Books
Tehzeeb ki Qirat تہذیب کی قرات
احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات”کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔
Rattay Ka Taleemi Nizam رٹے کا تعلیمی نظام
یہ کتاب اردو زبان کے تعلیمی، تنقیدی اور فکری ادب میں ایک ایسی نئی جہت پیش کرتی ہے جو اپنی
Circle of Destiny
A story of love and betrayal, friendship and deception, death and destruction spanning regions and moving across multiple geographical locations.
Kaanch Ka Ghar کانچ کا گھر
The Glass Menagerie by Tennessee Williams
کانچ کا گھر
A Brief History of Engineering Design
The field of engineering design has been a driving force behind human progress since time immemorial. It is a discipline born from necessity and nurtured by human ingenuity—a testament to our relentless quest to solve problems, improve our environment, and create a better future. A Brief History of Engineering Design: From Ancient Innovations to Modern Solutions is a journey through time that traces the evolution of this transformative field, exploring how ancient ingenuity has paved the way for today’s cutting-edge technologies.
Red (Novel)
Something’s off in the city tonight.
Under the city lights, something waits in the dark. It’s in the alleys where the trash cans rattle and in the backseats of the parked cars. The lads are used to keeping secrets, and it seems so are the birds, but some secrets start to keep you. They pull you in, whispering about the things you thought you’d never do or the things you thought were just in your head. What you see in the shadows might not be just your imagination.
And be careful when you look— it might just stare back.
Praise for R3D
“This book had me on edge from start to finish! The twists were mind-blowing, and the psychological depth of the characters made it impossible to put down. One of the best thrillers I’ve read in a long time!”
— Dr. Saba Javed, Psychiatrist, MBBS, FRANZCP
Torabora k Is Paar تورابورا کے اَس پار
ڈاکٹر غیور ایوب سرجری کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ ان کاتعلق پاراچنار سے ہے، جو افغانستان کی سرحد پر تورا بورا کے اس پار واقع ہے۔ ان کا بچپن ایک ایسے گاؤں میں گزرا جو تیرہ ہزار فٹ بلند برف پوش کوہِ سفید کے دامن میں واقع ہے۔ فطرت سے ان کی طبعی محبت اسی ماحول کا نتیجہ ہے۔ 1979 میں اعلیٰ جراحی کی تربیت مکمل کرکے، وہ برطانیہ کو خیر باد کہہ کر اپنی برطانوی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاراچنار واپس لوٹے۔ اس وقت افغان جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ انہوں نے افغانستان سےمسلسل آنے والے لاتعداد زخمیوں کا علاج شروع کیا۔
یہ کتاب ان کے انہی مشاہدات اورتجربات کا امتزاج اور عکس ہے، جو انہیں 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام اور 2001 میں 9/11 کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کرتے ہوئے حاصل ہوئے۔
یہ ناول حقائق اور افسانوی واقعات کاحسین امتزاج ہے، جس میں ڈاکٹر غیور نے رومانوی، تاریخی، دینی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کو پرونے کی کوشش کی ہے۔ آج کل وہ برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔
Adha Saans آدھا سانس (ناول)
اوائل عمری کا وہ وقت مجھے کبھی نہیں بھولتاجب میرے اردگرد کی خواتین اور لڑکیاں سلمیٰ کنول، رضیہ بٹ اور بشریٰ رحمٰن کے نئے آنے والے ناول کا انتظار کیا کرتی تھیں۔ پھر میرے لکھنے کے وقت میںنے یہ خاصہ عمیرہ احمدمیں دیکھا۔ یقینا ً کئی اور معتبر لکھنے والیاں بھی ہوں گی لیکن میرا حاشیہ اِن چاروں کے گرد کھِچا رہا۔ عمیرہ احمد ناول نگاری کے بعد ڈرامہ نگاری کی طرف آئیں تو یہاں بھی اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔
یہ تو میرے تجرباتی سفر کے مشاہدات تھے لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک نئی لکھنے والی کے ناول کو پڑھنے کا موقع مِلا۔ تحریر میں شگفتگی ،شستگی واردات اور جنون کو دیکھ کر لگاکہ کوئی دل والی ہے۔ خود چوٹ کھائی ہے یا چوٹ مارنے والی ہے۔ وہ ہے آمنہ شبیب اس نے ’’آدھا سانس‘‘ لکھا ہے۔ اس کا ناول پڑھ کہ پتہ چلا محبتوں کو گنوا کر بیٹھے ہوئے جنونی لوگ پورا سانس کہاں لیتے ہیں۔ تحریر میں پختگی ہے لیکن وقت عمر تجربہ قلم کو نیا روپ دینے کی اساس مانی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ تحریر اور لہجے کی سلوٹیں اُترنے لگتی ہیں۔
اور ایک دن اللہ کی مہربانی سے حرفِ قلم یکتائی کی معراج تک جا پہنچتا ہے۔ تحریر میں نیا پن یہ بھی دیکھا کہ آمنہ شبیب باہمی گفتگو کو مکالمے کی طرز پر لکھتی ہے جیسے ہم ڈرامہ نگار لکھتے ہیں۔ کردار کا نام اور پھر اس کے سامنے مکالمہ۔ یہ شاید اس بات کی نوید ہے کہ آج کی یہ ناول نگار کل کی ایک مایہ ناز ڈرامہ نگار بنے گی۔
دُعا ہے ناول نگاری میں ایک دن اسے سلمیٰ کنول ، رضیہ بٹ اور بشریٰٰ رحمٰن کے احاطے میں دیکھوں اور ڈرامہ نگاری میں اسے بھی عمیرہ احمد جیساامتیاز نصیب ہو۔
آخر میں آمنہ شبیب سے کہوں گا یادرکھنا لکھنے والا سب سے بڑا بھکاری اور چور ہوتا ہے۔ لیکن اس بات میں اعزاز یہ ہے کہ وہ مانگتا اپنے پروردگار سے ہے اور چوری لوگوں کے دُکھ اُن کی تڑپ اور اُن کے جذبات کی کرتا ہے۔
خلیل الرحمان قمر
سچ کہوں تو ناول پڑھتے ہوئے مجھے یہ احساس بار بار ہوا کہ آدھا سانس لینے والوں کا حال وہی ہوتا ہے۔ جو جل بن مچھلی کا ہوتا ہے ، وہی تڑپ وہی بے قراری، وہی حالتِ نزع وہی۔محترمہ آمنہ شبیب کا آدھا سانس اس حبس زدہ ادبی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔
روتباک برک
Buy Now
A Doll’s House (by Henrik Ibsen) گڑیا گھر
تین ایکٹ کا یہ کھیل پہلی مرتبہ 21 دسمبر 1879 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک کے رائل تھیٹر میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل میں اس وقت کی نارویجئین شادی شدہ خواتین کا بیان کیا گیا ہے جنہیں اپنے فیصلوں میں خودمختاری حاصل نہ تھی۔ اگرچہ ابسن نے متعدد مرتبہ اس رائے کی تردید کی کہ یہ کھیل جدید حقوق نسواں کا علمبردار ہے، تاہم اس کھیل نے اپنی پیش کش کےساتھ ہی چاروں جانب کھلبلی مچا دی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب چرچا رہا۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
The Enemy of the People سماج دشمن
یہ کھیل 1882 میں قلم بند کیا گیا جو انیسویں صدی کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں معاشرتی منافقت پر ایک تازیانہ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جو ایک تلخ سماجی حقیقت کو افشا کرتا ہے اور اس کی سزا پاتا ہے۔ اس کھیل کے بارے میں ابسن اپنے پبلشر کو ایک خط میں لکھتا ہے، “میں اب بھی تذبذب کا شکار ہوں کہ اس کھیل کو ڈرامہ کہوں یا کامیڈی۔۔۔ اگرچہ اس کھیل میں طنزیہ کامیڈی کے عناصر ہیں لیکن اس کا ڈھانچہ ایک سنجیدہ تخیل پر کھڑا ہے۔”
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
₨ 1,000
Hedda Gabler (by Henrik Ibsen) ہیڈا گابلر
یہ کھیل پہلی مرتبہ 31 جنوری 1891 کو میونخ میں ابسن کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔ اس کھیل کو ادبی حقیقت پسندی، انیسویں صدی کے تھیٹر اور عالمی تھیٹر تحریک میں ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔ ایک نامی گرامی جنرل کی بیٹی، ہیڈا گابلر، خود کو ایک بے کیف شادی اور اور ایک بے زار گھریلو زندگی میں مقیّد پاتی ہے۔ ہیڈا گابلر کا مرکزی کردار عالمی تھیٹر کے ایک نمایاں کردار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناقدین نے ہیڈا گابلر کو ہیملٹ کا نسوانی روپ قرار دیا ہے۔
تمثیل نگار : ہنرک ابسن
نارویجئین ڈرامہ نویس، ہدائتکار اور شاعر ہنرک ژوہان ابسن (20 مارچ 1828 – 23 مئی 1906) انیسویں صدی کا ممتاز ترین ڈرامہ نویس اور “جدید ڈرامے کا باپ” کہلایا جاتا ہے۔ شیکسپئِر کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہنرک ابسن ہی کے ڈرامے سٹیج پر پیش کئے گئے ہیں۔ ابسن کو عالمی ادب کی تاریخ کے اہم ترین تمثیل نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور ناقدین کی ایک بڑی اکثریت اسے انیسویں صدی کے عظیم ڈرامہ نگار کے طور پر جانتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے شیکسپیئر اور سوفوکلیز کے ہم پلّہ قرار دیا جبکہ جارج برنارڈ شا کے مطابق ابسن نے شیکسپیئر کو دنیا کے مقبول ترین ڈرامہ نگار کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
مترجم : شوکت نواز نیازی – نائٹ آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز (حکومت فرانس) محمد حسن عسکری ایوارڈ برائے ترجمہ 2020 (پاکستان اکادمی ادبیات) – مترجم کے دیگر تراجم : سارتر، مولئیر، ماریس ماترلینک، اینٹن چیکوف، اِبسن، ٹینیسی ولیمز، موپاساں، ایف سکاٹ فٹزجیرلڈ، آلبیرٹ کامیو، فرینک ہربرٹ، جے آر آر ٹولکین، ولیم گولڈنگ، ہارپر لی، آنتوان دسینت ایگزوپیری
Buy Now
Iris Leghari: Life & Times in Pre-Partition
A first-hand account of an English woman’s experience of living in the Indian sub-continent.
Epidemics of various diseases broke out in the camps and hundreds died from them. One could smell the stench of dead bodies seven miles away. People used to ring me up at the house, to ask me to get in touch with the authorities and ask for more time to bury their dead. Needless to say, I hardly saw my husband during these terrible days.
Oxford, England. 1932
Iris Titherley, an English equestrian and horse trainer, meets Ata Mohammad Khan Leghari, an Indian student at Oxford University with a feudal background. They fall in love, marry and move to India where Ata joins the prestigious Indian Civil Service.
Iris, a foreigner in a faraway land, struggles at first to make sense of the culture and traditions in her adopted country but spends her time hunting bulls, riding into the hills and shooting with tribesmen. In time, she finds camaraderie with the locals and respect within the family.
Part-memoir, part-travelogue, Iris Leghari: Life and Times in Pre-Partition India and Pakistan is an account of an adventurous and fulfilling life, brimming with interesting observations, anecdotes, and pictures of travels through India, the Middle East and Europe. It is a rare and unique memoir, and a story of love, adventure and belonging.
Buy Now
Aik Aroo Aik Hazar Aroo ایک آڑو ایک ہزار آڑو
صمد بہرنگی کی کہانیاں ترجمہ کرنا صرف الفاظ کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا کام ہی نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا ادبی سفر ہے جس میں سیکھنے کے کئی مقام آتے ہیں۔ زبان و بیان کی بل کھاتی سڑک ہو یا پھر ذخیرۂ الفاظ کا گھنا جنگل، تشبیہ و استعارات کا ایک بوستان ہو یا پھر بیانیے کی بہتی ندیا، یا کہ داستان گوئی کا دریا ہو جس کے کنارے اپنی کہانی کی کشتی لگانی ہو۔ اس ادبی سفر میں آپ کو سب ملے گا۔ ان کی کہانیوں میں سے ثقافت، پرجوش اور ہوش مند انقلابی سوچ، ترقی پسند بیانیہ، ظلم کے خلاف آہنی دیوار بننے کا درس یہ سب ترجمہ کرتے وقت میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھا کی۔ کہ میرے حصے میں وہ ادیب آیا جو کہانی کے بہانے جانے کب آنسو بہا لیتا تھا اور کب چُٹکی بجا کر ہنس و ہنسا لیتا تھا، کم ہی یہ راز جان پائے۔ ان کا قلم لکھتا نہیں، گاتا تھا۔ بلکہ بانسری بجاتا تھا۔ درد و الم کی بانسری۔ جو ظالم کے خلاف بجائی جاتی تھی مگر اس کی لے پر جھومتا وہ بھی تھا۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now
Choti Kaali Machli چھوٹی کالی مچھلی
ترک ادبیات میں، بطور مترجم، صمد بہرنگی کی اس چھوٹی سی کتاب سے بڑے اورضخیم کام میری توجہ کے طالب تھے۔ مگر بطور ایک قاریہ کے میرے لئے بچپن کی یادوں کو سمیٹے ہوئے اس کہانی کا ترجمہ اکساتا تھا۔
یہ ہر زاویے سے ایک مختلف کہانی ہے۔ آپ اسے مزاحمتی، انقلابی یا محبت و محنت، تجسس اور کوشش کی کسی بھی چیز کی کہانی سمجھ کر پڑھنا چاہیں۔ یہ آپ پر اپنا وہی پہلو کھولے گی۔ اور آپ کو بڑے یا چھوٹے ہوتے ہوئے احساس بھی نہ ہوگا کہ یہ کہانی آپ کی عمر کے لئے نہیں لکھی گئی۔ اس کہانی میں ہر ایک کے لئے کچھ نہ کچھ ہے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر کہیں نہ کہیں چھوٹی کالی مچھلی بستی ہے۔
طاہرے گونیش – مترجم
Buy Now
Sarang: History of Gakkhars
Dr. Saheeb A. Kayani’s book significantly contributes to the scholarly examination of the history of Gakkhars through its compilation of 20 insightful essays. Each essay provides a thorough exploration of a particular dimension of the history of Gakkhars. His work is notable not only for the depth of its content but also for the diverse range of historical sources he has carefully collected, analyzed, and used. This approach enables a more nuanced understanding of the Gakkhars’ past and their connection with the Pothohar region. This book will serve as an invaluable resource for scholars, providing a strong foundation for further research into the topics discussed. Many of the themes explored in this work have either been ignored in past studies or have received minimal attention from researchers, making the book particularly noteworthy.
Buy Now
Tareekh Jo Kho Gai مائیکل ہیملٹن – تاریخ جو کھو گئی
یہ کتاب اسلام یا کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کسی علم الٰہیات یا مذہبی نظریہ پر بھی مبنی نہیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کے بارے میں ہے، جو اسلام کی رہنمائی میں تشکیل پائی۔
مائیکل ہملٹن مورگن
یہ کتاب، جس کا مقصد ان کہی کہانیاں سنانا ہے، یہ نہ صرف اسلام کی ثقافتی اور علمی تاریخ کے لٹریچر میں عمدہ اضافہ ہے بلکہ مغرب سے اس کے علمی تعلق کا محقق بیان بھی ہے۔ اسلامی تہذیب کی اکثرکامرانیاں اور ان کا مغربی تہذیب سے گہرا تعلق اکادمی جریدوں تک محدود ہے۔ مزید برآں، بہت سے دستیاب کام تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
یہ کام مغرب والوں کو اسلام کے بارے میں جاننے میں مدد دے گا، اور انہیں یہ سمجھنے میں معاون ہوگا کہ جس طرح ہمارا ماضی علمی اور تعمیری فکروتحقیق سے جڑا ہوا ہے، ہمارا مستقبل بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اسلام کی تہذیبی اور فکری کامیابیاں یورپ کے لیے نامعلوم نہ تھیں، اور درحقیقت یہودی اور عیسائی فلسفیوں، سائنس دانوں، شاعروں، موسیقاروں، حتیٰ کہ ماہرینِ الہٰیات نے بھی اپنے مسلمان ہم عصروں کی کامیابیوں سے کافی استفادہ کیا۔
شاہ اردن عبد اللہ دوم
کتاب ’’تاریخ گُم گَشتہ‘‘ بہت اہم کتاب ہے۔ تاریخ کے وہ گُمَشدہ ابواب اس میں شامل کیے گئے ہیں ، جو اب تک بڑی تعداد میں یورپ کے کتب خانوں میں نامعلوم رہے ہیں۔
مائیکل ہیملٹن مورگن نے ان گُم شدہ ابواب سے علم کے چند موتی ہمارے لیے ایک لڑی میں پرودیے ہیں ۔ اسی اہمیت کے سبب اس کتاب کا خلاصہ اور ترجمہ کیا گیاہے۔
ناصر فاروق – مترجم
Buy Now
What Is to Be Done?
The civilization of Islam faces existential threat by modern industrial West. Despite many centuries of reform efforts, Muslim societies remain in disarray. This treatise analyses this dilemma in the light of evolution of human societies, rise of the West, and the catch up efforts made by five societies over the last three hundred years. While the analysis is in the context of civilization of Islam and Pakistan, the lessons drawn are universal, applicable to all traditional societies facing the challenges of modernity.
Buy Now
Adalat Mere Zamir Ki عدالت میرے ضمیر کی
احمد فراز کے مطبوعہ و نشر شدہ انٹرویوز
Buy Now
From Hidden to Hero
Ramooz e Takhleeq رموز تخلیق
کائنات، وقت اور انسان قرآن اور جدید سائنس کے تناظر میں
ڈاکٹر محمد عبد الرشید سیال کی نئی تصنیف ’’رُموزِ تخلیق‘‘ اس اعتبار سے بڑی اہم اور وقیع ہے کہ اس میں انہوں نے قرآنِ حکیم کو آج کے دور کے سائنسی نظریات کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مسلم امہ کے مفکرین کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اس مقدس کتاب کی حقانیت کو آج کے سائنسی انکشافات کے تناظر میں دیکھیں۔ آج بھی تخلیق کائنات کا عمل جاری و ساری ہے۔ ہماری کائنات ہر سیکنڈ میں تین لاکھ کلو میٹر کی رفتار سے پھیل رہی ہے۔ کائنات کی ان محیر العقول وسعتوں میں ہم محض ایک تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے بلکہ جدید اور اہم سائنسی انکشافات کو ہم قرآن کی روشنی میں پرکھ کر اپنے لئے ایک سمت کا تعین کرسکتے ہیں، قرآن جو روشنی اور حکمت کا سرچشمہ ہے، ہمہ وقت ہماری رہنمائی کرسکتا ہے۔
Buy Now
Falasteen kay Rang فلسطین کے رنگ
کچھ کتاب کے بارے میں آرا:
اسرائیل کے سرکاری عہدے دار فلسطینیوں کو ”جانور“ قرار دیتے ہیں، اور اپنے دفاع میں وہ ”جانوروں“ کا خاتمہ ضروری سمجھتے ہیں، جیسا کہ اس وقت وہ غزہ اور فلسطین میں کر رہے ہیں۔ یہ کتاب اس جھوٹ اور ظلم کے بنیاد گزار علم کو بالکل عیاں کر دیتی ہے۔ محمد دین جوہر
قارئین منصور ندیم کی ان تحریروں میں فلسطین کے حوالے سے معمول کی سیاسی خبروں اور تجزیوں سے ہٹ کر فلسطینیوں کی حقیقی زندگی اور ان کو درپیش ابتلا کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ عمار خان ناصر
جیسا کہ اہل وطن کی مزمن عادت ہے، کچھ لوگ اپنے جذباتیت اور “سفید و سیاہ” کی ثنویت کی ہوا سے بھرے نظریہ سازش میں حقائق کی سوئی چبھوئے جانے پر برافروختہ ہوں گے۔ ایسا ہوا تو منصور صاحب اپنی کاوش میں کامیاب ٹھہریں گے۔ عثمان قاضی
مصنف کسی بھی نوع کی آئیڈیالوجی، سوچ یا نظریے کی بریکٹ میں موجود عصبیتوں سے کنارہ کش ہو کر ایسی شعوری متن سازی کرتے ہیں کہ جس کی معنویت اپنے اندر عالمی انسانی قدروں کے فروغ کا باعث ہو۔ صلاح الدین درویش
مصنف نے اپنے محاذ پر ہمیں فلسطین کی تہذیبی روایتوں سے روشناس کروا رہے ہیں۔میں سمجھتی ہوں منصور ندیم نے اپنی تحریروں میں جو معلومات اکھٹی کی ہیں اس سے بہت سے بیانیوں کے بت ٹوٹیں گے۔ تزئین حسن
زیرنظر کتاب میں فلسطین پر لکھے مضامین کے تنوع، محنت اور علمی تحقیق سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ غزہ کی صورتحال پر منصور نے بھی قلم اٹھایا مگر روایتی جذباتی تحریروں کے بجائے بہت سی مفید اور معلومات افزاء تحریریں لکھیں۔ عامر ہاشم خاکوانی
Buy Now
Mystics, Mosques and Masons of Pothohar
Many aspects of Pothohar’s culture, including Sufism and heritage, have not been discussed in detail. In this book, I have tried to enlighten the reader about the lesser-known shrines and saints that did not receive scholarly attention. This book introduces the reader to the history of Sufi saints of specific villages and towns who spread their respective silsila through their teachings. They built mosques from where they spread their teachings. They employed celebrated masons to construct the mosques, which reflects the mastery of the Pothohari masons over stone and woodwork.
https://www.youlinmagazine.com/article/pothohar-and-zulfiqar-ali-kalhoro-third-book-on-it/MjgzMg==
Buy Now
Iqbali Bayan اقبالی بیان
انور سن رائے
اخلاق احمد کے تعلق سے میں احمد اقبال صاحب کو اقبال بھائی کہتا اور سمجھتا ہوں لیکن جب انہیں ایک لکھاری کی حیثیت سے دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہو تو ہر تعلق برطرف کر کے اُنہیں محض وہ احمد اقبال دیکھتاہوں جو وہ اپنی تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ خود نوشت کا واحد حاضر متکلم۔ یہی فرق ایک خاص اور عام لکھنے والے میں ہوتا ہے۔ اِس آئینہ سازنے وہ آئینہ بنایا ہے کہ مکاں بھی دکھائی دیتا اور زماں بھی، ساکت و متحرک کے اس امتزاج میں زمان و مکاں ماقبلِ تقسیم و تجسیم کے بھی ہیں اور مابعد کے بھی۔ اس میں تجسیم کی تمام ذاتی و غیر ذاتی اور اخلاقی، سماجی، ادبی یہاں تک کہ فلسفیانہ شکست و ریخت کی تاریخ بھی ہے اور محسوسات کا جغرافیہ بھی۔ اقبال بھائی کے مقصودِ متون پر یہی اسلوب خوب پھبتا ہے۔
اخلاق احمد
کہتے ہیں، اپنے بڑے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے کے لئے جگرا چاہئے۔ تعریف کرو تو خویش پروری کا گمان ہوتا ہے۔ نیوٹرل رہو تو منافقت کا لیبل لگتا ہے یا سیاسی طعنے ملتے ہیں۔ اور تنقید کرو تو اپنے ہی خاندان میں فساد کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن احمد اقبال بھائی کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ مختلف یوں، کہ وہ عمر میں مجھ سے بیس سال بڑے ہیں۔ بیس سال کا فرق، ایک پوری نسل کے فرق کے برابر سمجھئے۔ پرانے وقتوں میں تو باپ بیٹے کے درمیان اتنا تفاوت ہوا کرتا تھا۔ سو ان سے میرا تعلق بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔
لکھنے کے معاملے میں، میں نے بہت کچھ اقبال بھائی سے مستعار لیا ہے۔ شاید سبھی کچھ۔ ان کے انداز کی نقل کرنا تو میں نوعمری میں ہی سیکھ چکا تھا۔ یادش بخیر، ایک بار اقبال بھائی عالمی ڈائجسٹ کے لئے کسی کہانی (یا کسی سلسلے) کی تکمیل سے قبل بخار میں مبتلا ہو گئے۔ سو اس کہانی کے آخری صفحات میں نے لکھے۔ عالمی ڈائجسٹ والوں کو فون پر پیغام بھجوا دیا گیا کہ بخار کی وجہ سے یہ آخری صفحات کسی کو ڈکٹیٹ کرا کے بھجوائے جا رہے ہیں۔ کہانی من و عن چھپ گئی، حسب معمول بہت پسند کی گئی، اور کسی کو پتا نہ چلا کہ یہ معروف مصنف احمد اقبال اور ان کے نقال چھوٹے بھائی کا مشترکہ کارنامہ تھا۔ میں نے صحافت میں خاصی کوچہ گردی کی ہے، یعنی کوئی اٹھائیس تیس برس، مگر اس سے زیادہ وقت فکشن میں بسر کیا ہے۔ یہاں وہاں کا فکشن پڑھنے میں اور فکشن لکھنے میں اور فکشن لکھنے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں۔ سو بالوں میں سفیدی اتر آنے کے بعد، اپنے افسانوں کے کئی مجموعوں کی اشاعت کے بعد، میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ملک میں اردو کہانی کے گزشتہ پچاس برس میں احمد اقبال جیسے لکھاری انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، دس پندرہ مل جائیں تو غنیمت جانئے۔ اس کا سبب بھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے۔ صناعی تو رفتہ رفتہ سب ہی سیکھ جاتے ہیں۔ ہم جیسے بڑھئی بھی۔ مسلسل ریاضت اور مشقت جاری رہے تو کاریگر کے طور پر نام ور ہونا بھلا کیا مشکل ہے۔ لیکن وہ جو تاثیر ہوتی ہے، سیدھی دل میں اتر جانے والی، تڑپا دینے والی، سینے پر نقش ہو جانے والی، وہ تو بس قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ اوپر والے کا خاص کرم۔ سراسر خوش نصیبی۔
‘اقبالی بیان’ احمد اقبال صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ اچھی سوانح حیات لکھنے کے لئے ضروری ہے، جس زندگی کا ذکر ہو وہ ہنگامہ خیز اور اتار چڑھاؤ والی ہو۔ اور یہ کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، مگر لکھنے والا، ان قصوں کو بیان کرنے کا ہنر بھی جانتا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ ایک بھرپور زندگی کی داستان ہے، ہندوستان سے شروع ہونے والے اور پاکستان کے کئی شہروں میں جاری رہنے والے حیرت انگیز سفر کی داستان، اور ایسی دلچسپ کہ باندھ کر رکھ دے۔ لیکن ان خوبیوں سے قطع نظر، وہ جرأت سب کو حیران کرتی ہے جس کی مدد سے کوئی کہانی کار اپنی کتھا لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوانح حیات لکھنا، تلوار کی دھار پر چلنے اور اس دوران توازن قائم رکھنے کا کھیل ہے۔ واقعات اور طرح طرح کے کردار تو خیر ہر زندگی میں ہوتے ہیں۔ لیکن سچ؟ پورا سچ؟ یہ ذرا نازک معاملہ ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنی زندگی سے وابستہ لوگوں کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ پریشان کرتا ہے۔ دوسری جانب اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف دشوار ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا احمد اقبال جیسا ہو تو وہ سخت مقامات سے بھی با آسانی گزر جاتا ہے اور ہمیں سمجھاتا ہے کہ آٹھ عشروں پر پھیلی زندگی کو ٹھہر کر، پلٹ کر اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے آدمی ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے بعد مڑ کر ان سب سرسبز راستوں اور وادیوں اور دریاؤں پر نگاہ ڈالے جنہیں وہ عبور کر چکا اور اس لطف کو یاد کرے جو اس سفر کا حاصل رہا۔
‘اقبالی بیان’ ان ہزاروں عشاق کے لئے خاص تحفہ ہے جو احمد اقبال صاحب کی تخلیقات سے، ان کے انداز تحریر سے، ان کے کرداروں سے، اور خود ان سے محبت کرتے آئے ہیں۔ میں، ان کے ایک پرستار کی حیثیت سے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
حرفِ ناشر
عوامی ادب، مقبول ادب، ڈائجسٹ ادب یا انگریزی Pulf-Fiction کے لکھاری ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ثقہ ادیبوں کی جانب سے ان کی تخلیقات کو ادب عالیہ، بلکہ ادب تک تسلیم کرنے سے انکار دراصل اس چشمک کا اظہار ہوتا ہے کہ اب جس کا معاصرانہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ ان لکھاریوں کا مشاہدہ عمیق ہونے کے ساتھ ساتھ افقاََ بھی وسیع ہوتا ہے۔ سادہ ابلاغ اور عوامی کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ یہ نہ صرف ہر عمر، ہرسطح اور ہر فکر کے قارئین پہ گہرا اثر ڈالتے ہیں بلکہ ان کے تشکیلی دور میں غیر محسوس انداز میں زندگی اور اس کے متعلقات کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پڑھنے اور کتاب سے سیکھنے کی بنیاد رکھ چھوڑتے ہیں۔ اپنی نہاد میں یہ کارِ پیمبراں ہے۔
ہمارے احمد اقبال صاحب اس وادی کے وہ مسافر ہیں جن کا سفر کئی دہائیوں اور اثر کئی نسلوں پہ محیط ہے۔ شکاری، مداری، اناڑی اور حواری جیسے مقبول عام سلسلوں کے خالق نے بلامبالغہ کروڑوں الفاظ پہ مبنی ایک ایسا ذخیرہ اپنے قلم سے برآمد کیا کہ عالمی سطح پہ بھی اس کی مثال کم کم ملے گی۔ ان کے تخلیق کردہ کئی کردار آج بھی لاکھوں لوگوں کے لئے ایسے زندہ و جاوید انسان ہیںجو ان کی زندگی کاحصہ ہیں، جن کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جو ان کی یادوں میں بستے ہیں۔ کسی تخلیق کار کے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔اپنے شعبہ میں عدیم المثال کامیابی اور بلند اقبالی ان کا مقدر ٹھہری۔
چند برس قبل اسلام آباد میں اقبال صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس “بیان” کے لئے انہیں آمادہ کرنا شروع کیا۔ کراچی سے برادر فیصل بھی اس سلسلہ میں میری مدد کرتے رہے۔ کہانی لکھنا اقبال صاحب چھوڑ چکے تھے، میں نے خود ان کی داستان نگاری پہ اصرار جاری رکھا اور اس تشدد کا نتیجہ “اقبالی بیان” کی صورت آپ کے ہاتھ میںہے۔ کتاب کے بارے میںکچھ کہنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا کہ نصف صدی کا قصہ ہے یہ، دو چار برس کی بات نہیں۔
اقبال صاحب جیساجہاں دیدہ ، سرد وگرم چشیدہ اور پاکستان کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا لکھاری جب اپنی داستان حیات بیان کرے گا تو کتنے رنگوں کی چھوٹ قاری پہ پڑے گی، یہ جاننا مشکل نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہمارے بزرگ دوست انور عباسی صاحب کی خود نوشت پہ میں نے لکھا کہ ” قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت کی متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔”
سو یہ کتاب بیک وقت تاریخ کا بیان اور سماجی زندگی کا روزنامچہ ہے، رفتگاں کا تذکرہ اور زندگی کی جنگ لڑتے، آگے بڑھتے اس مجاہد کی داستان ہے جس کے ہاتھ میں شمشیر نہیں قلم تھا۔ ایک کہانی کار کا سچا بیان جو عمر بھر کا حاصل ہے۔اور پھر معلوم تاریخ کے نامعلوم واقعات ہوں یا اقتدار کی غلاموں کی سازشیں اور کردار، قیام پاکستان کے فوری بعد کے گفتہ و ناگفتہ واقعات ہوں یا کراچی جیسے شہر کی تشکیل، اٹھان اور زوال کا تذکرہ، لاہور، راولپنڈی اور پشاور کی یادیں ہوں یا پاکستان کی ڈائجسٹ انڈسٹری کی اندرونی کہانیاں، ہم عصر شعرا کے رنگین و سنگین بیان سے لے کر گلی محلہ کے عام کرداروں کے خوبصورت تذکروں تک ، یہاں کیا کیا رنگ بکھرے ہیں۔
عندلیب شادانی یاد آئے
شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے، دامن ہاتھ میں آئے تو
تو قارئین! آپ اقبال صاحب کا دامن تھامئے اور ماضی سے حسب ذوق لطف و عبرت کشید کیجئے۔
شاہد اعوان
کتاب کی فہرست
کہانی کار کی کتھا
احمد اقبال حاضر ہو
پدرم سلطان بود
چھٹے اسیر تو بدلاہوا زمانہ تھا
لہور لہور اے
پنڈی کہ ایک شہر تھا
ٹنچ بھاٹہ سے تعارف
ٹنچ بھاٹہ۔ پہلا دور ختم ہوا
گورڈن کالج
پشاور۔ پہنچی وہیں پہ خاک
ریڈیو /بحرِ ظلمات
چار کی چوکڑی
مینٹل ہاسپیٹل اور ہمارا نتیجہ
مارشل لا، کرکٹ میچ، پنڈی، لاہور
ایک بار پھر پنڈی
کلکتہ دفتر
بدلازمانہ ایسا
موسیقی سے ایک اورمارشل لاء تک
قید شریعت
شوق ہر رنگ۔۔۔ کرکٹ
جنگ کیا مسئلوں کا حل دےگی
کراچی کراچی
شہرِ کوارٹرز
پیلے کوارٹر سے رہائی
ڈائجسٹ کتھا
ڈائجسٹ کتھا-دوسرا دروازہ
ڈائجسٹ کتھا-جون ایلیا اور زاہدہ حنا
ڈائجسٹ کتھا-الف لیلیٰ اور دیگر ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا-کہانیاں مشرق مغرب کی
ڈائجسٹ کتھا-ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ
ڈائجسٹ کتھا۔ ذاتی دفتر اور ٹیلی فون
ڈائجسٹ کتھا۔ قسط وار کہانیاں اور مزاح نگاری
ڈائجسٹ کتھا۔ رفتگان
ڈائجسٹ کتھا۔ ڈائجسٹوں کی بندش
اخبار جہاں
عروس البلاد
کراچی میں کون مہاجر
یاد کی اک کرن جلے۔۔
وہی خدا ہے
آشیانہ /نے
شہرِخرابات
نئی روشنی
ہم زندہ قوم ہیں
پاکستان۔ کل اور آج
قرار داد دہلی
تاریخِ ممنوع
جناح کے آخری ایام
لیاقت علی خان
پاکستان کا بچپن
پنڈی کی طرف میری حالیہ مراجعت
Buy Now
Pakistan’s 11 General Elections: 1970-213 پاکستان کے گیارہ انتخابات
پاکستان کے گیارہ قومی انتخابات 1970 سے 2013
گیارہ کہانیاں، ایک سبق
Buy Now
Panjeeri پنجیری (سفرانچے)
Aik Judge ki Sargazisht ایک جج کی سرگزشت
خود نوشت سوانح حیات
Buy Now
Memories, Mystics and Monuments of Pothohar
Memories, Mystics and Monuments of Pothohar
Buy Now
Konya Mujhy Bula Raha Tha قونیہ مجھے بلارہا تھا
’’محمد وسیم کا سفر قونیہ ایک اثر انگیز روحانی واردات ہے جس میں عقیدت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کا بھی بھرپور اظہار ملتا ہے۔ یہ تحریر معمولی نہیں ہے، اس میں بڑی نثر کے امکانات موجود ہیں۔ویسے بھی تارڑ حضرات میں آوارگی کے جرثومے پائے جاتے ہیں اور وہ سفرنامہ لکھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ محمد وسیم کی تحریر پڑھتے ہوئے قونیہ ہمیں بھی بلانے لگتا ہے… ؎تو ہستی من شدی از آنی ہمہ من…من نیست شدم در تو از آنم ہمہ تو‘‘
مستنصرحسین تارڑ
Buy Now
Ghurbat aur Ghulami غربت اور غلامی:خاتمہ کیسے ہو؟
اگر آپ کسی بھی قسم کی مذہبی ،علاقائی یا فکری عصبیت سے بالاتر ہو کر سیاسیات اور اقتصادیات کے طالبعلم کی حیثیت سے حقائق کی گتھیاں سلجھانا چاہتے ہیں اور معاشرے کے بنیادی مسائل کا اِدراک چاہتے ہیں تو اس کتاب کو ضرور پڑھیں اور تمام سوالات پر کھلے دل و دماغ کے ساتھ غور کریں۔
اس کتاب میں نہ صرف معیشت کے بنیادی تصورات کو سلیس انداز میں بیان کیا گیا ہے بلکہ انسانی معاشرے کی پیچیدگیوں کو بھی سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کی گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل ازم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں موضوعات پوری کتاب پر حاوی رہتے ہیں تاہم ان کا تقابل فاشزم اور سوشل ازم جیسے مختلف تصورات سے بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے موضوعات کا تنوع قائم اور دلچسپی برقرار رہتی ہے۔
Buy Now
Qulzum kay Us Paar قلزم کے اس پار
یہ تاثرات مغربی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کی ایک انفرادی کوشش ہے۔ اِن بشری معاشروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور نہ اُن کی بے جا ہر زہ سرائی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں اپنے معاشرے کے ساتھ تقابل کامقصد برتری یا کمتری کے چنگل میں پھنسنا نہیں بلکہ اسے نئے سوالات کے لئے بحیثیت مہمیز استعمال کرنا ہے۔ 9/11 کے بعد کا مغرب مسلمان دنیا کے لئے اپنی تمام تر جارحیت اور جاذبیت کے ساتھ ایک معمہ ہے۔ جیسا کہ اہل مغرب کے لئے مسلم دنیا۔ یہ تحریراُس اہم تاریخی چوراہے سے کئی سال قبل کی ہے اور شاید یہی اس کی انفرادیت کا اَمر بنے۔ اگرچہ یہ مصنف دنیا کو نیک وبد یا سیاہ و سفید کے ہمدرد پیرا یوں میں دیکھنے کا قائل نہیں لیکن ہم ایک بدلتی دنیا میں ہر لمحہ اٹھتے نئے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ دنیا نئی تاریخ، تفسیر اور تسلسل کا مرقع ہے اور یہ خیالات اسی جذبے کے امین ہیں۔ شعوری طور پر اس تحریر کو زیادہ تحقیقی اور گراں بار بنانے سے احتراز برتا گیا ہے۔ یہ تمام دنیاوی معاشروں کو بشری کا وشیں بلکہ سفر گردانتی ہے۔ جہاںسکوت اور تبدیلی ہمہ وقت زیر عمل ہیں۔ یہ مغربی اقوام کو مشرقی معاشروں سے افضل یا کمتر گرداننے کی سعی نہیں ہے بلکہ ایک ممکنہ انسانی حد تک خلوص نیت میں ڈوبی ہوئی ایک سچی کہانی ہے۔
Buy Now
Gender Politics
Ishq e Natamaam عشق ناتمام
ادھوری محبتوں کی داستان
محمد خان قلندر کی کہانیاں
ہم نے حسب وعدہ کوہستان نمک کی وادیوں میں نقش ہوئی کہانیاں داستان کی ہیں۔ اہم ترین پہلو یہ ہےکہ ان کہانیوں کے اصل کردار زیادہ تر ہمارے کالج سے یونیورسٹی تک دوست ہیںجن کے ہم ہمراز تھے، کچھ ہاسٹل فیلو ہیں اور کچھ ہم جماعت و ہم نشین۔ ہم نے زیادہ کہانیاں صیغہ واحد متکلم اور واحد حاضر میں قلمبند کی ہیں۔ بلاشبہ یہ وارداتیں ہم پے ہر گز نہیں وارد ہوئیں، ہم تو وقائع نویس بن گئے کہ ادب و انشا میں جمع متکلم میں لکھنا بیانیہ کی جاذبیت کھو دیتا ہے۔اس وضاحت کے بعد اگر ہمارے قاری یار ہمیں ہیرو بناتے ہیں تو زہے نصیب۔
Educational Administration and Leadership
The focus of this book is on the human and leadership aspects of educational administration. The administrator is seen as accountable as well as responsible for a human system responsive to the leader’s motivations and responses to situations and interactions with people. The topics discussed relate to day-to-day problems that modern administrators face. All is brought to focus on the administrators in action, as both administrator and leader. Even the Systems’ concepts for planning and decision-making are discussed in the book to help administrators perform as human beings in a human system while making optimum use of scientific theories. Administrative effectiveness and better educational institutions is the outcome envisioned and therefore, the orientation of the book is also behavioral and reflects a deep commitment in increasing the administrators’ capacity on each level of the institution to humanize the educational institutions. This book presents Educational Administration, Character Building, and Leadership Development.
Buy Now
Reflections on the Pothohar Heritage
In this book, lesser known built heritage of Pothohar has been focused. It mainly deals the built heritage of Muslim, Hindu and Sikh communities of Pothohar region.
Buy Now
The Spiral of Self
Jinnah’s Islamic Vision of Pakistan
It was refreshing to read the research work, Jinnah’s Islamic Vision of Pakistan. As an eyewitness to the Pakistan Movement, that culminated in giving the Muslim nation a homeland, I appreciate the work done by Dr. Anis Ahmad.
Buy Now
Nawah e Kazima نواحِ کاظمہ (قصیدہ بردہ)
قصیدہ بردہ شریف کا منظوم اردو ترجمہ
Buy Now
Mera Mutalia میرا مطالعہ
معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی: انکی پسندیدہ کتابیں اور مصنفین
Buy Now
Waqtan Fawaqtan وقتاََ فوقتاََ
PTV men Mah o Saal پی ٹی وی میں ماہ و سال
پی ٹی وی کےخبر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی کارکن کی شاید یہ پہلی جسارت ہے۔ سرگانہ صاحب نے قلم یوں اٹھایا ہے کہ ایک دستاویزی فلم بنا ڈالی، دلچسپ، تحیر خیز اور حیرت انگیز۔
Roodad Rail ki روداد ریل کی
ریلوے کا آغاز، حائل مشکلات، ارتقائی منازل اوربرصغیر میںاس نظام کے اجراء کے بعد وطنِ عزیز میں اس کے حشر نشر کے بارے میں دلچسپ، مضحکہ خیز، خوفناک اور حیرت انگیز حالات اور واقعات پر مبنی کتاب۔
—————–
ریل کی سیٹی کی آواز، دخانی انجن کا دھواں، انجن کی دھمک اور چھک چھک کی موسیقیت کے ساتھ گذشتہ کئی نسلوں کی زندگی جڑی ہوئی تھی۔ خوشی اور غم کی یاد ہو یا کاروباری و تفریحی سفر کی بات، دھرتی کے سینے سے چمٹی یہ دو آھنی لکیریں محض رستہ نہیں ایک بھر پور معنویت کے ساتھ زندگی اور ترقی کا استعارہ تھیں ۔
معاصر دنیا کے برعکس ہمارے ہاں اب ریل ماضی کا ایسا بوسیدہ نشان بن کر رہ گئی ہے کہ چاہے تو اس پہ ماتم کر لیجئے یا سینے سے لگا کر فخر، مستقبل کا کوئی خوش کن منظر چشم تصور میں نہیں آئے گا۔
خیر۔ آئیے چلتے ہیں کتاب کی طرف۔ قاضی صاحب ریل کے پرانے کارکن ساتھی ہیں ، عمر بھر کا ساتھ رہا۔ اور اس نسل کے فرد ہیں کہ جن کے لیے ملازمت بھی نامیاتی رنگ کا زندہ تعلق ہوا کرتا تھا ۔ آج کے کاروباری اور افادی تعلق کی طرح نہیں کہ جس کی بنیاد صرف اجرت پر رکھی جاتی ہے۔
داستان کی قدیم صنف کا مزا، ریل کے جدید موضوع کے ساتھ صاحبان ذوق کے لئے ایک پرلطف تجربہ ہے۔ معلومات اور واقعات کا ایسا خزینہ اور پھر اہل زبان کے رواں اور شستہ قلم کا بے ساختہ اور رچا ہوا اسلوب کہ جانے کون کون سی حسیات کی تسکین کا سامان۔
ریل کے اس تذکرے میں زوال کا نوحہ بھی ملتا ہےاور شگفتہ واقعات خندہ زیرلب کا سبب بھی بنتے ہیں۔ دلچسپی کا عنصر کسی افسانے یاناول سے کم نہیں اور معلومات کسی نصابی کتاب سے بھی زیادہ، مگر اسلوب کی خوبصورتی قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے اور آخری سطر تک برقرار رہتی ہے۔
A Documentary History of Islamic Education
A Documentary History of Islamic Education in Pakistan (1947-70) Vol: 1
Leafing through the history of Pakistan since its inception in 1947, the demand for replacing the education system inherited from the Britiush with an Islamic system of education has been made by various social, religious and political quarters. In response, the successive governments in Pakistan established various commissions and committees to prepare guidelines for chalking out how Islamic education could be incorporated in the nation’s general education within the broader objectives of a “true Islamic society and the state.”……… A chronological approach adopted in these volumes would facilitate students and researchers to track down the historical evolution of the policy process as well as similarities and differences, if any, in the approaches of successive governments.
Buy Now
Mata e Shaam e Safar متاع شام سفر
Autobiography خودنوشت سوانح
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی
وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت
ضمیر جعفری کو توغالباً ایسے کام یاد آ گئے ہوںگے، جو کرنے کے تھے مگر ابھی تک کر نہ سکے ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی تو کرنے کے لیے نہیں تھامیں پریشان کیوں ہوتا؟ ایسے میں شامِ زندگی صرف ماضی میں ہی جھانکنے کا حوصلہ دلاسکتی ہے۔ ماضی کے لمحات، زندگی کے قیمتی لمحات کی ایسی تصویریں جو سرعت کے ساتھ وقت کے دھندلکوں میں غائب ہوگئی تھیں، یقین نہیں آتااس طرح آ موجود ہوں گی۔یہ ماہ و سال پھسل کر کدھر کو نکل گئے تھے؟ مُٹھی میں بند ریت کے ذرات کی طرح۔ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس، خاموش اور دبے پائوں ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں ایسی جگہ جہاںشعور کی روشنی کا کوئی گزر نہیں۔ماضی میں جانے کے لیے جہاں دل میں بے پناہ خواہشیںمچل رہی ہوتی ہیں، وہاںکتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ ماضی پیارا ہوتا ہے، اپنا ماضی۔ یہ یادوں کی وہ صلیب ہے جو انسان کو کسی حالت میں نہیں چھوڑتی۔اس کے دُکھ، اس کے سُکھ، تکلیف اور آرام،اس کی ہر شے اپنی اور اپنی چیز کسے پیاری نہیں ہوتی۔شاہ ہو یا گدا، غریب ہو یا امیر، سب ماضی کے اسیر۔ماضی ہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت۔ مستقبل تو کسی نے دیکھا نہیں۔اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اس کا ہر لمحہ تیزی سے ماضی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حال ہے کہاں؟ کیا ہم ایک سیکنڈ کو حال کہیں گے؟ سیکنڈ کے دسویں حصے کو یا اس کے کروڑویں حصے کو؟ ہم تو مستقبل کو ماضی بنتے اورحال کو بے حال ہوتے ایک تماشائی کی طرح اس منظرنامے کو تکتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں سوائے ماضی کے اور اچانک کسی وقت ہم سب اسی ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ رہے نام اللہ کا۔
مصنف
Buy Now
Teaching Acceptance
Badbaan بادبان
چکوال کے قلندرمحمدخان نے اُس زندگی کو لکھا ہے جو اُس کے سامنے کی ہے۔ وقار شاہ کا چھوٹا بیٹا اورگدی نشین اصغر شاہ باوا، ملیار خاندان سے متعلق وہ منشی جس میں شاہ جی کی جان تھی، گاؤں کا نائی جو باوا جی کی حجامت بناتا تھا، ناظر، تحصیلدار، ڈی سی اور ان جیسے کئی اور کردار جو دیہی زندگی کاجزو ہوتے ہیں یا دخیل، قلندر محمدخان نے انہیں اپنے سادہ لفظوں میں ایک کہانی کی صورت لکھ دیا ہے۔
Baraf ki Aurat برف کی عورت
شاہین کاظمی نے ان افسانوں میں اپنے تخلیقی وفور اور فنی مہارت سے نسوانی محسوسات اور مسائل کو اس طرح اجالا ہے کہ صنفی امتیاز کاشائبہ تک نہیں ہوتا اورمسائل خالص انسانی سطح پہ ظہور کرتے ہوئے قاری کے ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں۔ مصنفہ نے صنفی تقسیم سے ماورا ہو کر نسوانی جذبات کو اتنی خوبصورتی سے زبان دی ہےکہ قاری دوران مطالعہ اپنی عورت یا مرد کی حیثیت بھو ل کرکہانی کے ساتھ بہنے لگتا ہے
Buy Now
Dastan e Zeest داستان زیست
چکوال کے محمد خان قلندر کی اس کتاب میں دو چار نہیں تو ایک دو سخت مقام تو آنے کو تیار تھے مگر ہمارے یار نے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لئے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔
قلندرانہ باتیں جو وہ کر گئے ان کی بابت کہنے کا ہمارا مقام ہے نہ حق، وہ جو کچھ کہہ گئے اس بابت وہ سینے پر ہاتھ مار کے کہہ سکتے ہیں، “ مہ قلندرانہ گفتم !
کتاب کی نثر رواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظر بدلتے جاتے ہیں دلچسپی ہے کہ کم نہی ہوتی۔بیدل نے کہا تھا، “تو حنا بستی و من مفئی رنگیں بستم”۔تو نے مہندی لگائی تو میں رنگوں بھری باتیں لکھنے لگ گیا۔
ان کی نثر پنجاب کے اردو لکھنے والے کی زبان ہے سادہ بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آ گیا تو وہ پنجابی سے آیا۔ وہ لفظوں کی توتا مینا نہیں بناتے، مقصد کی بات کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں، رُک کر تفصیل دینے کی بجائے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں، مبالغہ بھی نہیں، تفاصیل بھی نہیں، اردو میں پنجابی اہل قلم کا ایسا ہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاریگری ہے نہ تکلف نہ صنائع بدائع، سیدھی دوٹوک بات اور صاف بیان۔
ہمارے ہاں ادب میں ایک صنف ہوا کرتی تھی جسے ڈائری لکھنا یا روزنامچہ کہا جاتا تھا۔ انگریزی ادب میں بھی اینے فرانک کی ڈائری نے پچاس کی دہائی کے بعد سے دنیا بھر میں اپنی جگہ بنائی ہمارے ہاں ڈائری لکھنے کا شغل انہی زمانوں تک چلا۔ اس کتاب کو میں روزنامچہ ہی کی صورت دیکھ رہا ہوں اگرچہ اس میں کسی دن کسی تاریخ کا اندراج نہی ایک روزنامچہ کی طرح اشاروں سے اختصار کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے روز و شب کا نچوڑ یہاں جمع کر دیا۔
Bank Interest بنک انٹرسٹ: منافع یا ربا
سود کے موضوع پر لکھنے والوں نے ربا کی جتنی بھی تعریفیں کیں ہیں ان کا تنقیدی جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کا اطلاق کیونکر بینک انٹرسٹ پر درست نہیں ہو سکتا ۔ جتنے اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی مفاسد بتائے جاتے رہے ہیں ان کا تعلق قرآن مجید کے بیان کردہ ’’ربا‘‘ سے تو صاف نظر آ تا ہے مگر بینک انٹرسٹ پر نہیں ۔ اسی طرح لغت اور قرآن مجید کے سیاق و سباق سے ’’ربا‘‘ کی حقیقت وہ نہیں معلوم ہوتی جو بینک انٹرسٹ سے ظاہر ہوتی ہے ۔
اسلامی بینکوں نے بھی اسی لیے مجبورًا وہی طریقے اپنا رکھے ہیں جو روایتی بینکوں کے ہاں ملتے ہیں ۔
Buy Now
Kamyabi ka Mughalta کامیابی کا مغالطہ
اپنی افتادِ طبع، تعلیم اور حالات کے باعث میں ایک عرصے سے مروجہ Success Literature کے متعلق مشکوک چلا آرہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کے متعلق میرے شکوک اور الجھنوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ انہی الجھنوں اور شکوک کے باعث میں نے پہلے پہل اس لٹریچر کے بارے میں نجی گفتگو میں غیر سنجیدہ انداز میں استہزائیہ تبصرے کرنے شروع کیے جن سے عموماً لوگوں چڑتے تھے۔ محض لوگوں کی چڑ سے لطف اندوز ہونے کیلئے میں نے سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی تبصرے شروع کر دیے تو مجھے احساس ہوا کہ اس لٹریچر کے مختلف پہلووں پر سنجیدہ اور مربوط تنقید بھی کی جاسکتی ہے ی،وں یہ کتاب وجود میں آئی۔ یہ کاوش کتنی وقیع ہے اسکا فیصلہ تو قارئین اور اہل علم کریں گے لیکن میرے علم کی حد تک یہ اردو زبان میں مروجہ Success Literature پر مربوط اور باقاعدہ تنقید کی پہلی کوشش ہے جو بہت سے اصحاب کیلئے باعثِ دلچسپی ہوگی۔
Buy Now
Hurriya – A Novel
Hurriya is a typical Eastern lady; an embodiment of physical beauty with a strong character. She is empathetic. She sees her own reflection in every suffering woman of her society. But her father is the ‘real’ man. His uniqueness and point of demarcation is that he wants his daughters to stand shoulder to shoulder with men; with all the privileges: education, respect, and social status.
The story reaches its zenith when the ‘real’ man of attitude and character becomes miserable as he witnesses his dreams washed away by the tides of conformity.
Hidayat ki Talash ہدایت کی تلاش
انسانی حواس ہمیشہ معروضی انداز میں کام نہیں کرتے اس لیے درست نتیجہ فکر تک پہنچنا آسان نہیں رہتا۔ حواس دراصل خود ہی حقیقت کی تلاش میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تمام تگ و تاز اور دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنے کے باوجو د منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔
اس کتاب میں انسانی علم کے اسی المناک پہلو کی داستان کا ذکر ہے۔
کتاب میں انسانی علم کے برعکس ایک دوسری قسم کے علم کا ذکر ہے جو انسانی حواس سے ماورا ہے۔ یہ علم ہمیں وحی ربانی سے متعارف کرواتا ہے۔ اس علم کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وحی پر مبنی علم میں انسانی علوم کی آمیزش اسے کیا بنادیتی ہے۔ تحقیق و تجسّس کی اس جستجو کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گذشتہ انبیائے کرام ؑ پر نازل ہونے والی کتابوں کو خود ان کے ماننے والوں نے کس قدر مسخ کرڈالا۔ ان کتابوں میں ہونے والی ترامیم اور اضافے کہیں تو شعوری کوشش اور مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر وقوع پذیر ہوئے اور کہیں ہر زمانے کے خصوصی حالات نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
Buy Now
Daanish se Mukalma دانش سے مکالمہ
Soch kay Pewand سوچ کے پیوند
یہ ایک عام آدمی کی تحریریں ہیں۔ روز مرہ غیر رسمی گفتگو کے انداز میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہے۔ مشاہدات، تجربات اور واقعات کا بیان ہے جسے ادب کی زبان میں مجموعی طور پر تاثرات کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ تحریریں ایک مدت سے میرے کانوں میں سرگوشیاں کرتی رہی ہیں۔
Buy Now
Predicaments of Empowerment
Afghan Taliban: War of Ideology
Afghan Taliban: War of Ideology
Buy Now
Prisoner of Conscience: Badshah Khan
Muslim Women Writers of the Subcontinent
Muslim Women Writers of the Subcontinent (1870-1950)
Buy Now
Muqamaat مقامات
مقامات کا تصور تصوف میں بہت اہم ہے۔ میں نے پنتیس سال اس پر غوروفکر کیا جس کا نچوڑ یہ کتاب ہے۔ تصوف کی کتب میں مقامات پر مختصر بحث ملتی ہے اور کہیں افراط و تفریط بھی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ
(i)۔ قرآن اور صحیح احادیث سے ہر مقام کی بنیاد تلاش کی جائے۔
(ii)۔ ہر مقام کے مختلف علمی پہلوئوں پر گفتگو کی جائے۔
(iii)۔ اس ضمن میں صوفیائے کرامؒ کے اقوال بھی درج کئے جائیں۔
(iv)۔ کچھ واقعات بھی درج کئے جائیں تاکہ ہم ان عملی مثالوں سے سبق حاصل کر سکیں اور
(v)۔ تمام بحث میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کو پیش نظر رکھا جائے۔
یہ کتاب مقدمہ اور گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ (۱)۔ مقام توبہ (۲)۔ مقام تقویٰ (۳)۔ مقام زہد(۴)۔ مقام صبر (۵)۔ مقام رضا (۶)۔ مقام توکل (۷)۔ مقام صدق (۸)۔ مقام شکر (۹)۔ مقام تواضع (۱۰)۔ مقام سخاوت اور (۱۱)۔ مقام اخلاص
Buy Now
Daleel ka Daur دلیل کا دور
’دلیل کا دور ‘ آپ کے ہاتھوں میںہے، یہ وہ دلیل کا دور (Age or Reason) نہیں جو ماڈرن ازم کی خاص اصطلاح ہے بلکہ وہ دلیل کا دور ہے جو قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔یہ چند ایک مماثلتوں کے باوجود چیزے دیگر است۔ دلائل کا یہ اسلوب صرف عقلوں کو ہی نہیں ہمارے جذبات و احساسات کی گہرائیوں تک جا کر چھُوتا، جھنجھوڑتا اور ابھارتا ہے۔ اگر نصیب اچھے ہوں تو یہ دلائل ہمیں زندگی کا وہ پہلو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اقبال کے الفاظ میںیہ ہمیں جنتِ پنہاں اپنے زورِ بازو۔۔ زیادہ درست الفاظ میں اپنے خونِ جگر کے چراغ جلا کر حاصل کرنے کا راستہ بتاتے اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ یہ دلائل اتنے واضح اور سہل ہیں کہ ذرا سے زاویئہ نگا ہ کی تبدیلی سے اس کا راستہ واضح، حصول ممکن، اور زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
کوئی نقطہ نظر اگر کلاسیکل نقطہ نظرسے زیادہ ہمارے کردار سازی میں معاون و مددگار ثابت ہو سکےتواس کو اختیار کرنے میں خیر کا پہلو نمایاں ہے۔ کم از کم اس پر غور و فکر تو لازما ہونا چاہیے۔ یہی خواہش ’دلیل کا دور‘ کی وجہ تصنیف بنی۔
Buy Now
Muslims Today
Muslims Today: Changes within, Challenges without
Buy Now
Reflections
Poems of a Pakistani Teen Poetess
Buy Now
India vs China: A review on the Aksai Chin
Bank Interest and Islam
Contrary to these scholars’ reasoning, this book takes a different position basing on the context of Qur’an and reached the conclusion that riba is not mere the excess on any loan, rather it is excess on the loans extended to the destitute and needy persons. Bank’s interest is completely different from the Qur’anic riba which is prohibited. It represents a complete paradigm shift from the orthodox and popular view of bank interest. It establishes why bank interest cannot be categorized under riba, which is fervently outlawed and condemned by the Holy Qur’an.
Buy Now
Quaid kay Naam قائد کے نام
بچوں کے قائداعظم محمد علی جناح کے نام خطوط (۴۸۔۱۹۳۹)
یہ کتاب ماضی کی ایسی بازیافت ہے جو قاری کے ذہن سے زیادہ دل کو اپیل کرتی ہے، معصومانہ واردات قلبی کا ایسا بیان کہ پڑھنے والے پہ گویا بیت جاتا ہے،ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ مسلم برصغیر کی خاکستر کی انہی چنگاریوں سے وہ شعلہ فروزاں ہوا جو آج پوری امت کوروشنی دکھا رہا ہے۔ ہماری آج کی نسل بھی اگر انہی” خطوط” پہ چل سکے تو واللہ بلند اقبالی مقدر ٹھہرے گی۔
Hilal aur Fakhta ہلال اور فاختہ
Madrassah Mirage
Madrassah Mirage:
A Contemporary History of Islamic Schools in Pakistan
Buy Now
































