28 Qadiri Saints of Wasala Bangial Village
Figures
References
Index
Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی
Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی
یہ کتاب اسلام یا کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کسی علم الٰہیات یا مذہبی نظریہ پر بھی مبنی نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کے بارے میں ہے، جو اسلام کی رہنمائی میں تشکیل پائی۔
مائیکل ہملٹن مورگن
یہ کتاب، جس کا مقصد ان کہی کہانیاں سنانا ہے، یہ نہ صرف اسلام کی ثقافتی اور علمی تاریخ کے لٹریچر میں عمدہ اضافہ ہے بلکہ مغرب سے اس کے علمی تعلق کا محقق بیان بھی ہے۔ اسلامی تہذیب کی اکثرکامرانیاں اور ان کا مغربی تہذیب سے گہرا تعلق اکادمی جریدوں تک محدود ہے۔ مزید برآں، بہت سے دستیاب کام تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
یہ کام مغرب والوں کو اسلام کے بارے میں جاننے میں مدد دے گا، اور انہیں یہ سمجھنے میں معاون ہوگا کہ جس طرح ہمارا ماضی علمی اور تعمیری فکروتحقیق سے جڑا ہوا ہے، ہمارا مستقبل بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اسلام کی تہذیبی اور فکری کامیابیاں یورپ کے لیے نامعلوم نہ تھیں، اور درحقیقت یہودی اور عیسائی فلسفیوں، سائنس دانوں، شاعروں، موسیقاروں، حتیٰ کہ ماہرینِ الہٰیات نے بھی اپنے مسلمان ہم عصروں کی کامیابیوں سے کافی استفادہ کیا۔
شاہ اردن عبد اللہ دوم
کتاب ’’تاریخ گُم گَشتہ‘‘ بہت اہم کتاب ہے۔ تاریخ کے وہ گُمَشدہ ابواب اس میں شامل کیے گئے ہیں ، جو اب تک بڑی تعداد میں یورپ کے کتب خانوں میں نامعلوم رہے ہیں۔
مائیکل ہیملٹن مورگن نے ان گُم شدہ ابواب سے علم کے چند موتی ہمارے لیے ایک لڑی میں پرودیے ہیں ۔ اسی اہمیت کے سبب اس کتاب کا خلاصہ اور ترجمہ کیا گیاہے۔
ناصر فاروق – مترجم
Buy Now
What Is to Be Done?
What Is to Be Done?
The civilization of Islam faces existential threat by modern industrial West. Despite many centuries of reform efforts, Muslim societies remain in disarray. This treatise analyses this dilemma in the light of evolution of human societies, rise of the West, and the catch up efforts made by five societies over the last three hundred years. While the analysis is in the context of civilization of Islam and Pakistan, the lessons drawn are universal, applicable to all traditional societies facing the challenges of modernity.
Buy Now
Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور
Maghrabi Fikr men Nazria e Tasawwur مغربی فکر میں نظریہ تصور
فہرست
تعارف: تہذیبِ تصور۔۔۔ آج؟
طریقہ تحقیق
ارتقا سے انحطاط تک
انسان پرستی کا تنازع
باب اول
جدیدیت سے پہلے کے بیانیے
عبرانی روایت’ تصور‘
قصہ آدم(علیہ السلام): مسئلہ خیروشر(YESTER)
عبرانی روایت۔ نفس کشی کا رستہ
راہ عمل
آدمی کا خیر وشراور تاریخ
ضمیمہ
خدا کی صورت پر مباحث
خدا کی صورت پر؟ عہد نامہ قدیم وجدید کی تشریحات
عہد نامہ قدیم کے ذرائع
عہد نامہ جدید کی تشریحات
دوسرا باب
یونانی ’’تصور‘‘
پرومیتھین دیومالا: تخلیق کاری
افلاطون کا ’’تصور‘‘
افلاطون کی ماوراالطبیعات
افلاطون کا ایک مخمصہ
تیسرا باب
آگسٹن، فلاطینوس، اور ازمنہ وسطی کا نظریہ تصور
تشریحات
رچرڈ سینٹ آف وکٹر
سینٹ بونا وینچیو
اکوئینس
ازمنہ وسطٰی میں تصویرکشی اوربت شکنی
تتمہ اول
ازمنہ وسطٰی میں ’وجود‘ کی ’پیشکش‘ کا وجودیاتی الٰہیاتی نظریہ
تتمہ دوم
فیلاکسینس آف ماباگ
تتمہ سوم
’تصور ‘پر موسٰی بن میمون کی رائے
چوتھا باب
جدید بیانیے
ماورائی تصور
کوپرنیکن انقلاب
عبوری تحریکیں
نشاۃ ثانیہ کی تحریک تصوف
ڈیکارٹ کا فلسفہ
تجربیت
کانٹ اور ماورائی تصور
کانٹ کی جمالیات
جمال سے جلال تک
جرمن مثالیت پسندی، فشٹے اور شیلنگ
رومانیت پسند تحریک
لب لباب: تصور کی پسپائی
تتمہ
کانٹین تصور۔۔۔ ہائیڈیگرکی تشریح
پانچواں باب
وجودی ’’تصور‘‘
کئیرکیگارڈ اورنٹشے
مثبت تنقید کا کلچر
کیئر کیگارڈ
بہترین آدمی
پرومیتیئھن پروجیکٹ
نٹشے
چھٹا باب
وجودی تصور دوئم
سارتر
البرٹ کامیو
ہائیڈگر
سارتراور تصورکی نفی
خودفریب ذہن کی صورتیں
پگمیلین Pygmalion
نارسیسس Narcissus
اعصابی خلل
وجودیاتی اطلاقات
انسان پرستی کا دوبارہ جائزہ
اخلاقیات کا سوال
ادب کا سوال
تاریخ کا سوال
اختتام
تصور کے بعد۔۔۔؟
ما بعد جدید بیانیے
تیسرا حصہ
ساتواں باب
بہروپیہ تصور
لاکاں: تصوریت کا انہدام
آلتوسے: تصور ایک باطل شعور ہے
فوکو: آدمی کا اختتام
رولاں بارت: تصنفیی تصور کی موت
دریدا: نقل در نقل کا نہ رکنے والا سلسلہ
اصل کے بغیر نقل
نہ ختم ہونے والا بحران
باب آٹھ
مابعد جدید ثقافت: مکمل تباہی؟
- (Pynchon)
امیجنیشن ڈیڈ امیجن (بیکیٹ)
جنجر اینڈ فریڈ (فیلنی)
پیرس، ٹیکساس (وینڈرز)
لی میگاسین ڈی بین (واٹیئر)
زندہ فن پاروں کا محل
تتمہ: پوسٹ ماڈرن آرٹ، فن تعمیر اور موسیقی پر کچھ اضافی تبصرے
مابعد جدید آرٹ
پوسٹ ماڈرن فن تعمیر پر پاولو پورٹوگیزی کے خیالات
فریڈرک جیمسن کا نکتہ نظر
ما بعد جدیدیت اور موسیقی
موسیقی کی سنجیدہ اور تجارتی شکلوں کا ملاپ
معاصر پاپ موسیقی میں پوسٹ ماڈرن خصوصیات
اختتام
تصور کے بعد؟
ایک اخلاقی تصورکی جانب بڑھتے ہوئے
شاعرانہ تخیل کی جانب بڑھتے ہوئے
مزاحمت کی حکمت عملی
تشریحی کام
تاریخی کام
بیانیے کا کام
پوسٹ ماڈرن تخیل کے چیلنجز
بعد ازاں
Islamiat Guide for class XI اسلامیات گائیڈ
Islamiat Guide for class XI اسلامیات گائیڈ
Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی
Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی
احمد فراز کے مطبوعہ و نشر شدہ انٹرویوز
Buy Now
Ramooz e Takhleeq رموز تخلیق
رموز تخلیق
کائنات، وقت اور انسان قرآن اور جدید سائنس کے تناظر میں
ڈاکٹر محمد عبد الرشید سیال کی نئی تصنیف ’’رُموزِ تخلیق‘‘ اس اعتبار سے بڑی اہم اور وقیع ہے کہ اس میں انہوں نے قرآنِ حکیم کو آج کے دور کے سائنسی نظریات کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مسلم امہ کے مفکرین کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اس مقدس کتاب کی حقانیت کو آج کے سائنسی انکشافات کے تناظر میں دیکھیں۔ آج بھی تخلیق کائنات کا عمل جاری و ساری ہے۔ ہماری کائنات ہر سیکنڈ میں تین لاکھ کلو میٹر کی رفتار سے پھیل رہی ہے۔ کائنات کی ان محیر العقول وسعتوں میں ہم محض ایک تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے بلکہ جدید اور اہم سائنسی انکشافات کو ہم قرآن کی روشنی میں پرکھ کر اپنے لئے ایک سمت کا تعین کرسکتے ہیں، قرآن جو روشنی اور حکمت کا سرچشمہ ہے، ہمہ وقت ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔
Buy Now
Urdu Imla اردو املا: مسائل و مباحث
Urdu Imla اردو املا: مسائل و مباحث
رشید حسن خان کے حوالے سے
میں نے اس کتاب میں اُن مضامین کو شامل کیا جو رشید حسن خاں کی کتابوں (اُردو اِملا، زبان اور قواعد، انشا اور تلفظ، عبارت کیسے لکھیں، اُردو کیسے لکھیں وغیرہ)، ان کی ابتدائی ادبی زندگی کے مضامین پر اور ان کی وفات کے بعد اصحاب ِقلم نے اِملا سے متعلق جو بھی لکھا اسے قارئین کے سامنے من و عن پیش کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے۔ علاوہ ازیں رشید حسن خاں کے اِملا سے متعلق لکھے گئے تین مضمون ضمیمے کے طور پر شامل کیے ہیں تاکہ قارئین بیک وقت اِملا کے بنیادی مسائل پر غور و خوض کر سکیں۔
Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم
Aadmi Ka Ilm – آدمی کا علم
پروفیسرہسٹن اسمتھ، پروفیسرجارج صلیبا، پروفیسرسچیکو مراتا، اور ڈاکٹر موریس بوکائلے امریکا،فرانس،چین، اور مشرق وسطٰی میں علمی حلقوں کے معتبرنام ہیں۔ یہ کتاب ’آدمی کا علم‘ ان اسکالرز کے مقالات اورمضامین کے ترجمہ پہ مشتمل ہے۔ ان کی خاص بات موضوعات پرمنفرد ، معیاری، اورمدلل تحقیق ہے۔ کتاب میںشامل جناب افتخار حیدر اورڈاکٹر غلام شبیرکے مضامین بھی عمدہ تحقیقی کاوش ہیں، جنہیں مؤقرانگریزی روزنامہ ڈان میں شایع کیا گیا۔
اس تالیف کا مقصد ازمنہ وسطٰی سائنس، جدید سائنس، جدیدیت، اور ما بعد جدیدیت پر ایسی وقیع تحقیق اردو قارئین و محققین کے سامنے لانا ہے، جس کی علمی افادیت مسلمہ ہے۔ ناصر فاروق کی یہ کاوش اردو کے دامن کو ثروت مند اور قاری کے افق کو توسع عطا کرے گی۔
Falasteen kay Rang فلسطین کے رنگ
کچھ کتاب کے بارے میں آرا:
اسرائیل کے سرکاری عہدے دار فلسطینیوں کو ”جانور“ قرار دیتے ہیں، اور اپنے دفاع میں وہ ”جانوروں“ کا خاتمہ ضروری سمجھتے ہیں، جیسا کہ اس وقت وہ غزہ اور فلسطین میں کر رہے ہیں۔ یہ کتاب اس جھوٹ اور ظلم کے بنیاد گزار علم کو بالکل عیاں کر دیتی ہے۔ محمد دین جوہر
قارئین منصور ندیم کی ان تحریروں میں فلسطین کے حوالے سے معمول کی سیاسی خبروں اور تجزیوں سے ہٹ کر فلسطینیوں کی حقیقی زندگی اور ان کو درپیش ابتلا کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ عمار خان ناصر
جیسا کہ اہل وطن کی مزمن عادت ہے، کچھ لوگ اپنے جذباتیت اور “سفید و سیاہ” کی ثنویت کی ہوا سے بھرے نظریہ سازش میں حقائق کی سوئی چبھوئے جانے پر برافروختہ ہوں گے۔ ایسا ہوا تو منصور صاحب اپنی کاوش میں کامیاب ٹھہریں گے۔ عثمان قاضی
مصنف کسی بھی نوع کی آئیڈیالوجی، سوچ یا نظریے کی بریکٹ میں موجود عصبیتوں سے کنارہ کش ہو کر ایسی شعوری متن سازی کرتے ہیں کہ جس کی معنویت اپنے اندر عالمی انسانی قدروں کے فروغ کا باعث ہو۔ صلاح الدین درویش
مصنف نے اپنے محاذ پر ہمیں فلسطین کی تہذیبی روایتوں سے روشناس کروا رہے ہیں۔میں سمجھتی ہوں منصور ندیم نے اپنی تحریروں میں جو معلومات اکھٹی کی ہیں اس سے بہت سے بیانیوں کے بت ٹوٹیں گے۔ تزئین حسن
زیرنظر کتاب میں فلسطین پر لکھے مضامین کے تنوع، محنت اور علمی تحقیق سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ غزہ کی صورتحال پر منصور نے بھی قلم اٹھایا مگر روایتی جذباتی تحریروں کے بجائے بہت سی مفید اور معلومات افزاء تحریریں لکھیں۔ عامر ہاشم خاکوانی
Buy Now
Mystics, Mosques and Masons of Pothohar
Mystics, Mosques and Masons of Pothohar
Many aspects of Pothohar’s culture, including Sufism and heritage, have not been discussed in detail. In this book, I have tried to enlighten the reader about the lesser-known shrines and saints that did not receive scholarly attention. This book introduces the reader to the history of Sufi saints of specific villages and towns who spread their respective silsila through their teachings. They built mosques from where they spread their teachings. They employed celebrated masons to construct the mosques, which reflects the mastery of the Pothohari masons over stone and woodwork.
https://www.youlinmagazine.com/article/pothohar-and-zulfiqar-ali-kalhoro-third-book-on-it/MjgzMg==
Buy Now
Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب
Admi ki Tehzeeb آدمی کی تہذیب
یہ کتاب مضامین کاوہ مجموعہ ہے، جو معروف اسرائیلی مؤرخ یوول نوح ہراری صاحب کی تین مقبول کتابوں
Sapiens: A Brief History of Humankind
21 Lessons for the 21st Century
Homo Deus: A Brief History of Tomorrow
میں پیش کی جانے والی فکر کی تنقید پہ مبنی ہے۔ یہ کتابیں جدید سائنس پرست مغرب کا علمی مؤقف ہیں۔ یہ مؤقف مذہب، روایت، اورتہذیب سے متصادم ہے۔ یہ مغربی مؤقف مستقبل کی دنیا میں الٰہیات کا کوئی کردار تسلیم نہیں کرتا۔ زیر نظر کتاب کے مضامین مغرب کے اس مؤقف کا سامنا کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے عنوان ‘آدمی کی تہذیب ‘ کی وجہ تسمیہ ’مغرب اور مذہب کی تاریخی وعقائدی تفصیل کو چند اصطلاحوں میں سمیٹنے کی سعی‘ ہے۔ تخلیق، ارتقاء، اور تہذیب کے مغربی و مذہبی تصورات کا بُعد واضح کرنا، اور ان کی تصحیح یا تغلیط ان مضامین کا مقصد ہے۔
Iqbali Bayan اقبالی بیان
اقبالی بیان
انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا اور سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا واحد حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ آئینہ بنایا ہے کہ مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی اسلوب خوب پھبتا ہے۔
اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان
کتاب کی فہرست
کہانی کار کی کتھا
احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now
Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات
Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات
گیارہ کہانیاں، ایک سبق
Buy Now
Panjeeri پنجیری (سفرانچے)
Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک
Deewar e Girya se Gaza ki Deewar tak دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک
Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت
Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت
خود نوشت سوانح حیات
Buy Now
Gender Politics: Falsifying reality
Gender Politics: Falsifying reality
Ishq e Natamaam عشق ناتمام
Ishq e Natamaam عشق ناتمام
ادھوری محبتوں کی داستان
محمد خان قلندر کی کہانیاں
ہم نے حسب وعدہ کوہستان نمک کی وادیوں میں نقش ہوئی کہانیاں داستان کی ہیں۔ اہم ترین پہلو یہ ہےکہ ان کہانیوں کے اصل کردار زیادہ تر ہمارے کالج سے یونیورسٹی تک دوست ہیںجن کے ہم ہمراز تھے، کچھ ہاسٹل فیلو ہیں اور کچھ ہم جماعت و ہم نشین۔ ہم نے زیادہ کہانیاں صیغہ واحد متکلم اور واحد حاضر میں قلمبند کی ہیں۔ بلاشبہ یہ وارداتیں ہم پے ہر گز نہیں وارد ہوئیں، ہم تو وقائع نویس بن گئے کہ ادب و انشا میں جمع متکلم میں لکھنا بیانیہ کی جاذبیت کھو دیتا ہے۔اس وضاحت کے بعد اگر ہمارے قاری یار ہمیں ہیرو بناتے ہیں تو زہے نصیب۔
Reflections on the Pothohar Heritage
Reflections on the Pothohar Heritage
In this book, lesser known built heritage of Pothohar has been focused. It mainly deals the built heritage of Muslim, Hindu and Sikh communities of Pothohar region.
Buy Now
Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف) – Dr Najeeba Arif
Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ)
قصیدہ بردہ شریف کا منظوم اردو ترجمہ
ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اس منظوم ترجمے کے کئی امتیازات ہیں۔ مجھے پہلے کے چند تراجم کے مقابلے میں یہ سعیِ جمیل متن کے زیادہ قریب بھی لگی اور زیادہ سلیس و رواں بھی۔ لکھنے کو تو یہ بات ایک مختصر سے جملے میں لکھ دی گئی ہے مگر واقفانِ کار جانتے ہیں کہ اس کڑے معیار تک پہنچنا کس قدر دشوار ہے۔ تائید ایزدی شاملِ حال نہ ہو تو محض علم و فضل، صلاحیت، مہارت اور تجربے کے زور پر یہ چوٹی سرنہیں ہوا کرتی۔ اب یہاں یہ اشارہ بھی برمحل لگ رہا ہے کہ اس ترجمے میں سوز و گداز بھی زیادہ ہے اور لفظوں کی تہ میں کچھ اور بھی ہے، اچھا اچھا سا، جسے بیان کرنے کے لیے مجھے سرِدست موزوں لفظ نہیں مل رہے۔
Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ شریف)
اقبال کے بہ قول : اصل اس کی نَے نواز کا دل ہے کہ چوبِ نَے۔ مجھے امید ہے کہ بہت سے قارئین بھی میرے اس تاثر کی تائید و توثیق کریں گے۔ترجمے میں بعض مشکل یا کسی قدر نامانوس الفاظ ناگزیر طور پر برقرار رکھے گئے ہیں جو ایک طرف تو متن سے قریبی ارتباط قائم رکھتے ہیں اور دوسری طرف مجموعی شعری فضا کا کیف انگیز ذائقہ بھی چکھاتے رہتے ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لیے ان کے معانی درج کرنے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔
Mera Mutalia میرا مطالعہ
Mera Mutalia میرا مطالعہ
معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی: انکی پسندیدہ کتابیں اور مصنفین
Buy Now




